ناروے کے انتخابات میں غزہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت

ناروے کا قومی انتخابی معرکہ فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہونے کے قریب ہے۔ لیکن سیاسی مباحثہ کا درجہ حرارت ابھی تک شدت کی روایتی بلندی کو نہیں چھو پایا۔

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے پر روایتی گولہ باری میں وہ تیزی دکھائی نہیں دیتی جو ماضی کی انتخابی مہموں کا خاصا رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یوکرائن کی جنگ ہے جس نے ناروے سمیت پورے یورپ کو ایک تشویش کی فضا میں گھیر رکھا ہے۔  خاص کر صدر ٹرمپ کی جانب سے آئے دن اس سلسلہ میں کوئی نہ کوئی بیان اور عمل تمام ذرائع ابلاغ کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے نارویجن سیاست بھی بحث کے اسی دائرہ کی نظر ہو جاتی ہے۔ یوکرائن کی جنگ نے اس وقت نارویجن عوام کو عدم امن کے خوف میں ایسے مبتلا کیا ہے کہ نارویجن انتخابی مہم داخلی مسائل کو پوری طرح زیر بحث لانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

بظاہر اس کا فائدہ حکومت کو ہو رہا ہے کیونکہ ناروے میں خارجی مسئلہ پر جماعتی سیاست کو چمکانے کا رواج نہیں۔ اس پر بڑی حد تک قومی اتفاق رائے موجود ہے لیکن اس کے برعکس پہلی دفعہ ناروے کی سیاست میں جو خارجی مسئلہ حاوی ہوتا دکھائی دے رہا ہے، وہ غزہ میں اسرائیلی افواج کی بربریت ہے۔ اس نے ناروے کی سیاست میں بہت ہلچل پیدا کر رکھی ہے۔ لیکن اس میں بھی دائیں اور بائیں بازو کی چھوٹی جماعتوں کے علاوہ بڑی سیاسی جماعتیں ایک محتاط انداز سے ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہیں۔ لیکن دن بدن بڑھتی ہوئی اسرائیلی بربریت نے روایتی طور پر دائیں بازو کی اسرائیل نواز جماعتوں کو بھی ایک مدافعانہ مؤقف پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن وہ کھل کر اسرائیل کی مزاحمت سے کترانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کی بنیاد پر بائیں بازو کی طرف سے ان پر بزدلانہ اور غیر انسانی رویہ اپنانے کی تنقید کی جا رہی ہے۔ ان میں سے ہائیرے اور فریم سکرتس دو رُخی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ وہ تند وتیز سوالوں کے جواب میں اسرائیلی بربریت کا دفاع تو نہیں کرتیں لیکن کھل کر اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیو ں کی مزاحمت بھی نہیں کرتیں۔ ان دونوں جماعتوں کے برعکس دائیں بازو کی دوسری دو جماعتیں کرستلے فولکے اور وینسترے پارٹی نے ایک دوسرے کے مخالف موقف کو اپنایا ہے۔ وینسترے نے اپنی  اسرائیل کے لیے نرم گوشہ والی دیرینہ پالیسی کو ترک کرتے ہوئے اسرائیل پر واضح تنقید اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی کھل کر مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔

جبکہ کرستلے فولکے پارٹی نے اپنی سابقہ انسان دوست اور بین الااقوامی ہمدردی کی روایات کو ترک کرتے ہوئے اسرائیل کی بلا مشروط حمایت میں کھڑی ہو گئی ہے۔ پارٹی غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت پر تنقید اور مزاحمت کرنے سے انکار کرتی ہے۔ کرستلے فولکے پارٹی کے اس موقف پر ناروے کے سیاسی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ لیکن کرستلے فولکے پارٹی اس کی پرواہ کیے بغیر اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کرستلے فولکے پارٹی انسانی حقوق اور انسان دوستی کی مذہبی عقیدہ پر مبنی نظریاتی سیاسی روایات کو پس پشت ڈال کر اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دے رہی ہے۔ کیونکہ پچھلے چار سالوں میں یہ جماعت اپنی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کے باعث ناروے کی قومی سیاست سے باہر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ لہذا اب کرستلے فولکے پارٹی دائیں بازو کے رائے دہندگان اور خاص کر ایک مخصوص اسرائیل نواز مزاج کے ووٹروں کی حمایت حاصل کرکے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے اس راستے پہ چل نکلی ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ جب تمام جماعتیں ایک طرح سے کھل کر اسرائیل کی حمایت کرنے سے کترا رہی ہیں تو پھر کرستلے فولکے پارٹی اسرائیل کی واضح حمایت سے ایسے ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے کی سعی کی جائے جو اسرائیل نوازی کی بنیاد پر اپنا ووٹ کرستلے فولکے پارٹی کے حق میں ڈال سکتے ہیں۔  لگ رہا ہے کہ پارٹی اپنی سیاسی بقا اور گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لیے عمومی اخلاقیات سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے غزہ کی جنگ سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش میں ہے۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کرستلے فولکے پارٹی کی یہ چال کہاں تک کارگر ثابت ہوتی ہے۔ لیکن آثار یہی بتا رہے ہیں کہ پارٹی یہ داؤ کھیل کر اپنی ڈانواڈول کشتی کو بھنور سے نکالنے میں کامیابی کے قریب ہو رہی ہے۔ اور ووٹر تعداد کی چار فی صد کی حد کو عبور کرنے ہوئے پارلیمنٹ میں اپنی قوت میں اضافہ کر لے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پارٹی اس خودغرضی کی کیا قیمت ادا کرے گی اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کرستلے فولکے پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ دائیں بازو کی دوسری جماعتوں کو کہاں تک ضرب لگاتا ہے۔ کیونکہ اسرائیل نواز ووٹروں کی اکثریت دائیں بازو کے اتحاد کا حصہ ہیں۔ لہذا قیاس یہ ہے کہ کرستلے فولکے پارٹی کی یہ سیاسی چال بائیں بازو کے لیے تو کوئی خطرہ نہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے ہی اتحاد کی دوسری جماعتوں سے ووٹ چرائے گی۔

اس ضمن میں سب سے زیادہ خطرہ وینسترے کو ہو سکتا ہے، جس نے پرانی اسرائیل نواز پالیسی میں بہت بڑا یو ٹرن لیا ہے۔ لہذا جہاں وینسترے اسرائیل مخالف ووٹروں کی توجہ لے رہی ہے، وہیں وہ اپنے پرانے اسرائیل نواز ووٹروں سے محروم بھی ہو سکتی ہے۔ اگر وینسترے اس نئے مؤقف پر ووٹروں کے منفی اثرات سے محفوظ رہتی ہے تو پھر ناروے کی پارلیمانی سیاست کا پانسہ پلٹنے کے لیے چند سو ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسے ہوتا ہے تو پھر یہ ناروے کی سیاسی تاریخ میں پہلے موقع ہو گا کہ خارجہ پالیسی فیصلہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ جبکہ عام طور پر ہمیشہ داخلی سماجی اور معاشی عوامل ہی فیصلہ کن ہوتے ہیں ۔

اسی طرح بائیں بازو کے اتحاد میں شامل جماعتوں میں بھی غزہ پر بحث شدت اختیار کر رہی ہے اور چھوٹی جماعتیں آربائیدر پارٹی پر دن بدن تابڑ توڑ حملے کر رہی ہیں۔ اسرائیل مخالف مؤقف کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ آربائیدر پارٹی بھی حکومتی پارٹی ہوتے ہوئے اور نیٹو اور امریکی ناپسندیدگی سے بچنے کی خاطر اس مسئلہ کو زیادہ زیربحث لانے میں پُرجوش تو نہیں لیکن آربائیدر پارٹی نے اس مسئلہ پر جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی دباؤ اور دائیں بازو کے دباؤ کو خاطر میں نہ لا کر اس مسئلہ پر جراتمندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے نہ صرف فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے بلکہ ناروے کے وزیرخارجہ نے تمام سفارتی احتیاط کو بالائےطاق رکھ کر اسرائیل کے جاری مظالم کو غیر انسانی گردانتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی وجہ سے بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے حکومت پر تنقید کی شدت کم ہوئی ہے اور اب وہ جماعتیں مزید دباؤ بڑھا کر اسرائیلی بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں جس کو حکومت جزوی طور پر ماننے کا عندیہ دے رہی ہے۔ لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے کافی وقت درکار ہو گا۔

بہرحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں غزہ کے سیاسی حربہ کو مد نظر رکھ کر اسے زیر بحث نہیں لا رہیں۔ یہ اس عوامی دباؤ کا نتیجہ ہے جو عوام میں اسرائیل بربریت کے ہاتھوں انسانیت کے قتل عام کے ردعمل کے نتیجہ میں پیدا ہو چکا ہے اور جسے یورپ کی لبرل اور جمہوری قوتیں اپنی نظریاتی انسانی اقدار کی پامالی تصور کر رہی ہیں۔ اس کی بنیاد پر انتخاب میں ایک ایسا فیصلہ دینا چاہتی ہیں جس سے آنے والی حکومت اس غیر انسانی خونریزی کے خاتمہ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ لہذا غزہ کی جنگ نے نارویجن رائے دہندگان کو ایک چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس انتخاب کے نتیجہ میں بننے والی حکومت ناروے کی اسرائیل پالیسی پر فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

اگر بائیں بازو کا اتحاد انتخاب ہار جاتا ہے تو پھر ناروے اگلے چار سال اسرائیل نواز خارجہ پالیسی کی طرف بڑھے گا اور آربائیدر پارٹی حکومت کی طرف سے اسرائیل پر دباؤ کی پالیسی کو بدل دیا جائے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اختلاف پارلیمان سے نکل کر گلی کوچوں میں زیادہ حاوی ہو جائے گا جہاں بائیں بازو اور انسانی حقوق کی تنظیمی عوامی احتجاج کے سہارے نئی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاجی تحریک شروع کر سکتی ہیں۔

البتہ ابھی آٹھ ستمبر تک عوام کے پاس اپنے مؤقف کو کامیاب بنانے کے لیے ووٹ کے استعمال کا موقع ہے جسے استعمال کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بہر حال حتمی منظر نامہ ستمبر کے انتخابی نتائج کے بعد ہی سامنے آئے گا۔