ڈیل اور معافی نامہ کا متن عام کیا جائے!
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 26 / اگست / 2025
تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے ایک بار پھر پیغام بھیجا ہے کہ وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ ’نہ جھکیں گے اور نہ ہی کوئی ڈیل قبول کریں گے‘۔ اس سے پہلے مختلف ذرائع سے معافی تلافی اور اس کے لیے نام نہاد ’شرائط‘ کی خبریں بھی عام ہوتی رہی ہیں۔ تاہم ابھی تک نہ تو تحریک انصاف اور نہ ہی سرکاری ذرائع نے ایسی کسی ڈیل کی دستاویز کا متن لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے جس پر کھینچا تانی اور تو تکار ہورہی ہے؟
جن عوام کے حق نمائیندگی کے لئے خان صاحب ڈٹے ہوئے ہیں، انہیں بھی تو معلوم ہو کہ آخر وہ کون سی شرائط ہیں جو قابل قبول نہیں ہیں ۔ رہائی اور سیاسی سہولتوں کے لیے یہ شرائط کن عناصر کی طرف سے کون جیل میں عمران خان تک لے کر آتا ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان ’حقیقی جمہوریت‘ کے لیے ڈٹے رہنے اور کوئی مصالحت نہ کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ عام فہم کے مطابق ایسے کسی نظام میں عوام ہی کو کلیدی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عمران خان خود یا تحریک انصاف کے زعما اس ڈیل کی تفصیلات سامنے لائیں جس پر تنازعہ چلا آرہا ہے اور خان صاحب جھکنے سے انکار کررہے ہیں۔
پاکستانی سیاست میں ’ڈیل‘ لفظ ہمیشہ منفی معنوں میں استعمال ہوتا چلا آیا ہے۔ ا س لیے یہ امکان تو نہیں ہے کہ شہباز شریف کی حکومت ایسی خفیہ کوششوں کے بارے میں تفصیلات عام کرے گی۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ عمران خان اور ان کے نمائیندے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے جس خفیہ مواصلت کے حوالے دے کر خان صاحب کی بہادری کے قصے عام کرتے رہتے ہیں، ان کے بارے میں شہباز شریف اور ان کی حکومت کو بھی کچھ معلوم نہ ہو۔ کیوں کہ عمران خان تو ویسے بھی موجود حکومت کو ’کٹھ پتلی‘ قرار دے کر مسترد کرتے آئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ معاملات طے کرنے والی ’اتھارٹی‘ بھی ایسی کٹھ پتلی حکومت کو عمران خان سے ہونے والے معاملات کے بارے میں مطلع کرنا ضروری نہیں سمجھے گی۔ عام لوگوں کو چونکہ ان لوگوں کے نام اور عہدوں کا علم نہیں ہے، اور نہ ہی وہ لوگ خود یہ کہیں گے کہ انہوں نے عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی ہے لیکن ناکام رہے ہیں۔ اس لیے اب یہ درخواست عمران خان اور ان کے قریب ترین معاونین سے ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ اس بارے میں اپنے فدائیوں اور عام لوگوں کی تشنگی دور کریں۔
یوں تو عمران خان خود بھی اسٹبلشمنٹ سے بات چیت اور ڈیل کی باتیں یا معاف کیجئے معاہدے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ بلکہ متعدد مواقع پر تو انہوں نے تحریک انصاف کے ایسے وفود بھی نامزد کیے تھے جنہیں اسٹبلشمنٹ سے بات چیت کرنے اور معاملات طے کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ ان بیانات و اقدامات کی روشنی میں حالات کی جو تصویر عوام کے سامنے آئی ہے، اس کے مطابق عمران خان فوج کو یہ پیغام بھیجنا چاہتے ہیں کہ انہیں اس سے کوئی گلہ نہیں ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کی فوج کے ساتھ لڑائی ہے بلکہ وہ تو مسلح افواج کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ البتہ اس فوج کی نگاہوں کے سامنے شہباز شریف کی ’جعلی‘ حکومت اقتدار پر قابض ہوگئی۔ عمران خان کو بس یہی شکوہ ہے کہ فوج جیسے محب الوطن ادارے نے ایسی ’انہونی‘ کیوں کر ہونے دی۔ وہ بار بار عسکری قیادت کو اس غلطی کی اصلاح کرنے کا موقع دیتے رہے ہیں تاکہ حق بہ حق دار رسید کے مصداق تحریک انصاف حکومت بنائے اور فوج سرخرو اور ساری قوم کی آنکھ کا تارا بن جائے۔ پھر فوجی لیڈر جو چاہتے ہیں کرتے رہیں، عمران خان کسی کو اف بھی نہیں کر نے دیں گے کیوں کہ ان کی قیادت میں بننے والی حکومت عوامی حکومت ہوگی۔
عام لوگوں کو تو ان پیچیدگیوں کا کوئی خاص علم نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا محال ہورہا ہے کہ ’عوام کے جائز نمائندے‘ ہونے کے بارے میں عمران خان یا تحریک انصاف جو دعویٰ کرتے ہیں، وہی دعویٰ شہباز شریف اور ان کے ساتھ شریک اقتدار دیگر سیاسی پارٹیوں کا بھی ہے۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ ووٹوں کی اکثریت سے منتخب ہوکر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس مشکل صورت حال میں ملک کا عام شہری اس الجھن کا شکار ہے کہ وہ کس کی بات کو سچ مانے۔ اگر الیکشن کمیشن کی بات مانی جائے جو اس وقت انتخابی نتائج کے بارے میں فیصلے کرنے والی حتمی اتھارٹی ہے تو شہباز شریف کی حکومت کو درست ماننا پڑے گا لیکن عمران خان نہ صرف شہباز شریف بلکہ الیکشن کمیشن کو بھی جعلی اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔ اب چونکہ عدالتوں میں بھی ’گڈ ٹو سی یو‘ والا ماحول نہیں ہے ، اس لیے تحریک انصاف کو اب عدالتوں سے بھی شکایت رہتی ہے اور دعویٰ کیاجاتا ہے کہ ملکی عدالتوں کو بھی یرغمال بنا لیا گیا ہے اور اس ملک میں انصاف ملنا محال ہے۔ عمران خان چونکہ اس وقت صرف ملک کے باشندوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے خیال میں عوام کی بڑی اکثریت یعنی اسّی نّوے فیصد صرف عمران خان کے ساتھ ہے باقی پارٹیوں کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ عمران خان کم از کم ان عوام کو تو مکمل اعتماد میں لیں اور بتائیں کہ انہیں کون کون سے لالچ دیے جارہے ہیں جن کے سامنے وہ ’ڈٹ کر کھڑے ہیں اور کوئی ڈیل نہیں کرتے‘۔
بصورت دیگر طے شدہ پوزیشن تو یہی ہے کہ عمران خان کو مختلف جرائم میں طویل المدت سزائیں ہوئی ہیں اور متعدد دوسرے مقدمے زیر سماعت ہیں۔ اسی طرح جن مقدمات میں سزائیں دی گئی ہیں، ان پر اپیلیں بھی اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ ان پر سماعت کی باری بھی آہی جائے گی۔ یہ درست ہے کہ عمران خان دو سال سے زیادہ مدت سے قید ہیں لیکن یہ گرفتاری بظاہر کسی سیاسی بنیاد پر عمل میں نہیں آئی۔ بلکہ اسی نظام اور قانون کے مطابق قائم ہونے والے نظام ہی کے تحت انہیں گرفتار کرکے سزائیں دی گئی ہیں جو اس ملک میں کل بھی نافذ تھا اور شاید آنے والے کل میں بھی نافذ رہے گا۔
عمران خان یا ان کے ساتھیوں پر قائم ہونے والے مقدمات کے بارے میں یقیناً مختلف آرا موجود ہے۔ زیادہ قابل اعتبار رائے یہی ہے کہ یہ مقدمے عمران خان کی سیاسی حیثیت کی وجہ سے قائم کیے گئے ہیں۔ البتہ یہ بھی اس ملک میں کوئی نیا طریقہ نہیں ہے۔ جس زمانے میں عمران خان کی ’انصاف پسند‘ حکومت قائم تھی، اس وقت بھی سیاسی مخالفین کو اسی طرح دھڑا دھڑ سزائیں سنائی جارہی تھیں، جیسے اب عمران خان یا ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات کے فیصلے ہورہے ہیں۔ ماضی میں دیگر سیاسی لیڈروں کو دی جانے والی سزائیں ملک کا سیاسی منظر نامہ بدلنے کے بعد کالعدم قرار پائیں اور تمام ’مجرم‘ باعزت بری ہوگئے بلکہ اقتدار پر قابض ہوگئے۔ کیا یہ منظر نامہ بدل سکتا ہے۔ اگر ملک کا موجودہ نظام اسی طرح کام کرتا رہا تو یقیناً کسی روز یہ صورت حال بھی تبدیل ہوسکتی ہے لیکن فی الوقت ایسا انوکھا دن طلوع ہونے کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔
ماضی میں سیاسی پارٹیاں ایسی مشکل میں کیا کرتی رہی ہیں؟ انہوں نے سزائیں بھگتیں، جد و جہد جاری رکھی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملاکر سیاسی منظر نامہ یا نام نہاد ’جبر کا ماحول ‘ تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔ پھر اچانک کوئی ’باجوہ‘ تحریک عدم اعتماد کو ضروری سمجھنے پر مجبور ہوگیا۔ بدنصیبی سے عمران خان اور تحریک انصاف ایسا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے متبادل راستہ اختیار کیا۔ تحریک انصاف نے ’نظام تبدیل ‘ کرنے کا نعرہ لگایا اور ایک سے زیادہ بار اسلام آباد پر دھاوا بول کر حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ متعدد بار ملک گیر ہڑتال کے ذریعے پہیہ جام کرکے حکومت کا ناطقہ بند کرنے کا ارادہ کیا گیا ۔ اور ایک بار یعنی 9 مئی 2023 کو ’ہم خیال‘ عسکری عناصر کے ساتھ مل کر ان فوجی لیڈروں کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی گئی جو عمران خان کے خیال میں ان کے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ ایسی ناکام کوششوں کو عام طور سے ’بغاوت‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی ویسی ہی سزا بھی ملتی ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ 2016 میں بعض فوجی عناصر نے ترکیہ میں صدر اردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی لیکن عوام کی مدد سے اسے ناکام بنانے کے بعد اس بغاوت میں ملوث ہزاروں لوگوں کو سنگین سزائیں دی گئیں۔ تحریک انصاف کو شکر کرنا چاہئے کہ وہ بوجوہ اس قسم کے ریاستی عتاب سے محفوظ رہی ہے۔
کامیاب سیاسی جد و جہد کی امید لگائے ہوئے عمران خان کی پارٹی ملک میں سیاسی اتحاد تو کیا بناتی، خود ان کی اپنی پارٹی ٹکڑوں میں بٹی ہے۔ ایک لیڈر دوسرے پر اعتبار نہیں کرتا۔ جیل میں سب عمران خان سے ملتے ہیں لیکن ان کے سیاسی ’احکامات‘ علیمہ خان میڈیا کے سامنے بیان کرتی ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس تحریک انصاف میں کوئی عہدہ نہیں ہے۔ اس وقت عمران خان ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے سیاسی دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان کے قریب ترین ساتھی انہیں عقل کے ناخن لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ پارٹی کا یہی حال رہا تو کوئی وجہ نہیں کہ معافی یا ڈیل کی باتیں محض خواب و خیال بن کر رہ جائیں۔
کسی سیاسی لیڈر کی طاقت پارٹی کا مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے یا متبادل لیڈروں کی ایک طویل قطار ہوتی ہے جو ایک کے بعد دوسرا کی صورت معاملات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف میں عمران خان کا کوئی نمبر 2 نہیں ہے۔ پارٹی ڈھانچے کے نام پر عوام میں مقبولیت کا سبق یاد کرایا جاتا ہے۔ اس لیے عمران خان ’خفیہ پیغام رسانی‘ کے بارے میں عوام ہی کو اعتماد میں لیں تاکہ ایک بار دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔