افغان حکومت کا پاکستان پر ڈرون حملوں کا الزام
افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبہ ننگرھار اور خوست میں دو مختلف مقامات پر کیے گئے پاکستانی ڈرون حملوں میں کم از کم تین بچے ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔
طالبان حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو رات گئے پیش آنے والے ان واقعات کے بعد کابل میں تعینات پاکستانی سفیر کو طلب کر کے اس معاملے پر ’شدید احتجاج‘ ریکارڈ کروایا گیا ہے۔ تاہم افغان حکومت نے ان ڈرون حملوں کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ یا فوج نے اس معاملے پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یاد رہے کہ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں شدت پسندی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور یہ معاملہ بارہا افغان حکام کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔ بی بی سی پشتو اور خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ’خوست اور ننگرھار صوبوں میں ہونے والے پاکستانی ڈرون حملوں میں عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں متاثر ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔
صوبہ خوست میں حکومتی ترجمان مستغفر گرباز نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اُن کے صوبے کے ضلع سپیرا کے ’لاہوری گاؤں‘ میں زردان سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر حاجی نعیم خان کے گھر کو پاکستانی ڈرونز نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین بچے ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ زخمیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔
ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ جس خاندان کو نشانہ بنایا گیا ان کی کسی جماعت یا گروہ سے وابستگی نہیں تھی۔ ’متاثرہ شخص (حاجی نعیم) ایک عام تاجر ہیں جن کی کسی گروپ سے وابستگی نہیں۔‘
اسی طرح ایک اور واقعے میں افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرھار میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں الزام عائد کیا گیا کہ ضلع شنوار میں ایک عام شہری کے گھر کو پاکستانی ڈرون نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہاں موجود خاتون سمیت سات بچے زخمی ہوئے ہیں۔
طالبان عبوری حکومت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ان مبینہ پاکستانی حملوں کو ’کُھلی جارحیت‘ قرار دیا گیا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے بعد کابل میں موجود پاکستانی سفیر کو طلب کیا گیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے سفیر کی طلبی کے معاملے پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ماضی میں بھی طالبان حکام کی جانب سے پاکستان پر افغانستان کی سرزمین پر فضائی کارروائیوں کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔ طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اس نوعیت کی پاکستانی کارروائیوں میں خوست، کنٹر اور دیگر سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا جس میں ’عام شہری‘ ہلاک ہوئے۔