اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہرے
اسرائیل میں ہزاروں افراد ایک بار پھر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں غذائی قلت کے باعث مزید تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
آج اسرائیل بھر میں غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے خاتمے اور حماس کے قید میں موجود باقی ماندہ یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ہزاروں افراد مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرے یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کے فورم کی جانب سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ یہ فورم ایک طویل عرصے سے اسرائیل کی حکومت سے یرغمالیوں کی رہائی کو ترجیح دینے اور جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتی آئی ہے۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں میں تیزی لا رہا ہے جبکہ غزہ شہر پر قبضے سے قبل اس کی فوج نے شہر پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ گزشتہ روز غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک ہسپتال پر اسرائیلی حملے میں پانچ صحافیوں سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کی اسرائیل کے اپنے اتحادیوں نے بھی مذمت کی تھی۔
اسرائیل کے متعدد علاقوں میں غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرے منگل کی صبح سے جاری ہیں۔ مظاہرین نے تلِ ابیب کے قریب ایک مرکزی شاہراہ کو بلاک کر رکھا ہے، جہاں انہوں نے ٹائر نذر آتش کیے اور اپنی گاڑیاں سڑک پر کھڑی کرکے ٹریفک کو بلاک کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ غزہ میں جاری تنازع اگلے ’دو سے تین ہفتوں‘ میں ختم ہو سکتا ہے۔ اسرائیل میں احتجاجی مظاہرین چاہتے ہیں کہ امریکی صدر اس ڈیل کو حتمی شکل دینے میں مدد فراہم کریں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ہسپتال پر اسرائیلی حملے کو ’المناک حادثہ‘ قرار دیا ہے اور ’تفصیلی تحقیقات‘ کا وعدہ کیا ہے۔