سوالوں کے جواب درکار ہیں؟

تمام مسائل ، پریشانی اور نکتہ چینی کے باوجود حکومت کا مؤقف واضح اور دو ٹوک ہے: ملک  معاشی ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ یہ بیانیہ پہلے بھی موجود تھا لیکن مئی کے دوران بھارت کے ساتھ عسکری مڈھ بھیڑ اور وائٹ ہاؤس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں  لنچ کے بعد اس مؤقف کو زیادہ تندہی اور جوش سے بیان کیا جارہا ہے۔ اب اس میں سفارتی کامیابی کا عنصر بھی شامل ہوچکا ہے۔

خطے میں صرف بھارت کے ساتھ تعلقات مشکلات کا شکار ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ایک  ایسا تعطل ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا ورنہ امریکہ سے لے کر بنگلہ دیش تک پاکستان اب اپنی سفارتی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ مدت کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار بنگلہ دیش کے دورے پر ہیں اور دونوں ملکوں میں برادرانہ تعلقات کی امید کی جارہی ہے۔ ٹرمپ کی بدولت پاکستان ، امریکہ کو عزیز ہوچکا ہے اور چین کی مہربانی سے افغان رہنما پاکستان کے مسائل سننے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں ۔ گو کہ دہشت گردی کے مسئلہ کا کوئی فوری اور پائدار حل دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی کابل کی طرف سے پاکستان کو مطلوب لوگوں کے گرفتار کرنے میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔

اس وقت لوگوں کی  توجہ  بارشوں اور سیلاب کی صورت حال  پر ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی علاقے سے ہلاکتوں کی المناک رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔ بیچ بیچ اگرچہ باقی معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے معافی تلافی کے سوال پر بھی رونق لگالی جاتی ہے ۔ پھر یوں لگتا ہے کہ حکومت اور ریاست مضبوط قدموں پر کھڑی ہے۔ اسی کا فرمایا ہؤا سچ ہے باقی سب جھوٹ  کا طوفان ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ  کیا حکمرانوں کو احساس ہے کہ   یہ طوفان صرف   خبروں  میں نہیں  بلکہ اس    کی جڑیں  عوام کے دلوں میں ہیں۔ مہنگائی، بدعنوانی، حکومت کی عدم توجہی شاید مسئلے   ہوں لیکن عام طور سے ملکی انتظام سے لاتعلق ہونے کا  احساس  اس حد تک راسخ ہورہا ہے کہ اس کے سامنے باقی سارے مسئلے چھوٹے اور بے معنی لگتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہؤا ہے کہ بھارت کے ساتھ براہ راست عسکری جھڑپوں میں پاکستان کو ایسی کامیابی نصیب ہوئی ہے جس  کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جارہا ہے، اس سے پہلے بھی ہم 1965 کی جنگ میں کامیابی پر 6 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان مناتے رہے ہیں لیکن یہ دعویٰ کرنے والے ہم تنہا  رہےہیں۔ دنیا نے عام طور سے اس  17 روزہ جنگ میں پاکستان کو ناکام ہی سمجھا تھا۔ اس کے بعد 1971 کا المناک سانحہ ہؤا۔ ملک کا آدھا حصہ علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا لیکن ہم نے باقی ماندہ پاکستان کو پورا سمجھ لیا  اور مشرقی حصے میں ناکامی کو بھارتی سازش  کا شاخسانہ قرار دے کر لوگوں کو فتح کے نشے سے مدہوش رکھا۔   تبدیل ہوتے وقت کے ساتھ میدان جنگ اب  صرف فائر پاور  تک محدود نہیں رہا بلکہ  یہ بھی اہم ہوچکا ہے کہ کسی معرکے میں ’زبان خلق‘ یعنی دنیا کیا کہتی ہے۔ پھر یک طرفہ طور پر یہ ڈھنڈھورا   پیٹنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ  کون جیتا۔ اب اس کا فیصلہ بیانیے یا عمومی تاثر  سے ہوتا ہے۔مئی کی جھڑپوں کے بعد یہ تاثر پاکستان کے حق میں ہے۔ بھارت اپنی آبادی، معاشی طاقت، جمہوریت کے دعوؤں اور سفارتی اہمیت کے باوجود اس تاثر کو تبدیل نہیں کرسکا۔

اس کے باوجود پاکستان  میں فوج کے لیے احترام و شکر گزاری کا وہ جذبہ دیکھنے میں نہیں آیا جو عام طور سے  کسی فاتح فوج کا حق ہوتا ہے۔ جتنی بڑی کامیابی پاکستان کی مسلح افواج نے مئی کے دوران بھارتی افواج پر حاصل کی تھی، پاکستانی عوام  نے اس پر ویسے جوش و خروش اور  گرمجوشی کا اظہار نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ضرور کہی جاسکتی ہے کہ   مہنگائی اور سماجی دباؤ کی وجہ سے لوگوں کو جنگ جیسے معاملہ  میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی ۔ اسی لیے  جنگ کے بعد  مسلح افواج اور اس کی قیادت   پر  سیاسی حکومت اور حکمران پارٹیوں نے  تو دا دو تحسین کے ڈونگرے برسائے  لیکن عوامی سطح پر ویسی  پزیرائی دیکھنے میں نہیں آئی جو پاک فوج کا استحقاق بنتا تھا۔ حیرت ہے کہ اس پہلو پر قومی سطح پر کوئی خاص  غور کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی  گئی۔

صدر   آصف زرداری اور  وزیر اعظم شہباز شریف نے جب  آرمی چیف عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے بیج لگا ئے۔ اس موقع کی سرکاری طور سے جاری ہونے والی تصویر   محرومی و فتحیابی کا ایک المناک مرقع ہے۔ تضاد اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ اس وقت ملک میں ایک پیج کی حکمرانی ہے، لہذا جب حکمرانی کے انتظام میں  شریک تین  کردار ایک ساتھ جمع ہوں تو انہیں مرقع کہنا  ہی مناسب ہے ۔ البتہ اس تصویر نے جو پیغام عام کیا اسے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں لنچ کی دعوت قبول کرکے اور  امریکہ و یورپ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن سے خطابات میں مزید واضح کردیا کہ کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ فوج ملک و قوم کی مکمل حفاظت  کرے گی۔ اس کی ہر پہلو پر نہ صرف نگاہ ہے بلکہ اس حد تک کنٹرول  بھی ہے کہ کوئی کام عوام کے مفاد کے خلاف نہ ہوسکے۔  برسلز کے جلسے میں تو فیلڈ  مارشل نے واضح کیا کہ   اللہ نے انہیں قوم کا محافظ بنایا ہے اور وہ اس پر مطمئن ہیں۔ ا س کے ساتھ ہی انہوں نے ملک کے  لیے دس سالہ معاشی منصوبے کے خطوط بیان کرتے ہوئے واضح کردیا کہ اہل پاکستان کو جو محافظ نصیب ہؤا ہے، وہ نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرے گا بلکہ  قوم کی دیگر شعبوں میں بھی پوری طرح دیکھ بھال کرے گا۔

حکومت فوج کے اس کردار پر مطمئن و شاد ہے۔ لیکن یہی  کردار ماضی کی یادوں کو زندہ کرکے خطرے کی گھنٹیاں بجاتا ہے اور سوالات سامنے لاتا ہے۔ ان سوالات کا جواب  یا تو موجود نہیں ہے  یا  یہ جواب  دینے سے گریز کیا جارہا ہے  ۔  پاکستان 78 کی مختصر تاریخ میں متعدد تجربات کرچکا ہے۔ ان میں  چار ادوار ایسے بھی گزرے ہیں جب فوج کے سربراہ نے مرد آہن کا کردار ادا کرتے ہوئے قوم کو ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ان میں سے اگر جنرل یحییٰ خان کے دور کو نظر انداز بھی کردیا جائے کہ ایک تو یہ مختصر تھا ، دوسرے سقوط مشرقی پاکستان  پر اس کا اختتام ہؤا۔  لیکن باقی تین ادوار جن میں ایوب خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف کے دور شامل ہیں۔ ان میں سے ہر دور تقریباً ایک دہائی پر محیط رہا۔ ا س  بحث سے قطع نظر کہ ان دہائیوں میں کتنی ترقی ہوئی اور قوم کون سے نئے سنگ میل عبور کرنے میں کامیاب ہوئی، تاریخ کا مختصر سبق یہ ہے  کہ ہر آمرانہ دور کے بعد  قوم نے از سر نو اپنے سفر کا آغاز کیا۔   پاکستانی تاریخ کے یہ ادوار ایسے سفر کی کہانی ہیں جس کے لیے ترقی معکوس کی اصطلاح مستعمل ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ انتظام  ان  ادوار سے مخٹلف ہے جو  ماضی قریب میں محرومی و خسارے کی علامت  بنے تھے۔ آج کے پاکستان میں شاید ہی کوئی شہری   ایوب، ضیا یا مشرف دور کی کامیابیوں کے بارے میں کچھ بتاسکے یا تعریف کے دو بول  کہتا دکھائی دے۔ حالانکہ ان تمام لیڈروں کی پشت پر فوج کی طاقت اور نگاہ ترقی پر مرکوز تھی لیکن کب  نگاہ چوکی اور کہاں غلطی  ہوئی؟  پاکستانی قوم کو اس کا جائزہ لینے اور اس سے سبق سیکھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہ تو واضح ہے کہ جو مسافر  بعداز وقت گزرے سفر کی غلطیوں کا جائزہ لے کر نئی منصوبہ  بندی کے ساتھ  آگے بڑھنے کا  ارادہ نہ کرے ، اس کا نیا سفر بھی رائیگاں جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔  شاید یہی خوف  اہل پاکستان کو ہراساں کیے ہوئے ہے۔

ایوب خان نے دس سال ان سیاست دانوں کو منظر نامہ سے ہٹانے میں صرف کیے جو ان کے اقتدار کے لیے خطرہ ہوسکتے  تھے۔ نتیجے میں ان کے اپنے کمانڈر انچیف نے انہیں گھر بھیج دیا۔ ضیاالحق نے ساری مدت  ذوالفقار علی بھٹو کو مٹانے اور پیپلز پارٹی کا خاتمہ کرنے میں گزاردی۔ اور جب ان کا بلاوا  آیا تو اسی بھٹو کی بیٹی نے ملک کی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ پرویز مشرف نے  اپنی ساری طاقت  نواز شریف اور ان کی پارٹی کو  ختم کرنے میں گزاری اور جب وہ  مارچ 2008 میں یوسف رضا گیلانی کی کابینہ سے حلف لینے پر مجبور ہوئے تو اس میں مسلم لیگ (ن) کے9 وزرا بھی اس میں  شامل تھے۔

منظر نامہ یوں ہے کہ اس وقت  ایک نیافیلڈ مارشل مدارالمہام ہے۔ گو کہ سول حکومت بھی موجود ہے لیکن اس کے اختیارات کے بارے میں شبہات  ہیں جبکہ عاصم منیر  چھڑی کی نوک  سے  ملک و قوم  کی ترقی کا نیا نقشہ ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ تاہم اس دور پر ماضی کا سایہ عکس کیے ہوئے ہے کیوں کہ اس بار بھی اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کی بجائے ایک لیڈر اور ایک پارٹی کو ختم کرنے کے لیے پوری ریاستی قوت صرف کی جارہی ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ جو کام ماضی کے تین ادوار میں پایہ تکمیل  تک نہیں پہنچ سکا، کیا اس بار پورا ہوجائے گا؟ یا اس عہد زریں کے بعد بھی  قوم کو خزاں کے ایک نئے موسم کا  سامنا ہوگا؟