ناروے انتخاب: دائیں بازو میں دراڑیں
- تحریر خالد محمود اوسلو
- ہفتہ 30 / اگست / 2025
ناروے میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی مہم آخری عشرے میں داخل ہو چکی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ رائے دہندگان کی حمایت حاصل کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔
پچھلے دو عشروں سے جاری سیاسی مہم کو رائے عامہ کے تجزیوں کے تناظر میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رائے دہندگان کو کوئی بھی سیاسی جماعت بڑی تعداد میں متاثر نہیں کر پائی۔ تمام جماعتیں پہلے والی مقبولیت پر ہی کھڑی ہوئی ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی مقبولیت صرف چند پوائنٹس اوپر نیچے ہونے کے علاوہ کوئی بڑی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی اور نہ ہی حکومت حاصل کرنے کے لیے بر سر پیکار دائیں اور بائیں بازو کے مد مقابل اتحاد کسی بڑی برتری کا دعوئ کرنے کی حثیت میں ہیں۔
البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پچھلے چند ماہ سے بائیں بازو کے اتحاد جس کی قیادت موجودہ حکومت اور آربائیدر پارٹی کے ہاتھ ہے کی برتری برقرار ہی نہیں بلکہ مزید مستحکم ہوتی جا رہی رہی ہے، جس سے اس کی کامیابی کے امکان یقینی ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بائیں بازو کے اس اتحاد کے اندر تمام جماعتیں اپنی مقبولیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور خاص کر اس اتحاد کی پانچویں بڑی جماعت ایم ڈی جی جسے گرین پارٹی کہا جاسکتا ہے کی پوزیشن پچھلے انتخاب کے مقابلے میں بہتر ہونے سے اس اتحاد کی کامیابی مزید یقینی ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جو دوسرا عنصر اس اتحاد کو عوامی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے وہ دائیں بازو کے اتحاد کے برعکس حکومتی تشکیل پر ہم آہنگی ہے۔ کیونکہ رائے دہندگان کی حمایت کے لیےآپس میں مقابلہ آرا ہونے کے باوجود اس اتحاد میں یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ اس اتحاد کی کامیابی پر آنے والی حکومت کی قیادت آربائیدر پارٹی ہی کرے گی۔ جبکہ دائیں بازو کے چار جماعتی اتحاد میں کامیابی کی صورت میں حکومت سازی پر اختلاف شدت اختیار کر چکا ہے اور چاروں جماعتیں تشکیل حکومت پر دست وگریباں دکھائی دے رہی ہیں جس سے رائے دہندگان میں اس اتحاد کے بارے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اس میں سردست اختلاف یہ اُبھرا ہے کہ اس اتحاد کی کامیابی کی صورت میں وزارت عظمیٰ کس جماعت کو ملنی چاہیے۔ اس اختلاف کی ابتدا جاری انتخابی مہم کے دوران پر فریم سکرتس پارٹی کی بڑھتی اور ہائیرے کی گرتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر ہوئی۔ اور یہ بحث چھڑ گئی کہ اس اتحاد کی کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم کس جماعت سے ہونا چاہیے۔ اس بحث میں شدید اختلاف اس وقت سامنے آیا جب رائے عامہ کے جائزوں میں فریم سکرتس پارٹی ناروے کی دوسری بڑی اور دائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر اُبھرکر سامنے آئی۔ اور یہ تاثر دیا جانے لگا کہ دائیں بازو کے چار جماعتی اتحادی کی کامیابی کی صورت میں وزیراعظم فریم سکرتس پارٹی کی سربراہ سیلوی لیستھاوگ ہوگی۔ اس جاری بحث میں جلتی پر تیل کا کام فریم سکرتس پارٹی نے خود کیا جب اس کی طرف سے مطالبہ سامنے آیا کہ دائیں بازو کی سب سے بڑی بن کر سامنے آنے والی جماعت ہی وزیراعظم کی حقدار ہے۔ لیکن ہائیرے، وینسترے اور کرستلے فولکے پارٹی اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس اختلاف میں بڑھتی شدت کی وجہ سے ان کے ووٹروں میں مایوسی کا عنصر پھیل رہا ہے جس سے خدشہ ظاہر کیا جار ہا ہے کہ دائیں بازو کےحمایتی غیر نظریاتی ووٹر عملیت پسندی کو اپناتے ہوئے دوسری جماعتیں اور خاص کر آربائیدر پارٹی کا رُخ کر سکتے ہیں۔
کیونکہ آربائیدر پارٹی کی سیاسی پالیسوں میں وسعت ہونے کی وجہ سے ایسے ووٹروں کے لیے یہ پارٹی متبادل دوسری ترجیع ہو سکتی ہے۔ لہذا دائیں بازو کی جماعتوں کی آپس میں حکومت کی سر براہی پر جاری بحث اب انتخابات کے لیے کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے دائیں بازو کبھی بھی انتخاب سے قبل ایسی بحث سے دو چار نہیں ہوا۔ اس اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں میں اس کی اپنی بقا کا مسئلہ بھی ہے کیونکہ دائیں بازو کی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے جہاں ان جماعتوں کی کچھ پالیسیاں فریم سکرتس پارٹی کے قریب ہیں تو وہیں ان میں ثقافتی سیاسی نقطہ نظر، بین الااقوامی امور ، انسانی حقوق بین المذہبی اور کثیر الثقافتی ہم آہنگی پر بہت بڑی خلیج موجودہے۔ ان کے نزدیک فریم سکرتس پارٹی کے تارکین وطن اور اقلیتی مذاہب کے بارے رویے ایک وزیراعظم کے عہدہ کے شایان شان نہیں جس پر ان پارٹیوں کو یہ عہدہ فریم سکرتس پارٹی کو تفویض کرنے پر تحفظات ہیں۔ جبکہ فریم سکرتس پارٹی اپنے متوقع حجم کے بل بوتے اس عہدہ کو اپنا حق تصور کررہی ہے جو اس اتحاد کے انتشار کا موجب بن رہا ہے۔
اس بحث سے دائیں بازو کے اتحاد میں اختلاف کے سامنے آنے پر اس کے ووٹروں میں ایک مایوسی کی لہر نظر آ رہی ہے جس کی وجہ سے اس اتحاد کی کامیابی کے امکانات دن بدن مخدوش ہوتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ اس اتحاد میں شامل جماعتوں کا آپس میں گتھم گتھا ہونا ووٹروں میں نااُمیدی کا باعث بنتا ہے، جس سے کٹر نظریاتی ووٹروں کے علاوہ دوسرے ووٹر نئی جماعتوں کا رخ اختیار کر جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی جماعتوں کی کامیابی انتخاب کے بعد سیاسی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے لہذا اس سے اجتناب کے طور پر وہ اپنی سیاسی ترجیحات پر سیاسی استحکام کو فوقیت دے دیتے ہیں۔ لہذا یہ سوچ اب تقویت پا رہی ہے کہ دائیں بازو کے اتحاد میں جاری رسہ کشی کا فائدہ بائیں بازو کے اتحاد اور خا ص کر آربائیدر پارٹی کو ہونے جا رہا ہے اور جس کی حکومت جاری رہنے کے امکانات مزید بڑھ رہے ہیں۔
تمام تجزیہ کار دائیں بازو کے اتحاد میں انتخابی نتائج سے قبل عہدوں کی بانٹ پر اختلاف کو آربائیدر پارٹی کے لیے سود مند گردان رہے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ دائیں بازو کی انتخاب میں ناکامی کا یہ جھگڑا بھی ایک وجہ بن رہا ہے ۔ یہ اختلاف اب اس قدر کھل کر سامنے آچکا ہے کہ جاری سیاسی مباحثہ روایتی حکومتی اور حزب اختلاف میں تکرار کی بجائے دائیں بازو کی جماعتوں کے اندرونی تکرار و بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے موجودہ حکومت کی کارکردگی اور اس پر حزب اختلاف کوئی جارحانہ موقف اپنانے سے قاصر دکھائی دے رہا ہے۔ اور عوام میں بھی دائیں بازو کی اندرونی لڑائی کو مستقبل کے سیاسی عدم استحکام سے تعبیر کیے جانے کی سوچ غالب آ رہی ہے۔ جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ رائے دہندگان کی ایک خاصی بڑی تعداد نظریاتی سیاست کی بجائے سیاسی استحکام کو مد نطر رکھ کر اپنا ووٹ استعمال کرنے کی جانب رو بہ مائل دکھائی دے رہی ہے۔
اس سے دائیں بازو کی ناکامی کے آثار زیادہ عیاں ہورہے ہیں۔ اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی ایسی روایات موجود ہیں کہ جب ووٹر قومی سیاسی استحکام کے پیش نظر سیاسی وابستگی کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس بات کا بڑا مکان ہے کہ آٹھ ستمبر کی شام کو دائیں بازو کے اتحاد کی ناکامی کی صورت میں تجزیہ کار قیادت کے سوال کو مرکزی عنصر گردانیں۔ بر حال ابھی آنے والے دنوں میں حالات کے کروٹ بدلنےکو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔