ٹرمپ کے لاڈلے سرجیو گور کی بھارت میں بطور سفیر نامزدگی
- تحریر نصرت جاوید
- منگل 26 / اگست / 2025
بھارتی وزارت خارجہ سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے ”امریکہ شناس“ افسران کی اکثریت ”مودی کے گودی میڈیا“ کے اینکروں کو یقین دلائے چلے جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے 38 سالہ سرجیو گور کی بھارت میں بطور سفیر نامزدگی اچھے کی خبر ہے۔
مئی 2025 کے ابتدائی ایام میں ہوئی پاک۔ بھارت جنگ کے دوران ٹرمپ کے اپنائے رویے نے مگر اینکروں کا دل توڑ رکھا ہے۔ وہ اس امر پر بھی بہت نالاں ہیں کہ ان کے ملک کو روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ نے بھاری بھرکم جرمانے کی صورت امریکہ بھیجی بھارتی مصنوعات پر 50 فی صد ٹیکس لاگو کر دیا ہے۔ سرجیو گور کی بطور سفیر نامزدگی گودی میڈیا کو مذکورہ پس منظر کی بدولت پنجابی محاورے والا ”مور اوور“ محسوس ہو رہی ہے۔ کلیدی وجہ اس کی یہ بھی ہے کہ گور کی محض بھارت میں امریکہ کا سفیر ہی نامزد نہیں کیا گیا۔ اسے امریکی صدر نے جنوبی اور وسطی ایشیا کے تمام ممالک سے معاملات طے کرنے کے لئے ”خصوصی سفیر“ بھی مقرر کر دیا ہے۔ یوں بھارت کی ”خصوصی حیثیت“ ختم کرتے ہوئے اسے محض ”جنوبی ایشیا“ کا ایک ملک تصور کیا گیا ہے جس کا ہمسایہ پاکستان بھی ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کے معاملات ہمیشہ کشیدہ ہی رہے ہیں۔
بھارت کی طویل عرصے سے خواہش رہی ہے کہ دیگر ممالک خصوصاً امریکہ بھارت کو پاکستان سے ”جڑا“ ملک تصور نہ کرے۔ اپنی آبادی اور معیشت کی وجہ سے ”پرانی تہذیب کا یہ وارث“ خصوصی توجہ کا حقدار ہے۔ ”انڈو۔ پاک“ کی اصطلاح اسے پاکستان جیسے ”کم تر“ ممالک کے برابر بنا دیتی ہے۔ بھارت کو پاکستان کے ساتھ ملا کر دیکھنے سے یہ امکان بھی موجود رہتا ہے کہ امریکہ جیسے عالمی اثر و رسوخ کے حامل ملک جنوبی ایشیاکے دو ازلی دشمنوں کے درمیان مصالحت کروانے کی کوشش کریں۔ ایسی کوشش ہو تو مسئلہ کشمیر بھی زندہ ہوجاتا ہے جسے مودی سرکار اپنے تئیں اگست 2019 میں ”حل“ کرچکی ہے۔
پاکستان سے ہٹا کر بھارت کو دیکھنے کی تمنا بالآخر بش حکومت کے آخری دنوں میں بارآور ثابت ہوئی۔ اس کے بعد آئی اوبامہ حکومت نے نہایت ہوشیاری سے ”انڈو۔ پاک“ کے بجائے ”انڈو۔ پیسفک“ کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کردی۔ مقصد اس کا بھارت سے کہیں زیادہ دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ سردجنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کی واحد سپر طاقت کی صورت میں اْبھرا امریکہ اب دفاعی اور اقتصادی اعتبار سے بھارت کو چین کے برابر لانا چاہ رہا ہے۔ ٹرمپ کا سابقہ دورِ صدارت مذکورہ سوچ کا بھرپور اظہار تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ملک جاکر عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ ٹرمپ۔ مودی بھائی بھائی کا شور مچ گیا۔ اس دور کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھارت کو قوی امید تھی کہ وائٹ ہاؤس لوٹ آنے کے بعد ٹرمپ امریکہ۔ بھارت تعلقات کو توانا تر بنائے گا۔ ٹرمپ نے مگر بھارت کی نگاہ میں مئی کی پاک۔ بھارت جنگ کے دوران ”بے وفائی“ کا مظاہرہ کیا۔ اس کی امریکہ بھیجی مصنوعات پر 50 فی صد ٹیکس بھارتی معیشت کو تقریباً جامد کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں سرجیو گور کی بطور سفیر نامزدگی کو اضطرابی ہذیان کے ساتھ زیر بحث لایا جا رہا ہے۔
یہاں تک لکھنے کے بعد ضروری ہے کہ سرجیو گور (Sergio Gor) کا تھوڑا تعارف بھی ہو جائے۔ جیسا کہ نام ہی سے عیاں ہے موصوف روسی نژاد ہیں۔ ازبکستان کے تاریخی شہر تاشقند میں 1986 میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی والدہ مگر سوویت یونین ختم ہو جانے کے بعد مالٹا منتقل ہو گئیں۔ وہاں انہوں نے ”اسرائیلی شہری“ ہونے کا اعلان بھی کیا۔ کاروباری شخصیت ہیں اور بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھجوا دیا۔ امریکہ پہنچ کر گور بالآخر وہاں کی مشہور جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں داخل ہوا۔ اس کا پورا نام Sergey Gorokhovskyتھا۔ یونیورسٹی میں لیکن اس نے خود کو Gor Sergio کہلوانا پسند کیا۔وہ جس دہائی میں واشنگٹن پہنچا اس کے دوران سردجنگ میں کمیونزم کی شکست کے بعد لبرل ازم عوام اور خصوصاً تعلیمی اداروں میں بہت مقبول تھا۔ نوجوان گور نے مگر اندازہ لگا لیا کہ بالآخر امریکہ اپنے ”اصل“ کو لوٹے گا۔ دور رس سوچ کی بدولت وہ قدامت پسند ری پبلکن پارٹی میں شامل ہو کر بتدریج اس تحریک کا حصہ بن گیا جو امریکہ کو ”دوبارہ عظیم“ بنانا چاہتی ہے۔ Magaکے نام سے مشہور اس تحریک کا ٹرمپ کو حتمی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے ”سنہرے مستقبل“ کا ذہین گور نے جبلی طور پر ادراک کرتے ہوئے اس کے بیٹے ڈونلڈ جونیئر سے گہری دوستی گانٹھ لی۔ اس کے ساتھ مل کر کتابوں کی اشاعت کا ادارہ قائم کیا۔ مذکورہ ادارے نے امریکی صدر ٹرمپ کے والد کی ”تاریخ“ پر ایک کتاب لکھنے کے علاوہ اس کے خطوط کو بھی کتابی شکل دی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یوں گور ٹرمپ خاندان کو ”تاریخ“ میں اہم مقام دینے میں مصروف رہا۔ اس کی یہ ادا ٹرمپ کو بہت بھائی۔ صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی اس نے سرجیو گور کو اس ٹیم کا سربراہ بنا دیا جو کسی امریکی سفیر کو اہم تین سرکاری ادارے میں اعلیٰ سطح پر تعینات کرنے سے قبل اس کی صدر ٹرمپ سے وفاداری کا ”امتحان“ لیتی تھی۔
صدر ٹرمپ کے ساتھ وفاداری کا امتحان لیتے ہوئے سرجیو گور کا Xکے مالک ایلان مسک سے بھی جھگڑا ہو گیا۔ ایلان کو فضا میں سیارے بھیجنے کے لئے امریکی ادارے ”ناسا (NASA)“ کی سرپرستی درکار ہوتی ہے۔ اسی باعث اس نے ایک شخص کو اس ادارے میں بطور ڈائریکٹر نامزدگی کے لئے ٹرمپ سے سفارش کی۔ سرجیو گور نے لیکن پوری لگن سے یہ دریافت کر لیا کہ جس شخص کی ایلان مسک نے سفارش کی ہے وہ سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے خلاف واہی تباہی بکتا رہا ہے۔ اس دریافت کے بعد ایلان مسک کے نامزد کردہ شخص کا کام نہ ہوا۔ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہو کر ایلان مسک نے سرجیو گور کو ”سانپ“ کا لقب دیا اور ٹرمپ سے بھی دوری اختیار کرلی۔سرجیو گور مگر صدر ٹرمپ کا بہت لاڈلا ہے۔ Magaتحریک کے ایک طاقتور ترجمان سٹیو بینن کا دعویٰ ہے کہ گور کا شمار ان دو یا تین افراد میں ہوتا ہے جو دن اور رات کے کسی بھی وقت ٹرمپ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کراس کے اندر داخل ہوسکتے ہیں۔ امریکی صدر تک اس کی رسائی قابل رشک حد تک غیر معمولی ہے۔ بھارت میں اس کی بطور امریکی سفیر نامزدگی کا مطلب یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اپنے ایک قریب ترین وفادار شخص کو اس عہدے پر فائز کرتے ہوئے صدر ٹرمپ مودی حکومت کے ساتھ مسلسل بگڑتے تعلقات کو بالآخر بہتر کرنے کی راہ ڈھونڈ رہا ہو۔
”گودی میڈیا“ کے نمایاں افراد مگر ٹرمپ سے تپے ہوئے ہیں۔ وہ گور کی ٹرمپ سے قربت پر غور کرنے کو آمادہ ہی نہیں۔ اس بات کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے کہ 38 سال کا یہ شخص کسی سفارتی تجربے کا ہرگز حامل نہیں۔ وہ مودی اور ٹرمپ کے مابین روایتی افسر شاہی سے ابھرے معاونین سے بالا رہتے ہوئے ”تجدید تعلقات“ یقینی بنا سکتا ہے۔ عام پاکستانی ہوتے ہوئے لیکن میں اس پہلو پر توجہ دینا ضروری سمجھا ہوں۔ اس کی بھارت میں بطور سفیر نامزدگی کے علاوہ جنوبی اور وسطی ایشیا ممالک کے لئے بطور خصوصی سفیر تقرری مجھے یہ سوچنے کو بھی مجبور کر رہی ہے کہ اس کے مذکورہ عہدے پر تقرری کے ہوتے ہوئے امریکہ پاکستان میں ایک طاقتور سفیر لگانے کی ضرورت محسوس کرے گا یا نہیں۔
پاکستان کے ساتھ امریکہ نے بھارت میں مقیم سفیر ہی کے زیر نگرانی معاملات چلانے کا فیصلہ کر لیا تو ”انڈو۔ پاک“ تو ہو جائے گا مگر اس تناظر میں پالیسی سازی کا مرکز واشنگٹن نہیں نئی دلی بن جائے گا۔ ریاست پاکستان کے فیصلہ سازوں تک کسی بھی نوعیت کی رسائی کے بغیر میں امید ہی باندھ سکتا ہوں کہ ایسا نہ ہو۔
(بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت)