ناروے کے انتخابات میں سخت مقابلہ کی امید

نارویجن انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں  رائے دہندگان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ سیاسی امور کے ماہرین اور تجزیہ کار اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق عوامی رائے دہندگان کے مزاج اور سیاسی جھکاؤ کی پیش گوئیاں کرتے ہوئے مستقبل کے سیاسی منظر نامہ کی نقشہ کشی میں مصروف ہیں۔

ابھی تک کے سامنے آنے والے جائزوں سے کوئی بھی صاحب رائے حتمی رائے متعین کرے میں ناکام ہے۔ بر حال ایک بات پر اتفاق ہے کہ مقابلہ کانٹے دار ہے اور بہت ہی تھوڑے ووٹ فیصلہ کُن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اس دفعہ کوئی بھی بڑی پارٹی کسی بڑی برتری سے آگے دکھائی نہیں دے رہی۔ قیاس یہ ہے کہ چھوٹی پارٹیوں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم ہی دائیں اور بائیں بازو کے اتحاد میں سے کسی ایک کی کامیابی کو طے کرے گی۔ ابھی تک کی صورتحال کے مطابق جماعتوں کے درمیان جاری سیاسی مکالمہ میں کوئی ایک مخصوص مسئلہ سامنے نہیں آیا جو بحث کا مرکزی نکتہ ہو اور مجموعی طور پر تمام معاشرتی موضوعات ہی کسی نہ کسی زاویہ سے زیر بحث لائے جارہے ہیں۔

ایک بات جو اس انتخابی مہم میں خاص طور پر نظر آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ حزب اختلاف کوئی ایسے ایشو کو سامنے نہیں لا سکی جس کی بنیاد پر وہ حکومت کو دباؤ میں لا سکے یا جس کی بنیاد پر وہ حکومت کی چار سالہ کارکردگی کو ناقص یا ناکام گردان کر رائے دہندگان کی توجہ حاصل کر سکے۔ عمومی طور پر ناروے کی سیاست میں عوامی معیشت اور روزمرہ کے عوامی مسائل نمایاں موضوعات ہوتے ہیں۔ ان میں بےروزگاری، امن عامہ، صحت، تعلیم، ٹیکس اور ماحولیات شامل ہیں۔ اس میں دائیں اور بازو کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں جن کو زیادہ نمایاں کر کے اپنے ووٹروں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ ان مسائل میں سر دست ہمیشہ روزگار کی پالیسی رہی ہے جو دائیں اور بائیں بازو کے لیے برابر اہمیت کی حامل رہی ہے۔ کیونکہ جب بھی ملک میں بے روزگاری بڑھتی ہی تو پھر اس کا معاشرے کے ہر شعبہ پر اثرپڑتا ہے۔ لہذا روزگار کی صورتحال بڑی حد تک داخلی سیاست کا رخ متعین کرتی ہے۔ اگر بے روزگاری ہو گی تو پھر اس سے بہت سے مسائل سر اُٹھاتے ہیں جن کو حل کرنا سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر بے روزگاری کی شرح زیادہ ہو گی تو پھر معاشرے میں طبقاتی تفریق بڑھنے کا خدشہ ہو جاتا ہے جس سے امن عامہ کی صورتحال بھی متاثر ہوتی ہے۔ اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک بڑی تعداد اپنے رہائشی اخرجات کو پورا کرنے کی کم ہوتی سکت کے پیش نظر بے گھر ہوجاتے ہیں، جن کو گھر مہیا کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے میں سرکاری اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ کے بے روزگاری کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کی کمی سے سرکاری آمدن بھی کم ہونے سے فلاحی سہولیات مہیا کرنے کے لیے مالی وسائل کی دستیابی میں محدود ہو جاتی ہے، جس سے حکومت فلاحی سہولیات میں کٹوتی پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس وقت ناروے بے روزگاری کے بحران سے محفوظ ہے بلکہ افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے جس سے یہ ایشو اس انتخاب میں زیربحث نہیں۔ اسی طرح مختلف جرائم کے واقعات کے باوجود عوام کی بڑی تعداد امن عامہ سے مطمئن نظر آتی ہے جب کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے بھی حکومت کو کسی بڑی تنقید کا سامنا نہیں۔ امن عامہ اور پولیس کے کردار اور وسائل میں اضافہ دائیں بازو کا خاص امتیاز رہا ہے اور وہ امن عامہ میں درپیش مسائل کو پولیس کی طاقت بڑھا کرحل کرنے کی وکالت کرتی ہے جب کہ بائیں بازو کی سیاست کا محور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک مضبوط پولیس کے ساتھ سماجی فلاح کے عنصر کو بھی کلیدی تسلیم کیا جاتاہے۔ جس کی عدم موجودگی امن عامہ کی خراب صورتحال کی موجب بنتی ہیں۔ لیکن اس دفعہ اپوزیشن امن عامہ کے حوالے سے کوئی جارحانہ پالیسی اپنانے میں قاصر ہے کیونکہ اس کے سابقہ دور اقتدار کے مقابلے میں موجودہ حکومت نے امن عامہ کے لیے زیادہ وسائل دستیاب کیے ہیں۔

سردست صحت اور تعلیم کے شعبہ میں مختلف چیلنجز ہونے کے باوجودکوئی ایسی صورتحال نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر دائیں بازو کی حزب اختلاف حکومت کی نااہلی کو ثابت کرتے ہوئے اُسے دباؤ میں لا سکے۔ دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں صحت اور تعلیم کے شعبہ میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے نجکاری کے نعرہ کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں لیکن اس دفعہ اس کا بھی کوئی زیادہ پرچار نہیں کیا جارہا۔ دائیں اور بائیں بازو کے درمیان سب سے زیادہ زیر بحث ٹیکس کی شرح کو لایا جاتا ہے اور اس دفعہ بھی حزب اختلاف اس کو سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ خاص کر پچھلے چند سالوں میں کچھ امرا کی طرف سے ٹیکس کی شرح اونچی ہونے کی وجہ سے بطور احتجاج سویزرلینڈ ہجرت کرنے پر حزب اختلاف نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے کر اقتصادی پالیسی کی ناکامی کا پرچار کرتے ہوئے شور مچایا تھا کہ ملک سے سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی سے سرمایہ کاری کم ہوگی، جس سے روزگار پر منفی اثرات پڑیں گے اور نارویجن معیشت کمزور ہو گی۔ لہذا ٹیکس میں کمی کا نعرہ بلند کیا جا رہا ہے لیکن لگتا ہے کہ یہ نعرہ بھی موثر نہیں ہو رہا۔ کیونکہ مرکزی ادارہ اعداد و شمار ایس ایس بی کے مطابق ناروے میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے جس سے عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی خوشحالی کو کوئی خطرہ نہیں۔ نہ ہی مجموعی پیداوار زوال پذیری کے آثار ہیں۔

اس انتخاب میں حیران کن حد تک ماحولیات کا مسئلہ کوئی اہمیت اختیار نہیں کر رہا جس سے اس سیاست کی علمبردار جماعتیں مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کی شاید بڑی وجہ یوکرائن کی جنگ ہے جس نے ایک خوف کی فضا کو جنم دے رکھا ہے۔ اسی طرح تارکین وطن اور اسلام مخالف موضوعات بھی ایسے زیر بحث نہیں جیسے پہلے ہوتا تھا۔ اگر ابھی تک کی سیاسی سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو بڑی حد تک جماعتیں مجموعی سیاسی پالیسیوں کا سہارا  لے کر آگے بڑھ رہی ہیں اور کوئی خاص سیاسی تنازعہ نظر نہیں آ رہا جس کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کیے جائیں۔ اور اس کو لے کر حکومتی نااہلی کی بنیاد بنا کر بہتر مستقبل کا خواب دکھایا جاسکے۔ بس یہی کہا جا رہا ہے کہ ہم ناروے کو بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں۔ ابھی تک کے عوامی جائزوں میں جو تبدیل دکھائی دے رہی ہے وہ دونوں اتحادوں کے اندر جماعتوں کی مقبولیت اوپر نیچ جارہی ہے اور دونوں اتحاد ایک دوسرے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا رہے۔ جو شاید آنے والے دنوں میں ممکن ہو سکتا ہے۔ البتہ ابھی تک تو دائیں بازو میں فریم سکرتس پارٹی اوپر جارہی ہے تو ہائیرے نیچے جارہی ہے۔ اور اگر کرستلے فولکے پارٹی کی پوزیشن بہتر ہو رہی ہے تو وینسترے کمزور ہو رہی ہے۔ اسی طرح بائیں بازو میں بھی سنٹر پارٹی کی مقبولیت گری ہے تو ایس وی اور ریڈ پارٹی کی بڑھی ہے۔ اور آربائیدپارٹی بھی اپنے مورچہ پر قائم دائم ہے۔

ابھی تک بہت کم ووٹروں نے ان روایتی اتحادوں کے آر پار کا سفر کیا ہے اور اگر چار سال قبل کے انتخابی نتائج کو دیکھا جائے تو دونوں اتحادوں کے درمیان اوسط فرق تین فی صد تک ہی محدود دکھائی دیتا ہے۔ 2021 کے انتخاب میں دائیں بازو کو قریبا اکتالیس فی صد ووٹ ملے تھے جبکہ بائیں بازو چھپن فی صد کے قریب تھا۔ جبکہ تازہ رائے عامہ کے جائزوں میں یہ پوزیشن چوالیس اور اور باون کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ ابھی تک کی سیاسی نقشہ کشی ایک دلچسپ مقابلے کا عندیہ دے رہی ہے۔