سیکرامنٹو میں یوم پاکستان کی تقریب
بھارتی جارحیت کے خلاف بنیان مرصوص کے جوابی حملے نے نا صرف اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے جارح انڈیا کو بلکہ پوری دنیا کو اچھی طرح معلوم ہوگیا ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت بھی پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔
پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کےلئے بنا ہے اور یہ قائم رہے گا۔ یہ بات امریکہ میں پاکستانی سفیر عزت مآب رضوان سعید نے سیکرامنٹو میں پاکستان کے یوم آزادی اور جشن بنیان مرصوص کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے، جس کا انعقاد سیکرامنٹو کے ممتاز سیاسی اور سماجی رہنما انجیئر مقصود علی نے اپنی رہائش گاہ پر کیا تھا۔ پاکستانی سفیر ملکی معیشت کے فیلڈ مارشل نے وژن سے امریکہ میں رہائش پذیر پاکستانیوں کو آگاہ کے مشن پر تین شہروں ہیوسٹن، ڈیلس اور سیکرامنٹو کے دورے پر تھے۔
اس تقریب جشن فتح میں سیکرمنٹو کے شہروں روزویل، فالسم، ایلک گروو، ناٹومس کے نمائندہ افراد کے علاوہ لاس اینجلس اور اورنج کاؤنٹی کی معروف شخصیات عارف منصوری اور عبید خواجہ، محمود سیفی اور قائم قام قونصلر مبشر خان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سفیر رضوان نے جشن فتح کی مناسبت سے بنیان مرصوص کیک بھی کاٹا۔
میزبان انجیئر مقصود علی نے سیکرامنٹو کمیونیٹی کی طرف سے سفیر محترم کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہماری پہچان اور شناخت ہے اس کو ہم چھوڑ نہیں سکتے، اس لئے ہمیں اسی طرح پاکستان کےلئے متحد ہو کر کام کرنا چاہیئے جس طرح یہودی دو فی صد ہوتے ہوئے اپنے ملک کے ہر شعبے کےلئے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی ڈراموں کو عشق و محبت کے بجائے قومی اتحاد اور مثبت سوچ پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ ان ڈراموں سے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں۔ اس موقع پر ان کی بیٹی فاطمہ علی نے بھی بھی نوجوانوں کے جذبات کی ترجمانی کی۔
سفیر رضوان سعید نے مزید کہا کہ بھارت کی جارحیت کے خلاف ہماری فتح سے دنیا کی نظر میں ہمارا وقار بلند ہوا ہے۔ بھارت نے ایک جھوٹ پر مبنی خود ساز واقعے کو بہانہ بنا کر چھ اور سات مئی کی درمیانی شب کو شہری آبادی پر حملے کیےتو ہم نے اس کا بھر پور جواب دیا۔ نہ صرف ان کے چھ طیاروں کو مار گرایا جنہوں نے ہم پر حملہ کی کوشش کی اور ان 14 طیاروں کو چھوڑ دیا جو حملہ کرنے کےلئے اڑنے والے تھے۔ انڈیا نے 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات کو ہمیں کمزور سمجھ کر ہمارے اڈوں اور شہری آبادی کو دوبارہ نشانہ بنایا تو ہم نے اعلان کرکے بنیان مرصوص آپریشن کیا اور انڈیا کے 24 اڈوں کو نشانہ بنایا تووہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور واشنگں سے سیز فائر کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا مجھے بلایا گیا کہ انڈیا بھی کسی حد تک تیار ہے تو دونوں ملکوں میں سیز فائر کرانے میں امریکہ کردار ادا کرسکتا ہے۔ اگرچہ ہمارا پلڑا بھاری تھا اس کے باوجود ہم تیار ہوئے اور اس سیز فائر کااعلان صدر ٹرمپ نے ایک ٹؤئٹر کے ذریعے خود کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ جب بھی پاکستان کی معیشت ٹھیک ہونا شروع ہوتی ہے تو ہمارے ہمسائے انڈیا سے ہمارے خلاف کوئی حرکت سرزد ہو جاتی ہے جس کا جواب دینا پڑتا ہے۔ امریکہ اور اقوام عالم کو اب ہماری اہمیت اور اس کی اہم جغرافیائی حساسیت کا پہلے سے بھی زیادہ احساس ہوگیا ہے۔ ہمارا قومی وقار بحال ہوا ہے۔ امریکہ سے تعلقات ہمارے بہترین مفاد میں ہیں۔ یہ بہترین موقع ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائ۔ے ہمارے بہتر مستقبل کےلیے یہی واحد راستہ ہے۔ تاریخ نے اس فتح کی صورت میں ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان تعلقات کو بہتر سے بہتر بنادوں پر استوار کرلیں اور اس کے ساتھ تجارت کے معاہدے کریں۔ ہم پچیس کروڑ آبادی کا ملک ہیں۔ یہ آبادی مستقبل میں امریکی آبادی سے بھی بڑھ جائے گی۔ دنیا کی چوتھی اور پانچویں آبادی کے ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا، ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
پاکستان دنیا کے حساس ترین حصے میں واقع ہے اس کی اس اہمیت کی وجہ سے دنیا کی کوئی طاقت اسے ختم نہیں کرسکتی۔ بھارت کا ارادہ اکھنڈ بھارت کا ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن یہ اس کی خام خیالی ہے۔ بھارت نام کا کوئی ملک کبھی دنیا میں کبھی موجود نہیں تھا۔ ہندوستان میں تو 563 ریاستیں اور راجواڑے تھے۔ اس لئے جس چیز کی کوئی بنیاد ہی نہ ہو، اس کا خواب کیسے دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ جب تک ایک بھی پاکستانی اس دنیا میں موجود ہے، وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک اس کی حفاظت کرے گا۔ انہوں نے سوالوں کے جوابات بھی دیئے۔