شنگھائی تعاون تنظیم اور چین بھارت تعلقات کا مستقبل

  • اتوار 31 / اگست / 2025

چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس شروع ہؤا ہے جس میں روس، پاکستان، بھارت، ترکیہ اور دیگر  درجن بھر ممالک کے  سربراہان شریک ہیں۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی پہلی بار اس تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ انڈیا کی نمائندگی کے لیے  اپنے کسی وزیر کو بھیجا کرتے تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں بھارتی  وزیر اعظم کی شرکت کو  کئی حوالے سے اہمیت دی جارہی ہے۔ یہ سمجھا جارہا ہے کہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھارتی مصنوعات  پر50 فیصد ٹیرف عائد کرنے اور مودی   سے فاصلہ قائم کرنے کے رویہ نے بھارت کو چین کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے پہلے بھارت ، امریکہ اور اس کے  حلیف ملکوں  کی طرف سے چین کے مدمقابل کے طور پر خود کو پوزیشن کرنے کی کوشش کررہاتھا۔ اب بھی بھارت متعدد ایسے اتحادوں یا معاہدوں کا حصہ ہے جن کا مقصد  بحر جنوبی چین میں چین کی عسکری طاقت کو چیلنج کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کو تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کی وجہ سے امریکہ اور یورپی ممالک  اسے چین کے مقابلے میں معاشی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

امریکہ میں صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد صورت حال تبدیل ہوئی  ہے۔ اگرچہ  نریندر مودی ان چند عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے ٹرمپ کے  صدر بننے کے بعد  واشنگٹن کا دورہ کیا اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔  تاہم ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے سب ممالک ہی متاثر ہوئے ہیں اور امریکہ کے قریب ترین حلیف ممالک کو بھی ٹیرف کے لیے امریکی شرائط پر  معاہدہ کرنا پڑا ہے تاکہ دوطرفہ تجارت میں بے یقینی پیدا کرکے اپنے ملکوں کی معاشی بے یقینی کا مداوا کیاجائے۔ ان میں سر فہرست تو یورپی  یونین  ہے جو  امریکہ کے قریب ترین حلیف  سمجھے  جانے والے یورپ کے 27 ممالک کا اتحاد ہے ۔ ٹرمپ نے یورپی یونین پر بھی غیر معمولی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بات چیت کے نتیجے میں اب امریکہ یورپی مصنوعات پر پندرہ فیصد ٹیرف لگائے گا تاہم یورپی ممالک  میں امریکی مصنوعات کسی محصول سے مبرا ہوں گی۔  امریکہ نے ایسے ہی معاہدے آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے قریب ترین حلیف ممالک کے ساتھ بھی کیے ہیں۔ تاہم بھارت خواہش اور کوشش کے باوجود ٹرمپ سے یہ رعایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔  ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے پچیس فیصد ٹیرف عائد کیا تھا تاہم  پھر اچانک روسی تیل خریدنے کی پاداش میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف کی شرح 50 فیصد کردی گئی۔  امریکہ کے اسی غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے حالات نے نریندر مودی کو چین اور شنگھائی تعاون تنظیم کی طرف رجوع کرنے  پر مجبور کیا ہے۔ 

ماہرین کا خیال کہ سربراہی اجلاس میں مودی کی شرکت  چین اور بھارت کے درمیان   قریبی تعلقات کی بنیاد بن سکتی ہے ۔ کیوں کہ چین  پر امریکہ نے 57 اعشاریہ6 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے جبکہ امریکی مصنوعات پر  چینی ٹیرف کی شرح 32 اعشاریہ6 فیصد ہے۔ 2024 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم 582 ڈالر تھا  جس میں سے چین نے امریکہ کو 439 ارب ڈالر کے لگ بھگ مصنوعات برآمد کی تھیں۔  خیال کیا جارہا ہے کہ دونوں ممالک چونکہ امریکی ٹیرف پالیسی کے نشانے پر ہیں ، اس لیے دونوں ملکوں کے لیڈر مشترکہ مفادات کے لیے  قریبی تعاون پر آمادہ ہوں گے۔ خاص طور سے  بھارت ، امریکی منڈیوں سے محروم ہونے کے بعد چین  کو زیادہ مصنوعات برآمد کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔  اس حقیقت کے باوجود کہ چین اور بھارت امریکی ٹیرف کے معاملہ میں ہم خیال ہیں لیکن ان کی معاشی صلاحیت اور حکمت عملی کی وجہ سے دونوں ملکوں کا موازنہ ممکن نہیں ہے۔ چین صدر ٹرمپ کے سابقہ دور کے بعد سے ہی امریکہ سے متبادل منڈیاں تلاش کررہا تھا اور کسی حد تک اس مقصد میں کامیاب بھی ہے۔ جبکہ اس نے  عوامی بہبود کے منصوبوں کے نتیجہ میں  داخلی طور سے بھی  خریداروں کا ایک بڑا گروپ پیدا کرلیا ہے۔ اس طرح  چین کے  پاس امریکہ کو برآمدات میں کمی کے متبادل موجود ہیں۔ جبکہ بھارت کو حال ہی میں امریکہ سے  شکایات پیدا ہوئی ہیں۔ ورنہ وہ اسٹریجک پارٹنر اور چین دشمنی میں امریکہ کا لاڈلا ملک بنا ہؤا تھا۔

بھارت کو امریکہ کے ساتھ  تجارتی و سفارتی مشکلات  سے  پہنچنے والے دھچکے سے نکلنے کے لیے ٹھوس اور طویل المدت منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔  اسے یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کیا ٹرمپ کا دور ختم ہونے کے بعد نئی امریکی حکومت ایک بار پھر بھارت کو دیرینہ شرائط پر ساتھی بنانا چاہے تو کیا وہ چین کے ساتھ ہونے والی پیش رفت نظر انداز کرکے ایک بار پھر امریکی حلقہ اثر کا حصہ بننے پر آمادہ ہوگا۔  دونوں ملکوں کے درمیان طویل المدت تعلقات کے تناظر میں یہ پہلو چینی قیادت کے پیش نظر بھی ہو گا اور  بھارتی لیڈر بھی ابھی اس معاملہ پر کوئی حتمی پالیسی بنانے کی پوزیشن میں نہیں  ہیں۔ اس لیے ایس  سی او کے ایک سربراہی اجلاس میں شرکت اور چین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے اعلان سے معاملات یک بیک تبدیل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے نریندر مودی اور بھارت کو متعدد رعایات دینا  ہوں گی۔  ان کا تعلق چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ، پانی کی تقسیم اور  تبت کے دلائی لامہ کی سرپرستی سے لے کر علاقائی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر حکمت عملی سے بھی ہے۔

بھارت کے چین کی طرف رجوع سے پاک چین تعلقات  بھی زیر بحث آرہے ہیں اور  قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ چین کو اگر بھارت جیسی بڑی منڈی ملے گی تو پاکستان کے ساتھ  اس کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ تاہم  ان قیاس آرائیوں کے حقیقت بننے کا امکان نہیں ہے۔ پاکستان کے ساتھ چین کے طویل المدت اسٹریٹیجک ، معاشی، سیاسی و سفارتی تعلقات ہیں۔ وہ متعدد بین الاقوامی امور پر ہم خیال ہیں۔ سی پیک کے ذریعے پاکستان روڈ اینڈ بیلٹ چینی منصوبے کا ایک اہم اور ناگزیر حصہ ہے۔  چین  ضرور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہے گا لیکن اس کا فوکس اسے امریکی اثر سے دور لانا ہوگا۔ چینی صدر   شی  جن پنگ نےاتوار کے روز مودی سے ملاقات کے دوران  کہا تھا کہ ’عالمی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے اور بین الاقوامی صورتحال افراتفری کا شکار ہے۔ چین اور انڈیا نہ صرف مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں بلکہ دنیا کے  دو سب سے زیادہ آبادی والے ملک اور گلوبل ساؤتھ کا حصہ ہیں۔دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے دوست بن کر رہیں جن کے اچھے تعلقات ہوں۔ ایسے شراکت دار جو ایک دوسرے کی کامیابی کا باعث بنیں، اور ڈریگن اور ہاتھی ایک ساتھ رقص کریں‘۔ اس  موقع پر نریندر مودی  کا  کہنا تھا کہ’ انڈیا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو آگے لے جانے کے لیے پُرعزم ہے‘۔ تاہم اس عزم کو حقیقی شکل دینے کے لیے بھارت کو کئی مشکل مراحل طے کرنا ہوں گے۔ ان میں ایک بنیاد ی مرحلہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ہوگی۔

چین  پرامن حکمت عملی کا قائل ہے اور علاقائی سلامتی پر زور دیتا ہے ۔ دوسری طرف بھارت ، پاکستان کے ساتھ مسلسل حالت جنگ میں ہے۔ مئی کی جھڑپوں کے بعد اس نے اپنا ’آپریشن سندور‘ ابھی تک ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ بھارتی سرکاری ترجمان یہ اشارے دیتے رہتے ہیں کہ پاکستان کو سزا دینے کے لیے  ایک بار پھر ’آپریشن سندور‘ متحرک ہوسکتا ہے۔ ایسے  جنگجویانہ ارادے بھارت کے چین کے ساتھ تعلقات کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بنے  رہیں گے۔  چین کے صدر   شی  جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم  سربراہی اجلاس میں شریک لیڈروں  کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ میں واضح کیاکہ ’اس سربراہی اجلاس پر باہمی تعاون کو فروغ دینے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘۔  صدر شی نے یقین ظاہر کیا کہ  یہ سربراہی اجلاس اتحاد و تعاون میں وسیع تر اضافے کا سبب بنے گا۔چینی صدر نے کہا کہ ’شنگھائی تعاون تنظیم بین الاقوامی تعلقات اور مشترکہ انسانی اساس پر مل بیٹھنے والی ایک نئی طرح کی قوت بن کر سامنے آئی ہے‘۔

یہ الفاظ علاقائی تعاون اور شنگھائی تعاون تنظیم کے منشور کے رہنما اصول ہیں۔  بھارت کی پالیسی ان اصولوں سے متصادم رہی ہے۔ اسے چین کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی، تعاون و تجارت کے فروغ میں شراکت دار بننے کے لیے اپنی بنیادی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی جس میں پاکستان دشمنی سر فہرست ہے۔  نریندر مودی اگر موجودہ دورہ  چین کو فیصلہ کن  بنانا چاہتے تو انہیں اپنی حکومت کی پالیسی  میں تبدیلی کے واضح اشارے دینے چاہئیں تھے۔   مثال کے طور پر اگر بھارتی وزیر اعظم دیگر لیڈروں کی طرح ایس سی او  اجلاس کی سائڈ لائن پر  پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کا شیڈول بھی طے کرتے تو علاقائی تعاون کے علاوہ چین کے ساتھ بھارتی تعلقات کے ایک  امید افزا دور کا  آغاز ہوسکتا تھا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی شاید  ایسا  اقدام کرنے کا حوصلہ نہ کرسکیں۔

مئی میں پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد حالات پر  نریندر مودی   کی گرفت کمزور ہوئی ہے۔ فتح کے نعرے لگانے کے باوجود  دنیا نے اس جنگ کے بارے میں مختلف رائے قائم کی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت میں بھی مودی کا بیانیہ اور حکمت عملی چیلنج ہورہی ہے۔ دریں حالات جب تک نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم ہیں، چین کے ساتھ تعلقات یا بھارت کی خارجہ پالیسی میں کوئی   مثبت  تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ان حالات میں بھارتی وزیر اعظم کے ایس سی او اجلاس میں شرکت کو کوئی خاص اہمیت دینا مشکل ہے۔