غزہ ہو یا یوکرین، ٹرمپ ہر جارح کے ساتھ ہیں

یوکرین جنگ بند کرانے کے ڈھکوسلے پر  غزہ میں اسرائیلی جارحیت کوخبروں  میں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں  یوکرین کے صدر ذیلسنکی اور  7 یورپی لیڈروں کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سےطویل ملاقات کے بعد یوکرین  میں جنگ بندی  کے آثار  دکھائی نہیں دیے۔  بظاہر یہی لگتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس وقت غزہ  اور یوکرین میں جارحیت کے مرتکب ہونے والے اسرائیل اور روس کا دفاع کرنے میں سرگرم ہیں۔

اس دوران  واشنگٹن میں یورپی لیڈر صدر ٹرمپ کو یوکرین کی پوزیشن ماننے پر آمادہ کرنے گئے تھے، مشرق وسطیٰ سے خبر آئی ہے کہ حماس نے قطر و مصر کی طرف سے جنگ بندی کی نئی تجویز کسی رد و بدل کے بغیرمان لی ہے۔  تجویز کے مطابق 60 روزہ عارضی جنگ بندی کے عوض حماس  نصف اسرائیلی یرغمالی رہا کرے گی۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نے  واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے لیے تمام یرغمالیوں کی رہائی ضروری ہے۔ اگر حماس نے یہ اسرائیلی پوزیشن تسلیم نہ کی تو غزہ میں شاید عارضی جنگ بندی کے لیے بھی مزید کافی عرصہ انتظار کرنا پڑے۔

ایک طرف غزہ میں عارضی جنگ بندی کو ضروری قرار دے کر اہم سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے  تو دوسری طرف یوکرین میں جنگ بندی کا  معاملہ مسائل کے مستقل حل سے جوڑا جارہا ہے۔  یہ وہ پوزیشن ہے جو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے الاسکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد اختیار کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک  یوکرین جنگ بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک ان مسائل کو حل نہ کیا جائے جن کی وجہ سے یہ تنازعہ شروع ہؤا تھا۔ روس کے خیال میں یوکرین کا بنیادی جرم تو یہ ہے کہ  وہاں 2014 میں   روس نواز صدر  وکٹر یانوکووچ کی حکومت کا تختہ الٹا گیا ۔ اسی سال روس نے یوکرینی علاقے کریمیا پر قبضہ کرلیا۔ اب امن مذاکرات میں روس کی طرف سے  اس علاقے پر روس کا تسلط جائز ماننے کی شرط رکھی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ بظاہر  یوکرین اور روس کے درمیان  ثالثی کے مشن پر ہیں اوران کا دعویٰ ہے کہ وہ  طرفین کو آپس میں ملاکر کسی معاہدے کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم درحقیقت وہ روس کی اس پوزیشن  کے دو نکات پر متفق ہیں ۔ ایک تو یہ کہ عارضی جنگ بندی کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ یوکرین اور روس بنیادی مسائل حل کریں۔ دوسرے یہ کہ یوکرین امن کے لیے اپنے ان علاقوں سے دست بردار  ہوجائے جن پر روس نے 2022 میں شروع ہونے والے حملہ کے بعد قبضہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے  جمعہ کے روز الاسکا میں صدر پوتن سے ملاقات کے بعد فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ روس ایک بڑی طاقت ہے اور یوکرین بڑی طاقت نہیں ہے۔  روس جنگ جیت رہا ہے لیکن یوکرین جنگ ہار رہا ہے۔ اس لیے یوکرین کو فوری جنگ بندی کے لیے شرائط مان لینی چاہئیں تاکہ  وہاں امن قائم ہو اور انسانی زندگیاں بچائی جاسکیں۔ البتہ اس حد تک صدر ٹرمپ کی پوزیشن میں تبدیلی ضرور آئی ہے کہ وہ  یوکرین کے صدر ذیلسنکی سے خوشگوار ماحول میں ملے ہیں اور اس بات پر بھی راضی ہوئے ہیں کہ جنگ بندی کی صورت میں امریکہ  یوکرین کو سکیورٹی کی ضمانت دینے میں شامل ہوگا۔

یوکرین کی سکیورٹی  میں ٹرمپ کی رضامندی ہی ایک ایسا نکتہ ہے جسے یوکرین اور ان کے یورپی اتحادی  فی الوقت اپنی  بہت بڑی کامیابی مان رہے ہیں حالانکہ اس بارے میں نہ امریکی پوزیشن واضح ہے اور نہ ہی روس نے کبھی یہ تسلیم کیا ہے کہ یوکرین کے کسی علاقے میں امن یا سکیورٹی کے نام پر امریکی یا یورپی فوج متعین کی جاسکتی ہے۔ چند ماہ پہلے برطانیہ اور فرانس نے بھی ایسی تجویز پیش کی تھی جسے سختی سے مسترد کردیا گیا تھا۔  اس لیے یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ الاسکا میں ٹرمپ پوتن ملاقات کے بعد کون سے ایسے نئے پہلو نمایاں ہوئے تھے جن پر بات آگے بڑھانے اور یوکرین جنگ بند کرنے کا مقصد حاصل کرنے کے لیے یوکرین صدر کے علاوہ تمام اہم یورپی لیڈر واشنگٹن پہنچے تھے۔

یورپی لیڈروں کی اس کاوش کو دو پہلوؤں سے دیکھا  جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ سب  اکٹھے صدر ٹرمپ سے ملیں اور یوکرین جنگ میں امریکہ کو اپنا حلیف ہونے کا تاثر دیں تاکہ روس اور باقی ماندہ دنیا الاسکا میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے بعد یہ نہ سمجھے کہ نیٹو کا سرپرست اور یورپ کا سب سے بڑا دفاعی حلیف  امریکہ ، اس اہم معاملہ میں روس کا ہمنوا بن چکا ہے۔ حالانکہ صدر ٹرمپ نے  روس کے بارے  میں اپنا نرم گوشہ چھپانے کی کوئی  کوشش نہیں کی بلکہ واضح اور دوٹوک انداز میں کہتے ہیں کہ پوتن ایک عظیم لیڈر ہیں جن کے ساتھ مل کر چلنا چاہئے جبکہ یورپی ممالک انہیں یوکرین میں جنگی جرائم کا قصور وار سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ نے پوتن کے ساتھ اپنی  شیفتگی کا ایک بہت واضح ثبوت یورپی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کے دوران بھی دیا۔ جب آٹھ یورپی لیڈر وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے لئے موجود تھے تو وہ یہ کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے کہ انہیں صدر پوتن سے فون پر بات کرنی ہے۔ وہ چالیس منٹ بعد  اجلاس میں واپس آئے۔ اس دوران فرانس، برطانیہ، جرمنی،  اٹلی، نیٹو، یورپین یونین ، فن لینڈ اور یوکرین کے سربراہان حکومت ان کا انتظار کرتے رہے۔

 اس کوشش کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ یورپی لیڈر  امریکہ پر واضح کرنا چاہتے تھے کہ روس کے ساتھ جنگ  میں یوکرین  تنہا  نہیں ہے بلکہ یورپی ممالک  ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔  ایسے میں اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ اس سال فروری میں یوکرینی صدر ذیلسنکی  جب ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس گئے تھے تو صدر ٹرمپ کے علاوہ  نائب صدر جے ڈی وینس نے ان کی سخت توہین کی تھی اور انہیں ناشکرا قرار دیا تھا۔ اس سفارتی ناکامی کے بعد یوکرینی لیڈر شاید  اپنے حامیوں کو ساتھ لے کر وائٹ ہاؤس جانا چاہتے تھے۔ تاہم اس بار ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ماضی قریب جیسا ماحول دیکھنے میں نہیں آیا ۔ اس  کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یوکرین امریکہ کے ساتھ معدنیات  کے 500 ارب ڈالر کے معاہدے پر متفق ہوچکا ہے۔ دوئم نیٹو میں شامل ممالک دفاعی اخراجات  پر ٹرمپ  کی خواہش کے مطابق قومی پیداوار  کا پانچ فیصد صرف کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ سوئم یورپی ممالک ایک ایسے منصوبے پر آمادہ ہوگئے ہیں کہ امریکہ یوکرین کو 90 ارب ڈالر کے ہتھیار دے گا لیکن اس کی قیمت یورپی ممالک ادا کریں گے۔ چہارم حال ہی میں یورپی یونین امریکہ کے ساتھ ایک ایسے تجارتی معاہدے پر متفق ہوئی ہے جس کے تحت امریکہ یورپی مصنوعات پر 15 فیصد ڈیوٹی وصول کرے گا لیکن یورپ میں امریکی مصنوعات پرکوئی محصول نہیں ہوگا۔

تاہم وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات  سے واضح ہوتا ہے کہ یورپ اس  وقت نہ صرف کسی قد آور لیڈر سے محروم ہے بلکہ اس کے پاس مستقبل کے بارے میں کوئی ویژن بھی نہیں ہے۔  یورپ نیٹو  مصارف میں اپنا حصہ دوگنا سے بھی زیادہ کررہا ہے لیکن اس کے باوجود سکیورٹی کے نام پر امریکہ  کے زیر نگیں ہے۔ یوکرین کے سوال پر بھی یورپ  طاقت کے زور پر کسی ملک  کا علاقہ ہتھیانے کو  بنیادی اصول  اور یورپ کی سلامتی کے خلاف سمجھتا ہے لیکن ٹرمپ کی اس  تجویز کی کھل کر مخالفت کرنے کا حوصلہ نہیں کیا جاتا کہ  مقبوضہ علاقوں پر روس کا قبضہ مان لیا جائے۔  وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات اس لحاظ سے بھی مضحکہ خیز  اور ایک کم تر سطح کا منظر تھا جس میں تمام یورپی لیڈروں نے   ٹرمپ کی تعریفیں کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کی۔ ان کے جواب میں ٹرمپ نے بھی ہر یورپی لیڈر کی نام بنام توصیف کی۔ گویا    اجلاس یہ بتانے کے لیے منعقد ہؤا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے کتنے بڑے  مداح ہیں لیکن اصل مسئلہ حل کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔

صدر ٹرمپ  اب روس اور یوکرین کے صدور کی ملاقات کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔ یوکرینی صدر اس پر بہت خوش ہیں حالانکہ یہ ملاقات ہو  بھی جائے تو وہ صدر پوتن سے کوئی رعایت نہیں لے سکیں گے۔ اس کے بعد  امریکہ، روس اور یوکرین کے لیڈروں کی ملاقات ہوگی۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ان ملاقاتوں میں یوکرین کو اپنے علاقوں سے دست بردار ہونے پر آمادہ کیا جائے۔ یورپی  لیڈر بھی اس امریکی مؤقف کو ماننے پر تیار دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ یہ اعلان کسی ایسے اعلامیہ کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں جسے یورپی عوام کے  سامنے یوکرین اور یورپ کی فتح کے طور پر پیش کیا جاسکے۔   

ٹرمپ کی صدارت میں یوکرین جنگ بند کرانے کا کوئی بھی معاہدہ درحقیقت روسی شرائط پر ہی ہوگا۔ البتہ  دیکھنا ہوگا کہ اسے  سیاسی  طور سے کیسے قابل فروخت بنایا جاتا ہے۔