پیغام بری کے بعد جعل سازی کا الزام
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 21 / اگست / 2025
یوں تو دربار سرکار کا پیغام عام کرنے والوں کے ساتھ ضرورت پوری ہونے کے بعد اچھے سلوک کی توقع نہیں ہونی چاہئے لیکن چند روز پہلے عمران خان کی معافی کے سلسلہ میں عام ہونے والی ایک خبر کی تردید سے ایک نئی مضحکہ خیز صورت حال سامنے آئی ہے۔ ایسے میں پیغامبر سے کچھ پوچھنے کی بجائے پاک فوج کے ترجمان کو تردید سے زیادہ کچھ معلومات فراہم کرنے کی ضرورت تھی۔
سہیل وڑائچ ذمہ دار صحافی ہیں۔ وہ ایک قومی روزنامہ میں ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ ان کے لکھے کالم غور سے پڑھے جاتے ہیں اور بعض نکتہ دانوں کا کہنا ہے کہ ان میں بین السطور بھی بہت کچھ چھپا ہوتا ہے جسے عام پڑھنے والا سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ ایسے شخص کو ایک عمومی گفتگو میں ’جھوٹا‘ کہہ کر پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف ’سب اچھا ہے‘ کہتے ہوئے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہیں یہ وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ کیا واقعی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے برسلز میں سہیل وڑائچ سے ملاقات نہیں کی تھی۔ کیا اس گفتگو میں سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال نہیں ہؤا تھا۔ اگر یہ بات چیت ہوئی تھی تو کیا صحافی پر دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا تھا کہ یہ گفتگو ’آف دی ریکارڈ‘ ہے اور اسے آگے پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ اگر ان سب احتیاطوں کے باوجود صحافی نے وعدہ خلافی کی تھی تو اس کی وضاحت کے لیے کسی تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کا انتظار کیوں کیا گیا؟
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ 16 اگست کو کالم شائع ہونے کے ساتھ ہی آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک وضاحت یا تردید پریس ریلیز کی صورت میں جاری ہوتی جس میں اس کالم میں فراہم کی گئی معلومات کو تصحیح کی جاتی۔ یہ عین ممکن ہے کہ ’سیاسی مصالحت کے لیے صمیم قلب سے معافی کی بات‘ محض نجی گفتگو کا حصہ ہو اور یہ فیلڈ مارشل عاصم منیر یا پاک فوج کا سرکاری مؤقف نہ ہو۔ البتہ اس گفتگو کے خبر بننے اور ملک بھر میں اس پر بحث کے بعد محض یہ کہنے سے تردید مکمل نہیں ہوجاتی کہ آرمی چیف نے کسی کو انٹرویو نہیں دیا اور معافی کی بات نہیں کی۔ پہلے تو یہ واضح کی جائے کہ کیا سہیل وڑائچ اور فیلڈ مارشل برسلز میں دوبدو ملے تھے اور کیا ان کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی تھی یا نہیں؟ آئی ایس پی آر نے ایک اطلاع کو غلط قرار دے کر ایک ذمہ دار اور سینئر صحافی کی کردار کشی کی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی تردید اگر درست ہے تو کسی میڈیا ہاؤس کو ایسے ’غیر ذمہ دار صحافی‘ کو کام نہیں دینا چاہئے جو ملک کے آرمی چیف کے منہ میں اپنے الفاظ ڈال کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن حکومت اور پاک فوج تو پیکا قوانین کے ہوتے ہوئے کسی صحافی کے جھوٹ کی گرفت کرنے کے لئے کسی میڈیا ہاؤس کے مالک کی توجہ کے محتاج بھی نہیں ہیں ۔ وہ براہ راست صحافی کو عدالت میں پیش کرکے سچ بولنے اور جھوٹ تسلیم کرنے پرمجبور کرسکتے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے یہ راستہ اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔
تاہم اس معاملہ پر غور کے لیے ضروری ہے کہ جان لیا جائے کہ اسلام آباد کی ایک تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ نے کیا کہا۔ ان کا کہنا تھا:’ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کسی سے معافی مانگنے کا نہیں کہا اور نہ ہی اس سانحہ میں ملوث کسی شخص کو معافی ملے گی۔ واضح رہےروزنامہ جنگ لاہور کے ایڈیٹر سہیل وڑائچ نے ایک کالم میں انکشاف کیا تھا کہ برسلز میں ایک ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا تھا کہ مصالحت صمیم قلب سے معافی مانگنے پر ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ اس کالم میں عمران خان کا نام نہیں لیا گیا تھا لیکن بادی النظر میں یہ بات ان ہی کے بارے میں تھی۔ صحافیوں سے گفتگو میں آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 16 اگست کو سہیل وڑائچ کے لکھے گئے کالم کے مندرجات کو غلط قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے برسلز میں کوئی سیاسی بیان نہیں دیا اور نہ ہی انہوں نے معافی کا کوئی ذکر کیا۔ اس وضاحت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے کسی موقع پر تحریک انصاف کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی فوج کا نہیں بلکہ قوم کا مقدمہ ہے۔ یہ واضح ہونا چاہئے سانحہ 9 مئی میں ملوث، ان کی معاونت کرنے والے اور اس سانحہ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو قانون کے مطابق احتساب کاسامنا ہوگا‘۔
فوج کا یہ مقدمہ بہت صراحت سے قوم کے سامنے موجود ہے کہ سانحہ9 مئی قومی سلامتی پر حملہ تھا۔ یہ معلومات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ اس روز ہنگامہ آرائی اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد فوج کے اندر بعض عناصر کو عسکری قیادت تبدیل کرنے کا ماحول فراہم کرنے کی کوشش تھی۔ یہ ایک سنگین الزام ہے اور اس میں ملوث لوگوں کو واقعی ملکی قانون کے مطابق سزائیں ملنی چاہئیں۔ لیکن ایک جرم کی سزا کے نام پر کیا کسی سیاسی پارٹی اور اس کی قیادت کو جیلوں میں بند کرکے ایسی مہم جوئی درست ہے جسے عوام کے ایک بڑے حلقے کی ہمدردی حاصل ہو؟ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی تازہ وضاحت سہیل وڑائچ کی فراہم کردہ معلومات کو غلط ثابت کرنے کی ناکام کوشش کے مترادف ہے۔ اس سے سہیل وڑائچ کی صحافیانہ قد و قامت پر تو سوال نہیں اٹھتا لیکن فوجی قیادت کے رویہ کے بارے میں متعدد نئے سوال سامنے آتے ہیں۔ ایک تو یہی کہ کیا سانحہ 9 مئی کا نام لے کر عمران خان اور تحریک انصاف کو ان کے بنیادی شہری ،جمہوری و سیاسی حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دوئم یہ کہ اگر فوج نے یہ معاملہ ملکی عدالتی نظام کے حوالے کردیا ہے تو پاک فوج کے ترجمان کو کیوں ہر دوسرے دن یہ وضاحت کرنے کی ضرورت ہیش آتی ہے کہ اس سانحہ میں ملوث لوگوں کو معافی نہیں مل سکتی بلکہ انہیں لازمی سزا دی جائے۔ ملک میں جو قانون نافذاعمل ہے، اس کے مطابق کسی شخص کو مجاز عدالت کے فیصلہ سے پہلے کسی جرم کا قصور وار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
سوئم یہ کہ برسلز میں آرمی چیف نے اگر سہیل وڑائچ سے ملاقات یا گفتگو نہیں کی تو بھی وہاں یورپ میں آباد پاکستانیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسٹیج پر یہ کہا تھا: ’ قرآن پاک کی آدم کی تخلیق اورشیطان کے کردار کے حوالے سے آیات کا متن اور ترجمہ سنایا جس سے واضح ہوتا تھا کہ شروع میں فرشتوں کو آدم سے مسئلہ تھا مگر خدا نے آدم کو تخلیق کیا تو سوائے ابلیس کے سب فرشتوں نے انسان کو خدا کا حکم اور کرشمہ سمجھ کر قبول کرلیا۔ گویا معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا‘۔ وضاحت ہونی چاہئے کہ آرمی چیف کو قرآن پاک کا یہ واقعہ سنانے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی؟ یا انہوں نے یہ بیان بھی نہیں دیا۔ یا جلسہ عام میں کی گئی ا س گفتگو کی تردید چونکہ ممکن نہیں ہے، اس لیے صحافی کو نشانہ بنا کر آرمی چیف کی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟
سہیل وڑائچ نے آرمی چیف سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے صرف معافی ہی کا ذکر نہیں کیا تھا بلکہ اس میں موجودہ حکومت تبدیل کرنے کی تردید کے بارے میں بیان بھی شامل تھا۔ اس کالم کا ایک اقتباس کچھ یوں ہے:’ یہ ایک عاجز صحافی اور فیلڈ مارشل کی ملاقات تھی جس میں میرے کھردرے سوالات تھے اور ان کے واضح اور شفاف جوابات۔ بات سیاست سے شروع ہوئی اوربالخصوص ان افواہوں پر کہ صدرِپاکستان اور وزیراعظم کو تبدیل کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر نے برسلز کے جلسے میں اور میرے ساتھ دو گھنٹے کی طویل نشست میں واضح طور پر کہا کہ تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ سب خبریں تو سول اور عسکری ایجنسیوں کی طرف سے آئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں۔ دراصل ان کے پیچھے حکومت اور مقتدرہ دونوں کے مخالف اور سیاسی انارکی پیدا کرنے والے عناصر ہیں۔ اپنے عزائم پر انہوں نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر کہا کہ ’خدا نے مجھے ملک کا محافظ بنایا ہے۔ مجھے اس کے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں ، میں ایک سپاہی ہوں اور میری سب سے بڑی خواہش شہادت ہے۔ جنرل عاصم منیر بار بار سیاسی حکومت کے تدبر اور بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف کے 18 گھنٹے پر خلوص کام کرنے کو سراہتے رہے۔ انہوں نے کہا جنگ کے دوران وزیراعظم اور کابینہ نے جس عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ، اس کی تعریف کی جانی چاہئے‘۔
واضح ہونا چاہئے کہ کیا آرمی چیف نے حکومت کی تبدیلی کی تردید کرتے ہوئے ایسی خبروں کو انارکی پیدا کرنے والئے عناصر کے کرتوت قرار نہیں دیا تھا اور کیا انہوں نے وزیر اعظم کی تعریف کرتے ہوئے شاندار الفاظ بھی استعمال نہیں کیے تھے؟ اگر اس کالم کا یہ حصہ درست ہے تو کیا پاک فوج رپورٹنگ کے صرف اس حصہ کو درست سمجھنے پر اصرار کررہی ہے جس سے اسے فائدہ ہو اور اس حصے کو مسترد کرنا ضروری سمجھتی ہے جس پر فوج کی حیثیت یا بیانیہ متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کو اپنے باس سے پوچھ کر یہ ضرور بتانا چاہئے کہ ملک سے باہر پاکستانیوں کے اجتماعات سے خطاب اور سیاسی، معاشی اور خارجہ پہلوؤں پر سیر حاصل تبصرے کب سے آرمی چیف کے فرائض میں شامل ہوگئے؟ اگر یہ سب کچھ درست اور آئین کے مطابق ہے، پھر آئی ایس پی آر کس منہ سے بار بار یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے سیاسی امور پر سوال نہ کیے جائیں۔
صورت حال اتنی سادہ نہیں ہے جتنی پاک فوج کے ترجمان نے بتانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی وضاحت نے اسے مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے جس سے فوج کا اعتبار مشکو ک ہؤا ہے۔ اس وقت ملک میں اعتماد وبھروسے کی شدید کمی ہے۔ اسے قائم رکھنے کے لیے صرف صحافیوں ہی کو نہیں بلکہ پاک فوج کے اعلیٰ افسروں کو بھی سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے۔ صحافی سے ملنا اور یہ توقع کرنا کہ وہ بات نشر نہیں کرے گا، یوں ہی ہے کہ بلی کے سامنے دودھ رکھ کر مان لیا جائے کہ وہ اس کی طرف نگاہ بھی نہیں اٹھائے گی۔ یا تو صحافیوں سے ملنا بند کریں یا تردید کا طریقہ تبدیل کیا جائے۔ ورنہ استحکام کے علاوہ اعتماد قائم کرنے کا خواب بھی پورا نہیں ہوگا۔