’کہانیاں رفتگان ملتان کی‘ : ادبی تاریخ کا نیا باب اور رضی الدین رضی

رضی کی محبت ہے کہ اس نے "کہانیاں رفتگان ملتان کی” کے دونوں حصے اول و دوم کئی روز پہلے محترم ڈاکٹر انوار احمد صاحب کے گھر ایک مختصر نشست میں عطا کئے۔

کتابوں کے سر ورق پر تصاویر کی صورت میں موجود معروف چہروں میں کئی چہرے ایسے دکھائی دئیے جن کی بھرپور متحرک زندگی کو دیکھنے کا شرف مجھے بھی حاصل رہا۔ سچی بات ہے کہ وہ تمام چہرے ذہن کے کینوس پر مدھم ہی نہیں معدوم ہو چکے تھے اور بعض کا تو کوئی عکس بھی باقی نہیں رہا تھا۔ مگر دونوں کتابوں کے سرورق ملتان کی بھرپور ادبی صحافتی اور سماجی تاریخ کی شہادت دیتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔ اگر ان کے نام لکھنے لگوں تو فہرست بہت طویل ہو جائے گی۔ رفتگان کی ہر کہانی میں موجود شخصیت یگانہ حیثیت رکھتی ہے۔

میں دونوں کتابوں کے سرورق کئی دن بار بار دیکھ کر ملتان کی ادبی و شعری صحافتی اور سماجی تاریخ پر پڑی دھول میں ان چہروں کی چمک تلاش کرتا رہا جن کی روشنی اس شہر کی پرامن و پر سکون فضا میں اجالے بکھیرا کرتی تھی۔ انہیں دیکھ کر ذہن اس شعر کے گرداب میں پھنسا رہا:
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

روایت کے مطابق مجھے ان کتابوں پر بہت پہلے اپنے تاثرات لکھ دینے چاہیں تھے مگر میری مشکل یہ ہے کہ کسی کی موت کا نوحہ لکھنا تو دور کی بات، کسی کی وفات پر لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے بھی میری زبان ساتھ دینے سے انکاری ہو کر لڑکھڑانے لگتی ہے۔ ان لوگوں کی موت پر کچھ لکھنا جن سے زندگی زندہ رہنے کا ہنر سیکھتی ہو بڑے دل گردے اور حوصلے کا کام ہے۔

یہ رضی کے قلم کا کمال ہے کہ اس نے ایک دو نہیں اس شہر کے بیشمار”رفتگان” کا اپنی تحریروں میں اس طرح ذکر کیا ہے کہ وہ "موجودگان” کی فہرست میں دکھائی دینے لگے ہیں۔ کوئی بیس پچیس سال پہلے ایک دوست کی وفات کے بعد لکھے گئے میرے ایک افسانے کا عنوان تھا ” فہرست میں آخری نام”۔۔ اس میں میرا نام "آخری” دیکھ کر میری بیوی نے کہا تھا ” افسانے کا اختتام اچھا نہیں”۔۔ اس وقت وہ نہیں جانتی تھی کہ مجھ سے بہت پہلے اس کا نام اس ”فہرست”  میں شامل ہو جائے گا۔ اس فہرست میں کب کس کا نام شامل ہو جائے یہ کوئی نہیں جانتا۔

رضی نے "کہانیاں رفتگان ملتان کی” کا پیش لفظ سن 2006 میں تحریر کیا تھا اس وقت رضی کی کتاب ” رفتگان ملتان ” کے بارے میں اپنے تاثرات اس کتاب کے لئے لکھنے والے کئی اہم نام اب 2025 میں رفتگان کی کہانیوں کی اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس فہرست میں آخری نام کس کا ہو گا اور آخری نام کون لکھے گا کوئی نہیں جانتا۔

کتاب کے پہلے حصے کی پہلی کہانی "پہلا جنازہ” نے ہی مجھے افسردگی کے خول میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک ٹافی کا خواہشمند اپنے پیارے بابا کا منتظر ساڑھے تین سال کا معصوم بچہ۔۔۔۔ 60 سال کا رضی الدین رضی دانشور ، ادیب ، شاعر ، صحافی، کالم نگار ، پبلشر ، ایک ذمہ دار شوہر ، شفیق باپ ، مہربان دوست ، اور جانے کیا کیا، بن کر بھی ابھی ایک ٹافی کی خواہش اور پیارے بابا کا منتظر دکھائی دیتا ہے۔

 ساٹھ سال کے رضی نے کتاب کا پہلا حصہ اپنے والد شیخ ذکاالدین اوپل کے نام کر کے ساڑھے تین سالہ بچے کے جذبات کو تسکین کا سامان مہیا کیا ہے۔ اور ضد کرتے بچے کو بہلانے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کا دوسرا حصہ اپنی والدہ محترمہ نسیم اختر کے نام کر کے جن کی نظر میں وہ آج بھی معصوم بچہ ہے، یہ بتایا ہے کہ اب وہ بڑا ہو گیا ہے اور کہانیاں سنتا ہی نہیں سناتا بھی ہے، لکھتا بھی ہے اور خوب لکھتا ہے۔ یہ کہانیاں صرف کہانیاں ہی نہیں ایک ایسی سماجی و ادبی تاریخ ہیں جنہیں مرتب کرنے کا خیال شاید "رفتگان” کے وارثان کو بھی نہ آیا ہو۔

رضی نے یہ کام کر کے ملتان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے اور ادبی ورثے کو ایک نئی جہت دی ہے۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)