صدرٹرمپ کی خوشامد پسندی کے مضمرات؟

بارہا ایسے لوگوں سے ملنے یاد یکھنے کا اتفاق ہوا ہو گا، جو بظاہر مرنجاں مرنج، دینی حلیے کے ساتھ جبہ و دستار میں ملبوس ہوں گے، لیکن جب ان کی اصلیت سامنے آئے گی تو درندگی ملاحظہ کرتے ہوئے آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔

ہماری ملکی و عالمی سیاست میں بھی اس نوع کے نمونے ہر دور میں موجود ہوتے ہیں۔ بس پہچاننے والی نگاہ ہونی چاہیے۔ جرمن قوم نے کیا کبھی سوچا ہوگا کہ یہ عوامی حمایت میں لچھے دار تقاریر کرنے والا بظاہر سیاستدان نما اندر سے کتنا بڑا ڈکٹیٹریاخونخوار ہے۔ امریکی جمہوریت بلاشبہ صدیوں سے انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہے جس کی تاریخ دنیا میں غلامی کے خلاف، انسانی حقوق اور آزادیوں کیلیے جدوجہد کی ایک داستان ہے۔ آج دنیا بھر میں کمزور اقوام کی سلامتی و ساورنٹی کے لیے سب سے بڑی ڈھارس ہے۔ خامیاں یا کوتاہیاں کہاں نہیں ہوتیں، آئیڈیل ازم تو ایک تصور ہے جس کا خواب ہمیشہ دکھایا جاتا رہاہے۔ اور دکھایا جاتا رہے گا۔ اس سب کے باوجود امریکی جمہوریت بھی چرب زبان، موقع پرست اور ڈکٹیٹر ذہنیت لوگوں کے بہکاوے میں آسکتی ہے جو بظاہر گریٹر امریکا کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اسی امریکی جمہوری سسٹم کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ یوں امریکی عظمت کی تابناکی پر سیاہی ملتے ہوئے وائٹ ہاؤس سے رخصت ہو

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دماغ میں اس وقت ایک ہی دھن سوار ہے کہ جیسے تیسے امن کا عالمی ایوارڈ نوبل پرائز اپنے نام کروالیں۔ انہیں سب سے زیادہ جلن یا حسد صدر باراک حسین اوباما سے ہے۔ اپنی دوسری ٹرم میں وائٹ ہاؤس داخل ہوتے ہی انہوں نے اپنا یہ مشن اپنالیا کہ چاہے امریکی ڈیموکریسی اور امریکی مفادات جائیں بھاڑ میں مجھے اپنے سرپرسرخاب کا یہ پر سجا کر ہی چھوڑنا ہے۔ پاکستان اور اسرائیل دو ایسے خوش قسمت ممالک ہیں جن کی قیادتوں نے بروقت دانشمندانہ فیصلے کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی نوبل پرائز کے لیے باضابطہ نامزدگی کی، یوں ان کا دل جیت لیا۔ جس کے بعد انہیں پاکستان اور اسرائیل پر حملہ آور ہونے والے زہر لگنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد آذربائیجان یا آرمینیا کی قیادتیں ہوں یا دیگر متحارب ممالک سبھی اپنے کام نکالنے کے لیے پریذیڈنٹ ٹرمپ کو نوبل پرائز کا حقدار، عالمی امن و سلامتی کا سب سے بڑا علمبردار قرار دینے کے قصیدے پڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔

حالت یہ ہے کہ روسی صدر پیوٹن جیسے سفاک شخص نے بھی ٹرمپ کی اس کمزوری کو بھانپتے ہوئے الاسکا میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کی امن پسندی کا خوب راگ الاپا اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر 2022 میں ٹرمپ امریکی صدر ہوتے تو یوکرین پر روسی حملے کی نوبت ہی نہیں آنی تھی۔ اب انٹرنیشنل ایشوز سے دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی ذہین انسان اتنی بڑی چھوڑی گئی درفتنی پر سرپکڑ کر بیٹھ جائے گا۔ بلاشبہ کوئی بھی خود پسند شخص ہمیشہ اپنی تعریف کا بھوکا خوشامد پسند ہوتاہے۔ تنقید تو اس کے لیے ایسی گراں ہوتی ہے جیسے کسی نے اس کے سر پر پتھر مار دیا ہو۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی جب پچھلی مرتبہ وائٹ ہاؤس پہنچے تو انہیں امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ کی ان ”اعلیٰ خصوصیات“ یا اصلیت کا احساس و ادراک نہ تھا جن کے کارن وہ خود کو اور انہیں جمہوری صدور سمجھتے ہوئے آزاد روی سے کچھ حقائق بیان کرنے لگے، پھر کیا تھا۔ جو ان کے ساتھ ہوئی، وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے روتے ہوئے  ’بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘۔

اب کی بار وہ سوچ سمجھ کر پوری تیاری کے ساتھ واشنگٹن آئے۔ سب سے پہلے پریذیڈنٹ ٹرمپ کی امن پسندی کا قصیدہ پڑھا اور میڈیا کی جانب منہ کرتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ رشیا یوکرین جنگ رکوانے کے لیے پر زور جدوجہد کررہے ہیں۔ اپنے ساتھ سیون اہم ترین یورپی ممالک کے قائدین کو بھی وائٹ ہاؤس لے کر گئے۔ کہ مبادا کوئی بات امریکی شہنشاہِ معظم کی طبع نازک کو گراں گزرے تو یورپی قیادت مل کر معاملے کو سنبھال لے ۔ ان سب نے بھی باری باری امریکی صدر ٹرمپ کی مداح سرائی کرتے ہوئے بڑے ہی محتاط اسلوب میں اختلافی پوائنٹس اٹھائے جیسے کہ ٹرمپ رشین پریذیڈنٹ ولادیمیرپیوٹن کی وکالت کرتے ہوئے جب یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں سب سے پہلے امن کے ایک متفقہ منصوبہ پر اتفاق رائے کرلینا چاہیے اس کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوسکے گا۔ جس پر جرمن چانسلر  نے پوری تمیز و تہذیب کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی خدمت میں یہ گزارش کی کہ جناب صدر ایسا ممکن نہیں ہوسکے گا۔ پہلے جنگ بندی ہو دیگر تمام معاملات اس کے بعد ہی طے کیے جاسکتے ہیں۔

خود پسند لیڈران کی بھی کیا الٹی کھوپڑی ہوتی ہے۔ دوسرے کی قدرافزائی کا ان کے پاس پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ جو جتنی چاپلوسی کرے وہ اتنا اچھا ہے۔ جو تلخ سچائی بیان کرے وہ برا ہے۔ انڈین پرائم منسٹر نریندرامودی جب تک”اب کی بار، ٹرمپ سرکار“ کے نعرے لگواتے رہے تب تک ان کے سب سے قریبی متر تھے۔ جب انہوں نے پاک بھارت فائر بندی کا کریڈٹ ٹرمپ کو دینے سے انکار کیا، اس دن سے وہ ایسے رائندۂ درگاہ ہوئے کہ پریذیڈنٹ ٹرمپ ان کی تذلیل کا کوئی موقع جانے نہیں دے رہے۔ الٹی ٹیرف کی صورت میں ان پر ایسی معاشی بندشیں عائد کرتے جارہے ہیں، حقائق کی کسوٹی پر جن کا قطعی کوئی جواز نہیں۔ اگر وہ پیوٹن سے سستا آئل خرید رہے ہیں تو کیا خود امریکا کئی معدنیات اور دھاتیں اب تک انہی سے خریدتا نہیں پایا گیا دیگر کئی ممالک کی مثالیں بھی موجود ہیں۔

دنیا میں کسے معلوم نہیں کہ ولادیمیرپیوٹن اور بنجمن نیتن یاہو کتنے بے گناہ انسانوں کے قاتل ہیں۔ معصوم بچوں کے خون بھی ان دونوں کی گردنوں پر ہیں۔ پیوٹن کی افواج تو یوکرین کے بیس ہزار بچوں کو اٹھا کر لے گئی ہیں جن کے والدین اور خاندان والے بلبلا رہے ہیں۔ خود ٹرمپ کی بیگم میلانیا نے اس سلسلے میں پیوٹن کو دکھ بھرا خط بھی لکھا ہے۔ پیوٹن اور نیتن یاہو دونوں لیڈران عالمی عدالت انصاف کے ڈکلیئرڈ مجرم ہیں۔ مگر یہ دونوں چونکہ پریذیڈنٹ ٹرمپ کی نفسیات کو سمجھتے ہوۓ ان کی مدح سرائی اور قصیدے گوئی سے کام لیتے ہیں، اس لیے صدر ٹرمپ کو ان کے مظالم نظر نہیں آتے۔ وہ ان کے حق میں بدستور بولتے چلے جارہے ہیں۔ ابھی الاسکا میں پیوٹن نے جو کچھ کیا یہ در حقیقت امریکی اقدار کی تذلیل ہے جس کے ذمہ دار خود صدر ٹرمپ ہیں۔