ناروے میں پاکستانی سفیر کا سیاسی پیغام

گزشتہ روز ناروے  میں سفیر پاکستان محترمہ  سعدیہ الطاف قاضی نے ایک تقریب  میں  کچھ ایسی باتیں کیں جو عام طور سے کسی سفارتی نمائیندےکے شایان شان نہیں سمجھی جاتیں۔  انہوں نے ناروے میں مقیم پاکستانیوں کو تصویر کا مثبت رخ دیکھنے  کامشورہ دیتے ہوئے فرمایا کہ  ہر معاملہ میں تنقیدی شعور    استعمال کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

پاکستانی سفیر نے جمعہ 29 اگست کو اوسلو  کے میلہ ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کی صدارت قبول کی تھی۔ تاہم شاید  وہ  یہ اندازہ کرنے میں ناکام رہیں کہ یہ تقریب پاکستان سے تشریف لائے ہوئے  سیالکوٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عرفان اللہ  وڑائچ کے کالموں کی کتاب ’فرد جرم‘ کی تعارفی تقریب تھی۔ اس کے علاوہ شاید وہ اس اجتماع کو بھی کوئی ایسی سماجی  تقریب سمجھنے کی غلطی کر بیٹھیں جہاں صرف ایک دوسرے کے لیے توصیفی کلمات ہی حاصل محفل ہوتے ہیں۔ زیر بحث تقریب کا اہتمام  ناروے کی دو تنظیموں فیلمی  نیٹ ورک اور حلقہ ارباب ذوق  نے کیا تھا۔ ’فرد جرم‘  عرفان اللہ وڑائچ کے کالموں کا مجموعہ ہے جن میں پاکستان کے سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق سے متعلق صورت حال کو  تاریخی و قانونی پس منظر میں پرکھنے و جانچنے  کی کوشش کی گئی ہے۔

حیرت انگیز طور پر اپنی تقریر میں   ناروے میں مقیم پاکستانیوں کے خیالات پر بالواسطہ خفگی کا اظہار کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے یہ جاننے کی زحمت ہی نہیں کی کہ یہ دونوں تنظیمیں اور ان میں متحرک بیشتر لوگ درحقیقت طویل عرصہ سے جمہوری و انسانی روایات کے لیے جد و جہد کررہے ہیں۔ یہ کوششیں ناروے  میں پاکستانی تارکین وطن کے علاوہ دیگر انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے بھی کی جاتی ہیں  ، اس کے علاوہ یہ لوگ فلسطین، کشمیر اور دنیا بھر میں ہر جگہ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ ناروے میں بھی اگر  نسلی منافرت یا تعصب کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، تو یہ لوگ اس کے خلاف بھرپور انداز میں آواز اٹھاتے ہیں۔ بلکہ جس میلہ ہاؤس میں یہ تقریب منعقد ہورہی تھی، اس کی بنیاد رکھنے والے خالد سلیمی نے ہی درحقیقت ناروے میں سب سے پہلے نسل پرستی کے خلاف کام کا آغاز کیا تھا اور  ’اینٹی راشسٹ سنٹر‘ کی بنیاد رکھی تھی۔  یہ سنٹر اب بھی مختلف قیادت کے تحت متحرک ہے۔ تاہم خالد سلیمی نے ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے میلہ منعقد کرنے اور میلہ ہاؤس  کا کثیر الثقافتی مرکز قائم کرنے پر توجہ مبذول کی اور اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

میلہ ہاؤس اس وقت اوسلو میں مختلف ملکوں سے  آئے ہوئے تارکین وطن کی ثقافتی و سماجی سرگرمیوں کا مرکز   ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر  تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی و سیاسی امور پر بحث و مباحثہ کا اہتمام بھی ہوتا رہتا ہے  تاکہ تارکین وطن ایک تو  اپنے حقوق کی جد و جہد جاری رکھ سکیں اور تازہ ترین معاملات سے آگاہی حاصل کریں،   دوسرے بنیادی   انسانی حقوق کے  کام کو مستحکم کرنے کا سلسلہ جاری رہے۔  ظاہر ہے کہ جو مرکز ایک ایسے شخص نے قائم کیا ہے جس نے ساری زندگی   نسل پرستی اور تعصبات کے خلاف جد و جہد   کی ہو تو  اس مرکز کے بنیادی اصولوں میں انسانوں سے محبت اور ان کا احترام  شامل ہوگا۔  ایسے مرکز میں منعقد ہونے والی کسی تقریب  میں جبر، آمریت، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو قبول کرنے  جیسے رویے دیکھنے میں نہیں آتے۔

یہ پس منظر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سفیر پاکستان نے اگر ایسی جگہ اور ایسی تنظیموں کے تحت منعقد  ایک ایسی تقریب کی صدارت قبول کی تھی جو  انسانوں کے سیاسی و سماجی حقوق  سے متعلق تھی تو انہیں معلوم ہونا چاہئے تھا کہ وہاں ایسی ہی باتیں  ہوں گی جو شاید  اس وقت پاکستان کی سیاسی قیادت کے نقطہ نظر کی عکاسی نہ کرتی ہوں۔ پھر بھی پاکستانی تنظیموں کے تحت منعقد ہونے والی اس تقریب  کی صدارت کی حامی بھر کر   سفیر پاکستان محترمہ سعدیہ  الطاف قاضی نے  یہ خوشگوار تاثر دیا کہ  ناروے کا سفارت خانہ پاکستان کا نمائیندہ ہے اور وہ کسی ایک حکومت یا کسی ایک سیاسی رائے  کی حمایت نہیں کرتا۔ بلکہ اس شرکت سے یہ خوشگوار اصول بھی راسخ ہوسکتا تھا کہ کسی بااصول سفارت کار کی زیر قیادت  سفارت خانہ ناروے میں مقیم تمام پاکستانیوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور اسے  ان کی سیاسی رائے یا سماجی تفاوت سے کچھ  لینا دینا نہیں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ  اس تقریب میں سفیر پاکستان یہ توازن قائم کرنے میں ناکام رہیں۔

یہ ممکن ہے کہ  بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں پر موجودہ سیاسی حکومت کی طرف سے ایک خاص   بیانیہ  یا معاشی حقیقت بیان کرنے  اور خاص طور سے پاکستانی تارکین وطن   تک پہنچانے کے لیے دباؤ موجود ہو۔   یا یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی سفیر خود حکام بالا کی خوشنودی کے لیے کسی ایسے سیاسی بیانیہ کو عام کرنے کی کوشش کرے جس سے اختلاف  کی صورت پیدا ہو۔ محترمہ سعدیہ الطاف قاضی نے لکھے بغیر جو باتیں کہیں، ان سے نہ صرف پاکستان میں آزادی رائے سے گریز کی سرکاری حکمت عملی کی عکاسی ہوئی بلکہ اس کے بعض مندرجات براہ راست تارکین وطن کی دیانت و حب الوطنی پر سوال  اٹھانے  کا سبب بنے۔ تاہم  سفیر پاکستان نے حیرت انگیز طور پر تقریب کو مختصر کرواکے  سامعین کو اپنی  ’صدارتی تقریر‘  سے نوازنا ضروری سمجھا۔ لیکن ہال میں موجود دوسرے لوگوں کے خیالات سننے کے  لیے ان کے پاس وقت نہیں تھا۔ اس کے لیے یہ عذر پیش کیا گیا کہ  وہ پہلے سے ہی  کسی دوسری جگہ مدعو تھیں ، ا س  لیے صرف تھوڑی دیر کے لیے ہی یہاں آسکتی تھیں۔

’فرد جرم‘ کی  تقریب رونمائی  کے لیے ساڑھے پانچ بجے شام کا وقت مقرر تھا البتہ  محترمہ سفیر پاکستان  6  بج کر 20 منٹ پر تقریب  میں تشریف لائیں۔ اس طرح یہ تقریب ایک گھنٹہ تاخیر سے ساڑھے چھ بجے شروع ہوسکی۔  تعارفی کلمات کے بعد ممتاز سیاسی کارکن،  ناروے میں  قائم تنظیم ’ ویژن فورم ‘کے صدر اور   ترقی پسند دانشور ارشد بٹ کو کتاب کے بارے میں بات کرنے کے لیے بلایا گیا۔ ارشد بٹ صاحب نے خود کوئی بات کرنے کی بجائے ’فرد جرم‘ میں شامل کالموں کے حوالے سے یہ واضح کیا کہ مصنف نے ملک کے  عدالتی وسیاسی نظام اور سماجی رویوں پر فرد جرم عائد کی ہے اور ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے،  عدل کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ارشد بٹ نے جو اقتباسات پیش کیے ان کا تعلق پاکستان کے ماضی قریب میں پیش آنے والے واقعات اور زیادتیوں سے تھا۔ جیسے  جسٹس منیر کا نظریہ ضرورت یا ایوب خان ، ضیا الحق اور پرویز مشرف کی فوجی آمریت۔  یہ حقائق اب اس حد تک عام ہیں کہ ملک کے  موجودہ آمرانہ نظام کی پیروی کرنے والوں  کو بھی ان کے ذکر پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ لیکن پاکستانی سفیر کے لیے یہ حوالے بہت بھاری ثابت ہوئے اور انہیں  اچانک یاد آگیا کہ انہیں تو 7 بجے کسی دوسری تقریب میں جانا تھا۔ لہذا میزبان سے کہہ کر خود اپنی تقریر کی گنجائش پیدا کرائی گئی اور پاکستانی تارکین وطن کو کچھ زریں مشورے دینے کے بعد محترمہ وہاں سے چلی گئیں۔

اصولی طور سے  سفیر پاکستان کو اگر کسی دوسری جگہ جانا تھا تو انہیں ایسی تقریب کی صدارت قبول نہیں کرنی چاہئے تھی جس کے پورے دورانیہ میں وہ موجود نہ رہ سکیں۔   کسی بھی تقریب   کی صدارت   کرنے والے روائیتی طور سے  آخری گفتگو مکمل ہونے تک تقریب میں موجود رہتے ہیں ۔ پھر ان سب باتوں کی روشنی میں صدارتی کلمات کہے جاتے ہیں۔ تاہم محترمہ سعدیہ الطاف قاضی نے ارشد بٹ کی گفتگو کو  موضوع بناکر یہ طے کرلیا کہ وہاں جمع ہونے والے سب لوگ پاکستان مخالف ہیں ۔ ایسے  لوگوں میں تادیر  بیٹھنا شاید ان کے منصب اور ذاتی اخلاقیات کے خلاف تھا۔ پھر بھی اگر وہ معذرت کرکے  خاموشی سے رخصت ہوجاتیں تو شاید حاضرین اسے سفیر پاکستان کی  گوناں گوں مصروفیات  کے عذر پر  قبول کرلیتے۔ تاہم انہوں نے  ارشد بٹ اور ’فرد جرم ‘ کے مصنف عرفان اللہ وڑائچ کو  مخاطب کرکے اپنی ناپسندیدگی کا  اظہار کیا۔  ا س سے وہاں موجود تقریباً ہر شخص کی دل آزاری ہوئی۔

محترمہ سعدیہ الطاف قاضی نے پاکستانی تارکین وطن  پر واضح کیا کہ انہیں شکر کرنا چاہئے کہ پاکستان نے ان سے دست برداری (abandon) اختیار نہیں کی۔  انہوں نے اپنی مرضی سے ناروے آنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان نے ان کا راستہ نہیں روکا بلکہ وہ اب بھی انہیں اپنا سمجھتا ہے۔ لیکن پاکستانیوں کو بھی ہر وقت ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر تنقید کو شعار نہیں بنانا چاہئے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستانی کی گریڈنگ بہتر کررہے ہیں اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ اس لیے  ہمیشہ گلاس کو آدھا   خالی دیکھنے کی بجائے، اسے آدھا بھرا ہؤا دیکھنا چاہئے۔  انہوں نے قرانی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے رحم دلی اور مروت سے کام لینے کا مشورہ دیا ۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی تنقید پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔  تاہم اس کے ساتھ ہی ان کا یہ فرمانا بھی تھا کہ پاکستان میں رائے  کی آزادی ہے اور کسی کو بات کرنے سے روکا نہیں جاتا۔ اس کی مثال انہوں نے یہ پیش کی کہ جب ارشد بٹ تقریر کررہے تھے تو انہوں نے آزادی رائے کی  وجہ سے  ہی منتظمین سے  کہا کہ انہیں اپنی بات مکمل کرنے دیں۔ یہ فرماتے ہوئے سفیر صاحبہ  البتہ یہ بھول گئیں کہ  ناروے کی کسی تقریب میں آزادی رائے حکومت پاکستان یا سفارت خانہ پاکستان کی مہربانی سے عطا نہیں ہوئی بلکہ ناروے کا قانون اپنے شہریوں کو ہر قسم کی رائے ظاہر کرنے کا بنیادی حق عطا کرتا ہے۔

ایک پاکستانی سفیر    کابیرون ملک پاکستانیوں کو یہ پیغام کہ پاکستان نے ’آپ کو ترک نہیں کیا‘ درحقیقت  ان محنت کشوں کی توہین کے مترادف ہے جنہوں نے دہائیوں پہلے  مجبوری کی حالت میں  ملک چھوڑا لیکن آج تک وہ اور ان کی نسلیں پاکستان سے محبت کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔  واضح ہونا چاہئے کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت ہو لیکن پاکستان کی معیشت انہی تارکین وطن کی ترسیلات زر کی محتاج ہے جنہیں ہوش کے ناخن لینے اور سیاسی  تنقید سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔   حالانکہ پاکستان میں رہنے والے یا  ملک سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کی سیاسی رائے کوئی بھی ہوسکتی ہے  لیکن پاکستان سے ان کی محبت کو کسی سفارت خانے یا حکومت کی کسوٹی پر نہیں  پرکھا جاسکتا۔ جو نظام حکومت بھی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا، وہ درحقیقت ملکی مفاد کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔

ناروے کے پاکستانی ایک جمہوری، سماجی انصاف پر مبنی اور قانون پر عمل کرنے والے معاشرے میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور  متنوع مسائل کی صورت حال میں فطری طور سے وہ یہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش ہمارے وطن میں بھی  ایک دوسرے کے احترام کا ایسا ہی ماحول دیکھنے میں آئے۔