کراچی سے ’را‘ کا خفیہ نیٹ ورک پکڑا گیا

  • ہفتہ 23 / اگست / 2025

کراچی سے بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالائسس ونگ (را) کا خفیہ نیٹ ورک پکڑا گیا۔ محکمہ انسداد دہشت گردی نے 8 جولائی کو گرفتار کیے گئے 4 بھارتی ایجنٹس کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش بے نقاب کر دی۔

سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’را‘ نے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لیے کراچی میں اپنا نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔ ایجنٹوں کو ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں کے لیے خطیر رقم فراہم کی گئیں۔ کراچی میں دہشت گردوں کے سیف ہاؤسز بھی موجود تھے۔

سی ٹی ڈی سندھ اور وفاقی حساس اداروں نے مشترکہ کارروائی کی اور کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا بڑا نیٹ ورک پکڑا۔ بدین کے 45 سالہ عبدالرحمٰن کے قتل کی تحقیقات سے را نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا۔ عبدالرحمٰن کی 18 مئی کو ٹارگٹ کلنگ کی گئی تھی۔ تحقیقات کے بعد را نیٹ ورک کی ایک رپورٹنگ ایجنسی پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف مزید تحقیقات سی ٹی ڈی کو منتقل کی گئی تھیں۔ تحقیقات میں ’را‘ کا کردار واضح طور پر سامنے آیا۔ ’را‘ کی مالی اور لاجسٹک مدد سے دہشت گرد نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا۔ کراچی میں دہشت گردوں کے لیے ’را‘ کا سیف ہاؤس قائم تھا۔ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی۔

آزاد خان نے بتایا کہ ’را‘ کے ایجنٹ سنجے سنجیو کمار عرف فوجی نے خلیجی ریاست میں کام کرنے والے پاکستانی سلمان اور ارسلان کو ایجنٹ بنایا۔ سلمان نے عمیر، سجاد، عبید اور شکیل پر مشتمل ٹارگٹ کلرز گینگ بنایا۔ ’را‘ نے دہشت گردی و ٹارگٹ کلنگز کے لیے خطیر رقم فراہم کی۔ ’را‘ کی طرف سے فنڈنگ کے لیے رقوم بینکنگ ترسیلات کے ذریعے ہوئیں۔ ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ کراچی اور دیگر شہروں میں بم دھماکوں اور دہشت گردی میں را کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے۔ را کے گرفتار ٹارگٹ کلرز سے برآمد اسلحہ میں نائن ایم ایم پستول، 30 بور پستول، 125 مارٹر شیل شامل ہیں، کارروائی کے دوران ایک بم بھی برآمد ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے، ملزمان نے ’را‘ کے لوکل ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا اعتراف کیا۔ ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم ایس آر اے سے بھی ثابت ہوا۔ گرفتار افراد نے کراچی میں دہشت گردی کے مختلف منصوبوں کا اعتراف کیا۔

آزاد خان نے بتایا کہ گرفتار ٹارگٹ کلرز نے پاکستان میں قتل کے لیے بھارتی فنڈنگ کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان نے ’را‘ کی پشت پناہی میں قتل کے لیے رقوم وصول کرنے کا انکشاف کیا۔ خلیجی ممالک میں سنجے کمار عرف فوجی نے خطیر رقم سلمان کو بھیجی۔ سلمان نے حیدر آباد میں دیگر ملزمان سے ملاقات کی، 3 ملزمان ماتلی گئے جہاں قتل کی واردات کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی ایک لوکل تفتیشی ادارہ ہے۔ ہمارا کردار کیس کی تفتیش اور لنکس کو ثابت کرنا ہے، جو ہم نے کرلیا ہے۔ ہم نے تمام دستیاب شواہد اور دیگر لنکس آگے بھیجے ہیں، اس کیس میں بھی شواہد اعلیٰ سطح کے فورم پر رکھے جائیں گے۔ ایڈیشنل آئی جی محکمہ انسداد دہشت گردی نے کہا کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ کا معاملہ منظم انداز میں مخصوص پلیٹ فارم کے ذریعے اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا، دہشت گردوں سے تمام شواہد جمع کیے گئے ہیں۔