سیلابی صورتِ حال اور اس کا تدارک
- تحریر طارق محمود مرزا
- منگل 26 / اگست / 2025
اس سال سڈنی میں موسم سرما میں بارشوں کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ جولائی اور اگست جو ویسے بھی سال کے سرد ترین مہینے ہوتے ہیں ان میں بارشوں کا سلسلہ تقریباً جاری ہے۔ صرف اگست میں آج ( 22 اگست) تک 370 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو چکی ہے۔
یہ اگست میں سب سے زیادہ بارشوں کے تیسرے نمبر کے ریکارڈ 378 ملی میٹر (1899 میں) کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ابھی اگست کے چند دن باقی ہیں، لگتاہے کہ یہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ یعنی جولائی میں 169 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے جو بذات خود بہت زیادہ ہے ۔ عملی طور پر پچھلے دو مہینے سے یہاں بارشوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ دن ہو یا رات بارش کی جلترنگ سنائی دیتی ہے۔ جب بھی باہر نکلیں چھتری لے کر نکلنا پڑتا ہے اور بارش میں گاڑی چلانی پڑتی ہے۔ لیکن اتنی بارشیں ہونے کے باوجود نہ تو اس کی وجہ سے کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا ہے۔ نہ سڑکیں بند ہوئیں اور نہ عمارات گرنے، سڑکیں اور پل ناکارہ ہونے یاد دیگر رسل ورسائل متاثر ہونے کی کوئی خبر آئی ہے۔ اتنی زیادہ اور شب و روز بارش کے بعد بھی معمولات زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ لوگ ویسے ہی کام کاج پر آ جا رہے ہیں ۔
ادھر وطن عزیز کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حال ہی میں 145 ملی میٹر بارشیں ہوئی ہیں۔ جو اگرچہ بارشوں کا طویل سلسلہ ہے لیکن سڈنی کے مقابلے میں نصف مقدار بھی نہیں ہے۔ لیکن کراچی میں اس بارش کے نتائج اور مضمرات کا جائزہ لیا جائے تو وہ تباہ کن نظر آتا ہے ۔ بیس افراد کی موت کی خبر آئی ہے، ہزاروں گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور کاروباری طبقے کے مطابق اب تک 15 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ پورا انفراسٹرکچر ناکام نظر آتا ہے۔ سڑکیں تالاب اور ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں ۔ پانی گھروں، دُکانوں اور دفاتر میں گھس آیا ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنا کاروبار اور جانیں بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثر ہونے والوں کو بچانے اور ان کی مدد کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جس میں پاک فوج اور نجی فلاحی تنظیمیں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ الخدمت تنظیم ہمیشہ کی طرح پیش پیش ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر سے امداد جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ آسٹریلیا میں ماشا اللہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی فلاحی تنظیموں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بیشتر نے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر امداد کی اپیل بھی کر دی گئی ہے ۔
ادھر پاکستان کے صوبے خیبر پختون خوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے قیامت صغریٰ برپا کر دی ہے ۔ طوفانی ریلوں نے کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹا دیے ۔ گھر ،گاڑیاں ، فصلیں اور جانور بہ گئے ہیں۔ کم از کم 776 لوگ اس سیلاب میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں 200 سے زائد بچے ہیں۔ جبکہ ایک ہزار سے زائد لوگ زخمی ہیں۔ مرحومین اور زخمیوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ ابھی مون سون کی بارشوں اور سیلاب کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس کا دائرہ پنجاب اور سندھ تک پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اور بہت بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات ہو سکتے ہیں۔ کراچی میں ان بارشوں سے اس قدر نقصانات کی سب سے بڑی وجہ نکاسی آب کا ناقص انتظام ہے ۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ساٹھ کی دہائی میں نکاسی آب کا جو انتظام کیا گیا تھا، وہ آبادی کے کئی گنا بڑھنے کے بعد ناکافی ہے ۔ کراچی میں نکاسی آب کے لیے نالے بنائے گئے تھے جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھنے او رپھیلنے کے بجائے ناجائز آبادیوں اور قبضہ مافیا کی وجہ سے سمٹتے اور سائز میں چھوٹے ہو تے گئے۔ کرپشن اور سیاسی کشمکش میں شہر کے فلاحی منصوبے پس پشت ڈالے جاتے رہے ۔ کچی آبادیوں اور ناجائز قابضین کو قانونی سند دے کر لاقانونیت کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ۔
دوسری وجہ ان نالوں کی بروقت اور مکمل صفائی نہ ہونا ہے ۔ نالے تنگ اور بند ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی روانی سے نہیں بہتا بلکہ کناروں سے نکل کر آبادیوں میں پھیل جاتا ہے اور اس قدر نقصان پہنچاتا ہے ۔ اچھی گورننس، بہتر سیوریج سسٹم اور بروقت صفائی سے اس نقصان سے بچاجا سکتا ہے۔ اس کے لیے کچھ فوری نوعیت کے اور کچھ لمبے عرصے والے منصوبے بنانے کی اور ان پر عمل در آمد کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو بھی اپنے شہر کو صاف ستھرا رکھنے، انتظامیہ اور حکومت سے تعاون کرنے اور ایمان دار لوگوں کو منتخب کرنے کی ضرورت ہے جو کرپشن کے بجائے خدمت کے جذبے سے مزین ہوں۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں تقریباً ہر سال اس طرح کے سیلاب اور مون سون کی تباہ کن بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے شہروں میں آبادی کی بے تحاشا منتقلی، جنگلات کی کمی، انفراسٹرکچر کی کمی، دریاؤں کی مینجمنٹ کا نہ ہونا اور طویل منصوبوں کا فقدان اس تباہی کی بڑی وجوہات ہیں۔ لیکن ان سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ درجہ حرارت بڑھنے سے بادلوں میں پانی کا ذخیرہ اس قدر جمع ہو جاتا ہے کہ وہ قہر بن کر برستا ہے اور سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے۔ شہروں، قصبوں اور گاؤں میں تعمیرات کی وجہ سے پانی زمین میں نہیں سما پاتا ۔ بلکہ سیلاب کی شکل میں تباہی پھیلاتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے۔ اگر اس پانی کو ذخیرہ کیا جائے اس کے راستے تبدیل کیے جائیں تو سیلاب کا سلسلہ کم کیا جا سکتا ہے۔ صرف دریا کے دونوں کناروں پر جنگلات اُگانے سے نہ صرف سیلابی زور کم کیے جا سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت اور مجموعی موسمی صورتحال کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
شہروں اور دیہاتوں میں گھاس کے میدان، پارک، باغات وغیرہ بڑھانے سے کافی فرق پڑے گا۔ سڈنی میں گھروں فرنٹ یارڈ، بیک یارڈ، فٹ پاتھ کے کنارے گھاس کی پٹیاں ، جگہ جگہ بنے پارک، گولف کورس حتیٰ کہ شہر کے اندر بنے جنگلات پانی جمع کرتے ہیں اور بعد میں مہینوں سرسبز و شاداب رہتے ہیں ۔ محکمہ موسمیات کو بہتر بنانے ، بروقت آگاہ کرنے اور قبل از وقت انتظامی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ دنیا میں ایسے کئی ملک اور شہر ہیں جو سمندر کے اندر بسائے گئے ہیں اور کئی شہر سطح سمندر سے نیچے آبادہیں۔ آخر وہ بھی تو قائم دائم ہیں اور نقصانات سے بچے ہیں ۔ دُنیا سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے ۔ ہر سال سیلاب آتا ہے، بے تحاشا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ عارضی امداد اور شور شرابا ہوتا ہے ۔ ہم کشکول لے کر دنیا بھرسے امداد لینے نکل پڑتے ہیں ۔ اس میں سے تھوڑا بہت متاثرین پر خرچ کرتے ہیں باقی جیبوں میں ڈال کر اگلے سال پھر اس تباہی کا نظارہ کر رہے ہوتے ہیں۔ سالہا سال سے اتنا نقصان اٹھانے کے بعد بھی ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔ شاید سیکھنا ہی نہیں چاہتے، نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سلسلے میں اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ آخر ہم کب تک ان قوموں سے ملنے والی امداد پر انحصار کرتے رہیں گے جنہیں ہم نظریاتی مخالف بھی سمجھتے ہیں۔ ہم زندہ قوم کی طرح اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ ان سیلابوں کو روکا بھی جا سکتا ہے اور ان کا رخ بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ مصمّم ارادہ ہو اور نیک نیتی سے اس پر عمل کیا جائے۔