پاکستان یا تضادستان؟

ہمارے ایک کالم نگار دوست سہیل وڑائچ نے بہت پہلے سے پاکستان کا نام تضادستان رکھا ہوا ہے۔ سہیل وڑائچ ان چند گنے چنے کالم نگاروں اور اینکرز میں سے ہیں جو لکھتے یا بولتے ہوئے دل کی کچھ بھڑاس بھی نکال لیتے ہیں۔

بھڑاس نکالنے کا مطلب سچ لکھنا یا بولنا ہے۔ ان دنوں وڑائچ صاحب یورپ میں ہیں اور ملک میں ان کا بے تابی سے انتظار بھی ہو رہا ہے کیونکہ اب انہوں نے جو سچ بولا ہے شاید وہ گلے پڑ گیا ہے۔ بہرحال پاکستان کا پہلا بڑا تضاد یہ ہے کہ ہر بندہ آدھا سچ بولنا اور سننا چاہتا ہے۔ مطلب اگر پی ٹی آئی کے حوالے سے کچھ سچ لکھ دیا جائے یا بول دیا جائے یا پھر ان کے تضادات اور یو ٹرن پر کوئی سوال کر دیا جائے تو وہ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور دوسروں کے لباس بھی نوچ لیتے ہیں۔ لیکن اگر یہی سچ دوسری جماعتوں کے خلاف جاتا ہو تو پی ٹی آئی والے خوش ہوتے ہیں مگر دوسری جماعتوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں۔ لیکن جو کالم نگار سچ لکھنے یا اینکر سچ بولنے کا عادی ہے، وہ تو یہ دیکھے بغیر بے لاگ تبصرہ کرے گا کہ یہ کس کے خلاف یا کس کے حق میں جاتا ہے۔ اس لیے سچ بولنے اور لکھنے والوں پر سب ہی ناراض رہتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ سچ بولے اور لکھے بغیر ہم اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھ سکتے ہیں نہ اپنے ملک کو تضادستان سے نکال سکتے ہیں۔

اب آئیے اپنے تضادات ملاحظہ فرمائیے۔ اس خاکسار نے 14 اگست سے پہلے والے کالم میں قیام پاکستان کے مقاصد پر سوالات اٹھائے تھے اور گزارش کی تھی کہ اب اس بحث کو ختم ہونا چاہیے کہ پاکستان کیوں یا کس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا۔ بلکہ اس بنے ہوئے ملک میں ہمیں کسی ایک بات یا ایک نظام پر متفق ہو کر آگے بڑھنا چاہیے۔ ابھی تک ہم یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ اس ملک میں کون سا نظام ہوگا، ہماری زبان کیا ہوگی اور اس ملک کا چیف ایگزیکٹو کون ہوگا؟ ابھی تک یہ ملک آمریت کے زیر اہتمام چل رہا ہے۔ تاہم اب عوام آمریت کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں، ہمارا انگریزی زبان میں لکھا گیا آئین کہتا ہے کہ پاکستان کی دفتری زبان اردو ہوگی، ہماری سپریم کورٹ اردو زبان کو رائج کرنے کا فیصلہ انگریزی میں لکھتی ہے۔ جس ملک کی اپنی زبان کی قدر نہیں ہوتی اس ملک کی قوم بکھرا ہوا ایسا گلدستہ ہوتی ہے جس میں خوشبو نہیں ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کو متحد رکھنے کے لیے ایک قومی زبان ہوتی ہے اور اس ملک کے تمام فیصلے اس کی قومی زبان میں ہی لکھے جاتے ہیں۔ اس ملک کے ہر دفتر میں قومی زبان لکھی اور بولی جاتی ہے۔

بھارت 115 زبانوں اور بیسیوں ریاستوں کا ایک وفاق ہے مگر ان کی دفتری زبان ہندی ہے اور ان کے تمام سرکاری پیپروں میں ہندی لکھی جاتی ہے۔ ان کی ہندی فلموں نے ہندی زبان کو یورپ اور افریقہ تک پہنچا دیا ہے، ہمارے بچے بھی اردو سے زیادہ ہندی سمجھنے اور بولنے لگے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ تضاد اس لیے بھی رکھا گیا ہے تاکہ اشرافیہ اور عوام میں فرق نظر آتا رہے۔ دوسرا بڑا تضاد 73 کا آئین بناتے وقت مذہبی جماعتوں کے دباؤ پر آئین میں لکھ دیا گیا کہ اس ملک میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا۔ مگر قانون بنانے والوں میں دو فیصد لوگ بھی قرآن کو سمجھتے ہیں، نہ سنت کا علم رکھتے ہیں۔ اور ملک میں بیسیوں ایسے قوانین موجود ہیں جو قرآن و سنت کے ساتھ پوری مطابقت نہیں رکھتے۔ ایک طرف ایسے قوانین ہیں جو اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے تو دوسری طرف اتنی بڑی منافقت یہ ہے کہ لوگ کسی بھی قانون پر عمل نہیں کرتے اور سب سے پہلے وہی لوگ قانون توڑ دیتے ہیں جنہوں نے بنایا ہوتا ہے۔ یا جنہوں نے نافذ کرنا ہوتا ہے۔

ہماری مقتدرہ خود کو پاکستان کے تمام قوانین سے بالاتر سمجھتی ہے، ہمارے حکمران، جاگیردار، سرمایہ دار اور مذہبی راہنماؤں سمیت ہر وہ بندہ قانون توڑنے پر فخر کرتا ہے جس کے پاس طاقت یا ایسے مواقع ہوتے ہیں۔ ملک میں شراب حرام ہے مگر شاید ہی کوئی شہر، گاؤں یا محلہ ہوگا جس میں کوئی شراب پینے والا نہیں رہتا ہوگا۔ اس ملک کے حکمران اپنے اٹھائے گئے حلف پر قائم رہتے ہیں نہ اسٹیبلشمنٹ یا بیوروکریٹس اپنے حلف کا پاس رکھتے ہیں۔ ہماری عدالتوں کی تاریخ سب سے بھیانک ہے جنہوں نے سینکڑوں متنازعہ فیصلے دئیے یا آمریت کے دباؤ میں آ کر آئین کو بھی توڑنے سے اجتناب نہیں کیا۔ ایک اسلامی ملک کو کئی طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے۔ دین کا ٹھیکہ مولانا حضرات کو دے دیا ہوا ہے جیسے صرف وہی مسلمان ہوں۔ لیکن جب مولانا حضرات سیاست میں آتے ہیں تو انہیں مسترد کر دیا جاتا ہے کہ کہیں ملک میں اسلام نافذ نہ ہو جائے۔

یہ بھی بہت بڑا تضاد ہے کہ جو بھی ملک کا سپہ سالار بنتا ہے۔ سب اس کی قربت چاہتے ہیں، ہر جگہ اس کی تصاویر لگائی جاتی ہیں۔ سیاستدانوں کی کوئی تقریر ایسی نہیں ہوتی جس کے اندر سپہ سالار کی خوشامد نہ ہو لیکن جیسے ہی وہ سپہ سالار ریٹائر ہو جائے پھر قصہ پارینہ ہوتا ہے۔ اس کی تعریفوں کی بجائے اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کا کسی بھی طرح کا احتساب کر سکے۔ لیکن اگر وہ سیاست میں آئے تو کوئی اسے ووٹ نہیں دیتا۔ یوں تو اس ملک میں اتنے زیادہ تضادات ہیں کہ جو ایک کالم تو کیا ان پر ایک کتاب بھی لکھی جائے تو کم ہے۔ لیکن سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ اٹھتے بیٹھتے کہتی ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ہم سیاست اور سیاستدانوں کے معاملات میں بالکل بھی مداخلت نہیں کرتے اور ہم ملک میں جمہوریت کو پھلتے پھولتے دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ (شاید اسی لیے کچھ برسوں بعد جمہوری پودے کو اکھاڑ کر اس کی جڑیں دیکھتے ہیں کہ کتنی لمبی ہو چکی ہیں )۔

میرے خیال میں یہی وہ بڑا تضاد ہے جس کے بطن سے ہزاروں تضادات جنم لیتے ہیں اور ملک میں منافقت اور بے اعتباری میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔