کیا ہم سیلاب کو روک نہیں سکتے؟

دنیا کے بیشتر ممالک سیلاب اور دوسری قدرتی آفات کا سامنا کر چکے ہیں۔ انسان ترقی کی بہت ساری منازل طے کر لینے کے باوجود بھی قدرتی آفات اور فطرت کے تغیر کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکے۔

لیکن اس دنیا میں جو لوگ محنت کر رہے ہیں، جن ممالک کی قیادت عوام کے ہاتھوں میں ہے اور وہ مخلص اور ایماندار قیادت کا انتخاب کرتے ہیں وہاں کسی بھی قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ اور وہاں جو بھی سانحہ ایک بار گزر جائے، دوسری بار ایسے بندوبست کر لیے جاتے ہیں کہ وہ سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو سکے۔ زلزلے سمیت کئی ایسی قدرتی آفات جو اچانک آتی ہیں، ان کا مقابلہ مشکل ہو سکتا ہے۔ جو سیلاب آتے ہیں ان کی روک تھام ناممکن نہیں ہے۔ دنیا میں ہونے والی موسمی تبدیلیوں پر سب کی نظر ہے اور اقوام عالم اس چیلنج پر تیزی سے کام بھی کر رہی ہیں۔ مگر پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں اگر ہر سال نہیں تو دو چار سال میں ایک بار سیلاب ضرور آتا ہے اور یہ زیادہ تر اسی موسم برسات میں آتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی روک تھام نہیں کر سکتے؟

جب ہم چھوٹے تھے تو یہ باتیں سنتے تھے کہ پاکستان کے بعض لوگوں کا یہ کاروبار ہے کہ وہ موسم برسات سے پہلے دریاؤں کے قریب اپنی کچی بستیاں قائم کر لیتے ہیں یا خیمہ زن ہو جاتے ہیں اور پھر جیسے ہی دریاؤں میں طغیانی آتی ہے، وہ اپنا سب کچھ پانی کے رحم و کرم پر چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے نقصان کی فہرست حکومت وقت تک پہنچا کر امداد لے لیتے ہیں۔ اب جب ہم بھی اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزار چکے تو یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ کاروبار اب ہمارے حکمرانوں نے سنبھال لیا ہے کہ وہ ہر سال سیلاب کے منتظر ہوتے ہیں اور جب سیلاب اپنی تباہ کاریوں سے گزر جاتا ہے تو پھر ہمارے حکمران اقوام عالم بالخصوص دوست ممالک سے امداد کی اپیل کرتے ہیں اور اسی امداد سے اپنی تجوریاں بھی بھر لیتے ہیں۔

یہ سنی سنائی یا محسوس کی گئی باتیں ہیں شاید ایسا نہیں ہوتا ہوگا لیکن یہ بات تو اظہر من الشمس  ہے کہ سیلاب کی روک تھام کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی، ہمارے ہاں سیلاب کی وجہ بننے والے ندی نالے پہاڑوں اور تنگ گھاٹیوں سے گزرتے ہوئے آبادی علاقوں میں داخل ہوتے ہیں اور پھر کسی دریا میں جا گرتے ہیں تو اگر ان پہاڑوں اور گھاٹیوں کے بیچ چھوٹے ڈیمز بنا دیے جائیں یا چھوٹے چھوٹے بند بنا کر پانی کی رفتار کو کم کر دیا جائے تو ہم سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تیزی سے کم ہوتے پانی کو بھی بچا سکتے ہیں۔ ان منصوبہ جات پر اقوام متحدہ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہم کام مکمل منصوبہ بندی اور ایمانداری سے کریں۔ کیونکہ پاکستان بالخصوص شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر میں اقوام متحدہ نے پچھلے 50 برس میں متعدد منصوبوں پر کام کروایا ہے جن میں زیادہ تر کرپشن کی نظر ہو گئے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ نے یہ کام روک دیا۔ جو تجویز راقم آج دے رہا ہے یہ کام اقوام متحدہ کی مدد سے 1975 میں شروع کیا گیا تھا۔ آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں چک ڈیم کے نام سے چھوٹے چھوٹے بند بنا کر پانی کی رفتار اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کا بندوبست کیا گیا تھا مگر پھر ہماری حکومتی اور محکمانہ بے اعتدالیوں کے سبب یہ منصوبہ ختم ہو گیا۔ پھر 80 کی دہائی میں ایک بار پھر سے اقوام متحدہ کا ایک پروگرام دیا گیا جس سے بڑے برساتی نالوں کے میدانی علاقوں میں کریٹ بندی کر کے پانی کے بہاؤ اور زمین کے کٹاؤ کو کم کرنے کی کوشش تھی، یہ کام محکمہ جنگلات کے ذریعے سے ہوا تھا، جس میں ملازمین کو ہنڈا 125 بھی دیے گئے تھے۔ اس منصوبے میں بھی انتہا کی کرپشن ہوئی اور یہ ایک نالے سے آگے نہ بڑھ سکا۔

اسی طرح آزاد کشمیر میں پینے کے صاف پانی کا ایک بہت بڑا منصوبہ اقوام متحدہ نے دیا جو 90 کی دہائی کے اوائل میں مختلف علاقوں میں ٹیوب ویل لگا کر واٹر سپلائی کا کروڑوں روپے کا منصوبہ تھا جسے مکمل طور پر برباد کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمرانوں کے پاس کوئی منصوبہ بندی ہے؟ کیا ہمارے حکمران بیرونی دنیا سے ملی امداد کی قدر کرتے ہیں؟ کیا ہمارے حکمران اقوام متحدہ یا دوست ممالک میں سچ بولتے ہیں اور وہ لوگ ہمارے حکمرانوں کی بات پر اعتبار کرتے ہیں؟

بالکل بھی نہیں، راقم کے علم میں ہے کہ بیرون ممالک کی حکومتیں اور ادارے پاکستانی حکمرانوں اور اداروں پر بالکل بھی اعتبار نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے بارہا دھوکے کھانے اور بار بار کے جھوٹ سننے کے بعد یہ سمجھا ہے کہ پاکستان میں کوئی کام درست ہوتا ہے، نہ یہ لوگ سچ بولتے ہیں۔ کیا ہمارے حکمرانوں کو علم نہیں کہ سیلاب کی روک تھام کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ تو آج کا ہر باشعور فرد جانتا ہے، دنیا کے کئی ممالک نے یہ کر کے دکھایا ہے اور پاکستان کو تکنیکی اور مالی مدد دینے والے دوست ممالک اور بین الاقوامی ادارے بھی موجود ہیں۔ پاکستان میں دو چار دس نہیں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو سیلاب کی روک تھام کا کام کر سکتے ہیں۔ تارکین وطن میں ایسے سینکڑوں پاکستانی ہیں جو نہ صرف آپ کو منصوبہ بندی کر کے دے سکتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری بھی کر سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں ایسے جدید آلات آ چکے ہیں جو سیلاب کی پیشگی اطلاع دے سکتے ہیں لیکن ہم ہر سال کسی پیشگی منصوبہ بندی کی بجائے سیلاب کا شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان سے سیلاب کی تباہ کاریوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور ادارے اس کام کے لیے سنجیدہ ہوں اور ان کو انسانی جانوں کی قدر ہو۔

ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق اس موسم برسات میں 645 قیمتی جانیں سیلاب کی نظر ہو چکی ہیں۔ اگر کسی مہذب ملک میں ایسا ہوا ہوتا تو وہ ملک سوگ میں ہوتا اور آئندہ ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ دوبارہ سیلاب سے کوئی جانی نقصان نہ ہونے دیتے۔