طاقتوروں کی دوستی اچھی نہ دشمنی
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 27 / اگست / 2025
ہمارے ممدوح سینئر صحافی جناب سہیل وڑائچ کی یہ کوالٹی ہے کہ وہ صحافت میں نمایاں رہنا جانتے ہیں۔ کسی نہ کسی حوالے سے سوشل میڈیا پر ڈسکس ہوتے رہتے ہیں۔ اب کی بار تو وہ ایسے چھائے ہیں کہ درویش حیرت زدہ رہ گیا۔
ہر پوسٹ سہیل وڑائچ کے نام سے سامنے آرہی تھی۔ ان کے حمایتیوں کی کمی تھی نہ ان پر شدید ترین تنقید کرنے والوں کی۔ سب سے درشت تنقید ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کی۔ جنہوں نے سہیل وڑائچ کے کالم میں چھپنے والے آرمی چیف کے ساتھ کیے گئے ان کے مبینہ انٹرویو کے مندرجات یا دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ”آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کسی صحافی کو کوئی انٹرویو ہی نہیں دیا۔ وہ تقریب عوامی نوعیت کی تھی جس میں سینکڑوں افراد نے تصاویر بنوائیں۔ تقریب کے دوران نہ تو پی ٹی آئی کا ذکر ہوا اور نہ کسی معافی کی بات کی گئی۔ افسوس کی بات ہے سینئر صحافی نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ یہ محض ذاتی تشہیر اور مفاد کے لیے نامناسب حرکت تھی۔“
سننے والے دم بخود رہ گئے کہ کیا واقعی ایسے ہوسکتا ہے کہ اتنا بڑا نامور سینئر صحافی آرمی چیف جیسی طاقتور ترین شخصیت کا من گھڑت، جعلی یا جھوٹا انٹرویو چھاپ دے۔ یہ کہہ دے کہ میری ان کے ساتھ دو گھنٹے طویل ملاقات ہوئی ہے، جس کے متعلق وہ سب سے بڑے اخبار میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں یہ لکھے کہ ”یہ ایک عاجز صحافی اور فیلڈ مارشل کی ملاقات تھی جس میں میرے کھردرے سوالات تھے اور ان کے واضح و شفاف جوابات۔ بات سیاست سے شروع ہوئی، بالخصوص ان افواہوں پر کہ صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کو تبدیل کرنے پر کام ہورہا ہے۔ جنرل عاصم منیر نے برسلز کے جلسے میں اور میرے ساتھ دو گھنٹے کی طویل نشست میں واضح طور پر کہا کہ تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ سب خبریں تو سول اور عسکری ایجنسیوں کی طرف سے آئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ دراصل ان کے پیچھے حکومت اور مقتدرہ دونوں کے مخالف اور سیاسی انارکی پیدا کرنے والے عناصر ہیں۔ اپنے عزائم پر انہوں نے سٹیج پر کھڑے ہوکر کہا کہ خدا نے مجھے ملک کا محافظ بنایا ہے مجھے اس کے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں میں ایک سپاہی ہوں اور میری سب سے بڑی خواہش شہادت ہے۔“
سیاسی حوالے سے کیے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ ’سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے سٹیج پر قرآن پاک کی آدم کی تخلیق اور شیطان کے کردار کے حوالے سے آیات کا متن اور ترجمہ سنایا جس سے واضح ہوتا تھا کہ شروع میں فرشتوں کو آدم سے مسئلہ تھا مگر خدا نے آدم کو تخلیق کیا تو سوائے ابلیس کے سب فرشتوں نے انسان کو خدا کا حکم اور کرشمہ سمجھ کر قبول کرلیا۔ گویا معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا“
سینئر صحافی نے اس کے بعد اپنے کالم میں جنرل عاصم منیر کے حوالے سے خاصی تفصیلات دی ہیں جیسے کہ معاشی بحران کے حوالے سے اور پھر بین الاقوامی حوالے سے چین اور امریکا سے تعلقات میں توازن کے حوالےسے، پھر بھارت اور ہندوتوا رہنما مودی کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے تفصیلات ہیں۔ خاتمہ ان الفاظ پر ہے کہ ”فیلڈمارشل نے اس عاجز کی معروضات کو کمال مہربانی سے سنا۔ سب سے بڑی آواز تو یہی ہے کہ سویلین نظام چلتا رہے۔ اس کو مصلحت اور مصالحت سے مزید نمائندہ بنایا جائے تاکہ واقعی مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھی جاسکے“
اس کے بعد اگلے روز کے کالم میں اسی پس منظر کےساتھ مزید بہت کچھ ہے جس کا عنوان ہے ”“مسافر بنام قیدی 804“ اس میں ڈیر قیدی جی کے لیے بہت سی ہدایات ہیں کہ اگلے انتخابات تک چپ کا روزہ رکھ لو اور یہ کہ جان ہے تو جہان ہے وغیرہ۔ اور پھر اس سے اگلے روز 18اگست کو پھر ”عسکریت اور اکثریت“ کی بحث میں سینئر صحافی رقمطراز ہیں کہ ”جنرل عاصم منیر نے برسلز میں کہا کہ ہم بیشتر بحرانوں سے نکل آئے ہیں اور یہ کہ آنے والے دنوں میں مزید بہتری آئے گی“۔ اس میں انہوں نے عسکریت اور اکثریت کو باہم ہاتھ ملا کر چلنے کے مشورے دیتے ہوئے اختتام اس شعر پر کیا ہے کہ ”اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی، ہم نے تو دل جلا کے سرعام رکھ دیا“
اب اگر ان مندرجات بالا یا کالموں میں جو دیگر تفصیلات ہیں ان کا تنقیدی جائزہ لیاجائے تو واقعی بہت کچھ قابلِ گرفت ہے۔ درویش کو پہلا کالم پڑھتے ہی حیرت ہوئی تھی کہ جنرل صاحب نے آخر اس نوع کی بات کیسے کہہ دی کہ ”سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے۔“ اس کا مطلب تو واضح طور پر یہ ہوا کہ نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم جوڈیشری تک تھوک کے حساب سے جو مقدمات چل رہے ہیں، ان کی حیثیت تو زیرو ہوگئی۔ مقدمات نہیں وہ سب طاقتور شخصیت کی طرف سے اپنےسیاسی مخالف کا گھیراؤ ہے۔ یہ تو ایک طرح سے ڈرامے بازی ہوئی۔ شاید اسی وجہ سے بہت سے لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ سینئر صحافی نے انٹرویو تو بالکل صحیح کیا ہے، ان کے اس دعوے میں وزن ہے کہ جنرل صاحب سے ان کی ملاقات دو گھنٹوں پر محیط رہی۔ لیکن جب اس طویل ملاقات کا احوال چھپا تو اس پر تنقیدی سوالات آنے ہی تھے۔ طاقتور چونکہ ان سوالات کا سامنا نہیں کرسکے، اس لیے کچھ دن گزارنے کے بعد تردید کرتے ہوئے سینئر صحافی کی تذلیل کردی۔ سینئر صحافی نے اپنے کالم میں یہ امر بھی پوشیدہ نہیں رکھا کہ جنرل عاصم منیر سے ملاقات ان کی دیرینہ خواہش تھی جس کے لیے وہ عرصے سے تگ و دو کرتے چلے آرہے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیرداخلہ محسن نقوی سے مختلف مواقع پر ہونے والے تلخ مکالموں کا بھی ذکر کیا ہے جنہوں نے انہیں بتایا کہ آ پ کا خط اور پیغام میں نے جنرل صاحب کو پہنچادیا اور انہوں نے مسکرا کر اسے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل عاصم ملک کے حوالے کردیا۔ مجھے محسن نقوی کی بات کا یقین نہ آیا اور میں سمجھا کہ یہ بات صرف مجھے ٹالنے کے لیے ہے مگر دوسرے دن ملائیشیا کے وزیراعظم کو اعزاز دینے کی تقریب صدارتی محل میں ہوئی تو وہیں پہلی دفعہ جنرل عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے نہ صرف گزشتہ روز کے پیغام کی تصدیق کی بکہ وقتاً فوقتاً میری درخواستوں کا بھی مسکرا کر اقرارکیا۔ اور کہا کہ ضرور جلد ملیں گے۔ بالآخر وہ پہلی ملاقات بیلجیئم کے شہر برسلز میں ہوئی۔
ہردو شخصیات کے یہ واضح بیانات سب کے سامنے ہیں اور ان میں جو کھلا تضاد ہے، ہمارے پاس کوئی گیدرسنگھی نہیں ہے جس سے اسے چھپایا جاسکے، نہ ہی ہم کسی ایک کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ دونوں ہی ہمارے لیے قابلِ صداحترام ہیں۔ اب موقع کے گواہ کیا بول رہے ہیں، ممکن ہے ان میں بھی تضاد واختلاف ہو۔ اس سارے سانحہ سے سبق یہ سیکھا ہے کہ بڑے لوگوں کی ملاقاتوں سے بچ کر ہی رہنا چاہیے۔ ان کی دشمنی اچھی نہ دوستی۔ اپنی تو کبھی یہ تمنا ہی نہیں ہوئی کہ فلاں طاقتور سے کسی بھی طرح ملا جائے یا اس کی مدح سرائی کی جائے۔ انسانوں سے محبت مجبور کرتی ہے کہ دکھی انسان چاہے کسی بھی ملک، قوم یا مذہب سے ہوں ان کی دبی آوازوں کو اپنی آواز بنایا جائے ۔
ہمارے آئیڈیل بزرگ عبدالستار ایدھی کہاکرتے تھے کہ میں نے جنت میں موج مستی والوں کے پاس جاکر کیا کرنا ہے۔ میں تو دوزخ میں جانا چاہتا ہوں تاکہ وہاں دکھی لوگوں کی مدد کرسکوں۔