پاکستان، غزہ اور عرب ممالک
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 25 / اگست / 2025
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے ’گریٹر اسرائیل‘ کے بیان کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ جد ہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات و عزائم علاقائی امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ یہ اجلاس غزہ میں انسانی صورت حال اور اسرائیلی جارحیت پر غور کرنے کے لیے منعقد ہؤا تھا۔
وزیرخارجہ کے بیان سے یوں لگتا ہے کہ جیسے پاکستان اسرائیل کے خلاف کسی محاذ آرائی کی قیادت کا ارادہ رکھتا ہے یا وہ اس بات سے بے خبر ہے کہ عرب ممالک اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یوں بھی اسلامی تعاون تنظیم کو ’کاغذی شیر‘ بھی قرار دینا ممکن نہیں ہے۔سعودی عرب کی سرپرستی میں قائم یہ تنظیم کبھی کسی مسئلہ کا کوئی حل پیش کرنے یا اس میں کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ البتہ تقریریں کرنے اور بیانات داغنے کے لیے اس پلیٹ فارم کو خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تنظیم کا حوالہ دے کر تمام مسلمان لیڈر اپنے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلسطینی عوام کو درپیش مسائل و پریشانیوں سے نہ صرف یہ کہ آگاہ ہیں بلکہ انہیں حل کرانے میں بھی سر دھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔
اس کے برعکس حقیقی صورت حال یہ ہے کہ او آئی سی میں شامل تمام ممالک مل کر بھی کوئی ایسا فارمولا پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے نہ صرف غزہ میں اسرائیلی جنگ جوئی کا خاتمہ ہو بلکہ مستقبل قریب میں بھی فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان براہ راست عسکری کارروائیوں کی روک تھا م کی جاسکے۔ لیکن اسلامی تعاون تنظیم کے اس اجلاس کے علاوہ فلسطین کے موضوع پر منعقد ہونے والے کسی اجلاس میں بھی اصل تنازعہ حل کرنے کی بات زبان پر نہیں لائی جاتی۔ اس تنازعہ کے حوالے سے یہ یک طرفہ مؤقف ضرور دہرایا جاتا ہے کہ اسرائیل دو ریاستی حل تسلیم کرے، مغربی کنارے پر یہودی بستیاں ختم کی جائیں اور غزہ میں جنگ بند کرکے امن کا راستہ اختیار کیا جائے۔
تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ اسرائیل و امریکہ اور کسی حد تک ان کے باقی مغربی حلیفوں کا بنیادی تنازعہ کے حوالے سے مؤقف بالکل مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فسلطینیوں کی طرف سے مسلسل مسلح جد و جہد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اسرائیل مجبوری کے عالم میں ’اپنے دفاع‘ کے لیے جنگ جوئی پر مجبور ہوجاتا ہے۔ جیسے اس اسرائیلی مؤقف کو یک طرفہ کہا جائے گا ، بالکل اسی طرح مسلمان ممالک یا او آئی سی ممالک کے مؤقف کو بھی یک طرفہ اور انتہائی کہا جاسکتا ہے۔ فلسطینی ریاست کا قیام یقیناً اس دیرینہ تنازعہ کا حقیقی حل ہے کیوں کہ اس طرح فلسطینیوں کو اپنا ملک حاصل ہوجائے گا اور انہیں اسرائیل سے لڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ البتہ یہ مقصداسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب خطے میں امن ہو اور اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کے نعرے لگانے کا سلسلہ بند ہوسکے۔
اس صورت حال میں سفارتی چابکدستی تو یہ ہوگی کہ ان دو انتہائی نقطہ نظر کے درمیان کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے جو تنازعہ ختم کرنے اور جارحیت کی روک تھام کی بات کرتا ہو۔ اگر اسرائیل کو یک طرفہ طور سے قصور وار ٹھہرا کر صرف اپنے اپنے عوام کی تسلی کے لیے بیان بازی کی جائے گی تو غزہ کی جنگ یا فلسطین کے قیام کا مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ موجودہ حالات میں اسرائیل کی ناانصافی پر مبنی شدید جارحیت کی وجہ سے شاید اسرائیل کو سفارتی طور سے قبول کرنا درست طریقہ نہ ہو۔ لیکن مسلمان ممالک اگر اسرائیل کو بطور حقیقت ماننے پر آمادہ ہوسکیں تو اس تنازعہ کو حل کرنے میں اہم پیش رفت کا آغاز ہوسکتا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں اسرائیل اپنے ’حق دفاع‘ کا مقدمہ اس لیے کامیابی سے پیش کرنے میں کامیاب ہوتا ہے کیوں کہ مسلمان ممالک سفارتی تعلقات اور اسرائیل کے وجود کو ایک اٹل حقیقت، کے درمیان فرق واضح کرنے اور یہ اعلان کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے کہ کوئی اسرائیل کو تباہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ۔اسرائیل اگر فلسطینیوں کو حقوق دینے پر آمادہ نہیں ہوگا تو اسے سفارتی طور سے تسلیم کرنا بھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔
اس قسم کا اعلان سارا سفارتی دباؤ اسرائیل کی طرف منتقل کرسکتا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس وقت یہ دباؤ ان ممالک پر ہے جو بالواسطہ یا بالواسطہ طور سے اسرائیل ختم کرکے فلسطین قائم کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ یا کم از کم ان کے لیڈر اپنے عوامی بیانیہ میں یہی تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے خیال میں ہر مسلمان ملک کے عوام فلسطینیوں کے حامی اور اسرائیل کے خلاف ہیں۔ اسرائیل کو نیست و نابود کرنے والے رویہ کی سربراہی ایران کرتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کو پہلے ایران اور اس کے ہم خیال ملکوں کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ کرنا چاہئے۔ اگر او آئی سی کے کسی اجلاس کے بعد یہ اعلامیہ سامنے آئے کہ سارے مسلمان ملک اسرائیل کو ایک حقیقت مانتے ہیں لیکن اب اسرائیل بھی یہ ثابت کررے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست ہے جو توسیع پسندی پر یقین نہیں رکھتا اور انسان دوست رویہ اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔ ایسی حکمت عملی مسلمان ممالک کو ایک نئی سفارتی قوت کے طور پر سامنے لاسکتی ہے۔
غزہ کا حالیہ تنازعہ حماس کی طرف سے پہل کے بعد شروع ہؤا تھا۔ اس حملے میں حماس کے جنگجوؤں نے 1200 اسرائیلیوں کو ہلاک کیا اور تین سو سے زائد کو اغوا کرکے لے گئے۔ انہیں یرغمالیوں کو ڈھال کے طور استعمال کرتے ہوئے حماس خود کو اسرائیل کے غضب سے بچانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اسرائیل کی ضرور مذمت ہونی چاہئےلیکن او آئی سی کے ممالک کو یہ بھی تو ماننا چاہئے کہ 7 اکتوبر2023 کواسرائیل پر حماس کا حملہ بھی تمام بنیادی انسانی اصولوں کے خلاف تھا۔ عورتوں و بچوں سمیت شہریوں کو ہلاک کرنے والی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کی جاسکتی ۔ مسلمان لیڈر اگر غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کو نمایاں کرنے کے جوش میں حماس کی پہل اور اس کے غیر انسانی اقدامات کو غلط قرار نہیں دیں گے تو کوئی ان کی بات سننے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ عمومی مباحث میں ضرور یہ دلیل دی جاتی ہے کہ حماس کے حملے میں صرف بارہ سو اسرائیلی مارے گئے تھے لیکن اسرائیل نے ساٹھ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کردیا۔ دیکھنا اور سمجھنا چاہئے کہ یہاں بات اعداد و شمار کی نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کے اصول کی ہے۔ مسلمان اگر یہ مانیں گے کہ انسانوں کو مارنا ناجائز ہے تب ہی وہ غزہ میں اسرائیلی ظلم کی مذمت کرسکیں گے۔
اس وقت صرف اسرائیل یا امریکہ ہی نہیں بلکہ شاید سب عرب ممالک حماس کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن اس مؤقف کو کھل کر بیان نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو کو جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم کا اظہار کرنے کا موقع ملتا ہے۔ او آئی سی ممالک کو اپنی سفارتی حکمت عملی میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ معاملات کو دور سے اور تمام زاویوں سے دیکھتے ہوئے پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ عرب ممالک کی درست سمت رہنمائی کرسکے۔ اس کے برعکس اسحاق ڈار خود بڑھ چڑھ کر اسرائیل کے خلاف بیان بازی کا شوق پورا کررہے ہیں تاکہ پاکستان میں ان کی واہ واہ ہوسکے۔ سفارت کاری کا مقصد عوام کی خوشنودی نہیں بلکہ تنازعہ کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اسحاق ڈار کی سربراہی میں پاکستانی وفد اس حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کرسکا۔
پاکستان ضرور فلسطینی کاز کی حمایت کرے اور اسرائیل کی مذمت کرے لیکن حکومت پاکستانی عوام اور عرب ممالک پر یہ بھی واضح کرے کہ پاکستان کا براہ راست اسرائیل کے ساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے ۔ وہ صرف فلسطینیوں کی محرومی کی وجہ سے ان کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم پاکستان نے دہائیوں تک فلسطینی کاز کے لیے پوری قوت سے آواز بلند کی ہے لیکن اسے اپنے برادر اسلامی ممالک کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے معاملہ میں ویسی اعانت حاصل نہیں ہوئی۔ کسی عرب ملک نے کبھی اس وجہ سے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع یا محدود کرنے کی بات نہیں کی کہ وہ کشمیری عوام پر جارحیت اور انسانیت سوز مظالم کا مرتکب ہورہا ہے۔
نیتن یاہو کا ’گریٹر اسرائیل‘ کاخوب بھی اگر عملی صورت اختیار کرتا ہے تو اس سے عرب ممالک متاثر ہوں گے۔ اسرائیل نے پاکستان کے کسی علاقے کو اپنا حصہ بنانے کا اعلان نہیں کیا۔ ایسے میں اسحاق ڈار کو بھی یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ جیسے پاکستان، اسرائیل عزائم کے مقابلے میں اترنے کی تیاری کررہا ہے