عمران خان کے بھانجوں پر سیاست
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 23 / اگست / 2025
وزیر اعظم کے مشیررانا ثنااللہ خان نے یکے بعد دیگرے علیمہ خان کے دو بیٹوں شیرشاہ اور شاہ زیب خان کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فوجداری معاملات میں سیاسی بحث کرنے کی بجائے، متعلقہ لوگوں کو عدالت میں اپنی بے گناہی کا ثبوت پیش کرنا چاہئے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں البتہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف حکومت کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہوتی ہے تو ان گرفتاریوں پر بھی بات ہوسکتی ہے۔
اس دوران علیمہ خان، ان کے بیٹوں کے وکیلوں کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی طرف سے ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ دونوں بھائیوں کو ایک دن کے وقفے سے 9 مئی 2023 کو لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس حملہ کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔ وکلا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اہم ترین سوال یہی اٹھایا جارہا ہے کہ ان دونوں بھائیوں کو وقوعہ کے 27 ماہ بعد گرفتار کرکے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت نے اس پہلو پر غور کرنے کی بجائے پولیس کو دونوں بھائیوں کا بالترتیب پانچ اور آٹھ دن کا ریمانڈ دے دیا ہے۔ حالانلکہ اگر یہ قیاس کر بھی لیا جائے کہ یہ دونوں کسی حد تک دو سال سے زائد مدت پہلے سرزد ہونے والے کسی جرم میں ملوث تھے تو بھی انہیں پولیس ریمانڈ میں دینے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ پولیس اب ان دونوں سے کوئی ایسا ثبوت جمع نہیں کرسکتی جو پہلے ہی اس کے پاس نہ ہو اور نہ ہی اس بات کااندیشہ ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں اپنے خلاف مقدمہ میں کسی ثبوت کو تلف کرسکتے ہیں۔ طویل مدت گز جانے کے بعد ایسے سارے اندیشے دم توڑ چکے ہیں۔ اس کے باوجود جب عدالت پولیس کی درخواست پر ریمانڈ دیتے ہوئے اس کے جواز پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتی تو فطری طور سے سیاسی انتقام کے لیے عدالتوں کو استعمال کرنے کے خدشات سامنے آتے ہیں۔
عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے دونوں بیٹوں کو ایک ایسے موقع پر گرفتار کیا گیا ہے جب ملک میں مصالحت اور معافی کی باتیں زیر بحث ہیں۔ حکومت کی طرف سے تحریک انصاف کو میثاق استحکام پاکستان کے لیے مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 14 اگست کے موقع پر یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پہلی بات میثاق استحکام کی بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کو پاکستان کی یک جہتی اور قومی مفاد کے نام پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ تاہم ملک میں موجودہ سیاسی انتشار کی صورت حال میں سیاسی مسائل حل کرنے کے لیے قومی استحکام و اتحاد کی اصطلاح استعمال کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی حکومت کی طرف سے ایسی کوششیں سننے میں آتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے قریبی خاندان سے دو نوجوانوں کی گرفتاری کو مجرمانہ سرگرمیوں سے زیادہ سیاسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے آج لاہور میں سینیٹ انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے ایک بار پر تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ مسائل اسی وقت حل ہوسکتے ہیں جب مل بیٹھ کر بات چیت ہوسکے۔ انہوں نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کو میثاق استحکام پاکستان کا عنوان دیا ہے۔ اسی میں سیاسی و معاشی استحکام ہے، جو ٹیبل پر بیٹھ کر ہوگا‘۔ البتہ اب پنجاب پولیس نے علیمہ خان کے دو بیٹوں کو گرفتار کرکے ریمانڈ میں لیا ہے، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو بات چیت کی پیش کش تو ضرور کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ دباؤ کے ہتھکنڈے بھی استعمال کررہی ہے تاکہ تحریک انصاف گھبرا کر ان شرائط پر بات چیت کے لیے آمادہ ہوجائے جو حکومت اس کے سامنے پیش کرتی ہے۔
یہ قیاس کرنا بھی دشوار نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت کے پاس اس وقت عمران خان یا تحریک انصاف کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اگر تحریک انصاف بات چیت پر آمادہ ہو بھی جائے تو حکومت یہی مطالبہ کرے گی کہ وہ اسمبلیوں میں خاموش اپوزیشن کے کردار پر راضی ہوجائے، سڑکوں پر احتجاج بند کردیا جائے، ملک میں جمہوریت کے نام پر مظاہروں و احتجاج کی کوششیں نہ کی جائیں اور آئیندہ انتخابات تک اپنی باری کا انتظار کیا جائے۔ عام طور سے دباؤ کے ماحول میں پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت کام کرنے والی حکومتیں نیا انتخاب منعقد کرنے کا اعلان کرکے بحران سے نکلتی ہیں۔ اس طرح سب سیاسی فریقوں کو عوام کے فیصلہ پر اتفاق کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے شہباز شریف کی حکومت کے پاس نئے انتخابات کی پیش کش کا آپشن بھی موجود نہیں ہے۔
یہ آپشن اس وزیر اعظم یا حکومت کے پاس تو ہو سکتا ہے جو اپنے فیصلے خودکرنے پر قادر ہو۔ یا جسے معلوم ہو کہ اس نے اپنے دور حکومت میں عوامی بہبود کے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، اس لیے اسے عوام کے سامنے جانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ البتہ ایسا حوصلہ کرنے والی حکومتیں عام طور سے محض اقتدار پر قابض رہنے کی سیاست نہیں کرتیں بلکہ ان کا اختلاف کسی نہ کسی اصولی معاملہ پر ہوتا ہے ۔ کسی اصول سے انحراف کی بجائے یہ طے کیا جاتا ہے کہ عوام سے فیصلہ لے لیا جائے اور عوام کی اکثریت اگرمخالف سیاسی متبادل کو زیادہ وزن دیتی ہے تو نئی حکومت ملک کا انتظام سنبھال سکتی ہے۔ ایسے ہی انتظام میں کسی حکومت کو مخالفین کے خلاف مختلف بہانوں سے مقدمے بنانے اور ان کا حوصلہ پست کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ ایسا نظام صرف اسی وقت کام کرتا ہے جب اصولوں اور کسی خاص ایجنڈے کے لیے سیاست کی جائے۔ البتہ اگر سیاست کا واحد مقصد اقتدار حاصل کرنا یا کسی بھی طرح اس پر قابض رہنا ہو تو ایسے انتظام میں کوئی بھی حکومت اقتدار سے علیحدہ ہونے کا خطرہ مول نہیں لے گی۔ شہباز شریف بھی ایسی غلطی نہیں کریں گے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت اگرچہ دعویٰ کرتی ہے کہ اپوزیشن کو مذاکرات کرنے چاہئیں لیکن ان مذاکرات کے لیے جس ماحول یا بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ دکھائی نہیں دیتی۔ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے والی حکومتیں سیاسی مخالفین کے حق نمائیندگی سے انکار نہیں کرتیں ۔موجود ہ حکومت اور اس کی حامی جماعتوں نے مخصوص نشستوں کے معاملہ میں یہی طرز عمل اختیار کیا ہے اورتحریک انصاف کے حصے کی نشستوں پر قبضہ کرکے پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت کے گمان میں مبتلا ہیں۔ آج ہی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے نااہل ہونے والے ارکان کی خالی ہونے والی نشستوں پر مل کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ عمران خان کی طرف سے ان ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان سامنے آنے کے بعد یہ ضمنی انتخابات محض ڈھونگ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ تاہم اسمبلیوں کی سیٹوں پر قبضہ کرنے کی ہوس سے دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت کی طرف سے استحکام پاکستان کا نعرہ محض دکھاوا ہے۔ اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ تحریک انصاف کو مسلسل اس کے حق نمائیندگی سے محروم رکھا جائے۔ ایسی صورت میں تحریک انصاف تو کیا کوئی بھی پارٹی مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوگی۔
ہوس اقتدار کی مجبوری کے علاوہ شہباز شریف کی تو یہ مجبوری بھی ہے کہ وہ نئے انتخابات کا فیصلہ نہ تو میرٹ پر کرسکتے ہیں اور نہ ہی بحران سے نمٹنے کے لیے یہ اقدام کی جاسکتا ہے۔ وہ ہر فیصلہ کرنے کے لیے عسکری قیادت کی مرضی ماننے پر مجبور ہیں۔ موجودہ حالات میں تودس سالہ معاشی و انتظامی منصوبوں کی باتیں کی جارہی ہیں۔ ایسے میں انتخابات ثانوی ہوچکے ہیں۔ مقتدرہ کے بیانات کے بین السطور محسوس کیا جاسکتا ہے کہ ملک کو ایک طویل المدت مضبوط حکومت کی ضرورت ہے۔ بظاہر فوجی وقیادت یہ ضرورت پوری کرکے ملک و قوم اسے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اسی لیے شہباز شریف کے پاس مڈ ٹرم الیکشن کا آپشن موجود نہیں ہے۔ اس وقت عسکری قیادت کے خیال میں ’قومی مفاد‘ کی حفاظت کے لئے شہباز شریف ہی کا وزیر اعظم رہنا ضروری ہے۔ شاید یہ سمجھا جارہا ہے کہ ماؤں نے ایسے سپوت جننا بند کردیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ملک میں حکومتی عہدیداروں کی تبدیلی کی افواہیں شدت سے پھیلائی جاتی ہیں یا آرمی چیف بیرون ملک آباد پاکستانیوں کا اعتماد حاصل کرکے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت انتخاب، ووٹ، عوام کی خواہش کا قضیہ کرنے کا وقت نہیں ہے بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ معدنیات کے صرف ایک منصوبہ سے دو ارب سالانہ منافع ہوسکتا ہے۔ اسی لیے خواہ کسی تناظر میں بات کی جائے لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر کو برسلز میں یہ بتانا پڑا کہ ’اللہ کی بات ماننے والے فرشتے رہتے ہیں لیکن بات نہ ماننے والا شیطان بن جاتا ہے‘۔ ظاہر ہے شہباز شریف نہ صرف یہ کہ فرشتوں جیسا رہنا چاہتے ہیں بلکہ اس کے انعام میں اگر وزارت عظمی کے مزے بھی مل رہے ہوں تو اس سے انکار نہیں کرسکتے۔
حکومت خواہ کوئی وضاحت کرے لیکن سانحہ 9 کے مقدمات میں عمران خان کے بھانجوں شیرشاہ اور شاہ زیب خان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام اور دباؤ کا ہتھکنڈا ہی سمجھا جائے گا۔ یہ الگ معاملہ ہے کہ یہ ہتھکنڈے کامیاب ہونے کا امکان نہیں ہے۔