شنگھائی تعاون تنظیم: دہشت گردی کے خلاف مضبوط پلیٹ فارم

چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم  کے سربراہی اجلاس  نے پاکستان اور بھارت میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے اور دنیا کے تمام ممالک کے درمیان  انسانی بنیادوں پر وسیع تر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔  چین کے صدر شی جن پنگ نے   باہمی احترام، مساوات و تعاون کے اصولوں پر مبنی  عالمی نظام استوار کرنے کی بات کی۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ صدر شی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے زیر نگرانی کام کرنے والے موجود عالمی نظام کا متبادل پیش کیا  ہے۔ اگرچہ انہوں نے امریکی پالیسیوں اور ٹرمپ کے طرز عمل پر سخت تنقید کی لیکن   ان دونوں کا نام لینے سے گریز کیا اور ایسے اصولوں  پر بات کی جن کے تحت ایک دوسرے کی خود مختاری کو غیر مشروط طور سے تسلیم کیا جائے گا۔  ایس سی او کے اعلامیہ میں باہمی تعاون اور علاقائی تجارت کی خواہش کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم اس اعلامیہ میں  پاکستان اور ہندوستان میں ہونے والے دہشت گرد واقعات کی یکساں طور سے مذمت کرکے ،   علاقے میں دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط پلیٹ فارم   کی طرف نشاندہی کی ہے۔ رکن ممالک اگر  سنجیدگی سے اس اصول پر کام کریں تو ماضی کی بہت سی غلطیوں کا  تدارک ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں 11 مارچ کو  جعفر ایکسپریس  پر حملہ کرکے سینکڑوں مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے انہیں رہا کرانے کے لیے کارروائی کی جس کے دوران 18 فوجیوں سمیت 26 افراد جاں بحق ہوئے۔   فورسز کی کارروائی میں 33 علیحدگی پسند دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔ اسی طرح 21 مئی کو خضدار کراچی  ہائی وے پر  طالب علموں کو لے جانے والی ایک بس پر دہشت گرد حملہ میں 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں تین طالب علم بھی شامل تھے۔ پاکستان کی طرف سے ان حملوں کی ذمہ داری بھارت پر عائد کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ  پاکستان میں ہونے والی دہشت   گردی میں بھارت  کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔  اس دوران  مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے مقام پر بعض دہشت گردوں نے سیاحوں پر حملہ کرکے 26 افراد کو ہلاک کردیا ۔  بھارت نے اس حملہ کی ذمہ داری نہ صرف پاکستان پر  عائد کی بلکہ اس کا انتقام لینے کے لئے 7 مئی کو ’آپریشن سندور‘ کے نام سے پاکستان کے شہروں پر حملہ کردیا۔

اب شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس نے ان تینوں سانحات کی مذمت کی ہے۔ جس اجلاس   میں  دہشت گردی   ان تینوں واقعات کا نام لے کر مذمت کی گئی ہے،  اس میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی شریک تھے۔ یہ دونوں   ممالک اپنے ہاں ہونے والے ہر واقعہ کی  ذمہ داری ہمسایہ ملک پر عائد کرتے ہیں۔ لیکن جب ایسا ہی دعویٰ دوسرے ملک کی طرف سے سننے میں آتا ہے تو اس کی مذمت کی جاتی ہے۔ جعفر ایکسپرس اور پہلگام سانحوں کے بارے میں یہی صورت حال موجود  رہی ہے۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کی منصوبہ بندی نئی دہلی میں کی گئی تھی اور بھارتی ایجنسیوں کے کارندے اس میں ملوث تھے ۔ جبکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ پہلگام حملے میں ملوث گروہ پاکستانی دہشت گردوں پر مشتمل تھا۔ تاہم دونوں طرف سے ایسے شواہد سامنے نہیں آسکے جن پر  کوئی غیر جانبدار فورم اتفاق کرے اور اس تنازعہ کو ختم کراسکے۔

البتہ شہباز شریف اور نریندر مودی کی موجودگی میں  ان تینوں سانحوں کی مذمت پر اتفاق کیا گیا تو اس سے امید یہ ہلکی سی کرن روشن ہوتی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک   دہشت گردی کی سنگینی کو سمجھیں گے اور یک طرفہ طور سے الزام تراشی کے ذریعے خود کو معصوم اور دوسرے کو قصور وار قرار دینے کے رویہ کی بجائے مل جل کر ایسے اقدامات کیے جائیں گے کہ برصغیر میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکے۔  ایس سی او کے اعلامیہ میں ہر قسم کی دہشت گردی سے دست برداری اختیار کرتے ہوئے اس عہد کا اعادہ کیا  گیاہے کہ رکن ممالک دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی سے اجتناب کریں گے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد، علیحدگی پسند اور انتہاپسند گروہوں کو باہمی تنازعات میں ہتھکنڈے کے طور  پر استعمال نہیں کیاجائے گا۔ بلکہ رکن ممالک  خود مختار ریاستوں کے طور پر ایسے عناصر کے خاتمہ کے لیے کام کریں گے۔ 

 اعلامیہ  جاری ہونے سے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا اور کہا  کہ ’پاکستان امن کا خواہاں ہے اور  اپنے تمام پڑوسیوں سے معمول کے مستحکم تعلقات چاہتا ہے۔ لیکن انتہا پسندی اور دہشتگردی خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے۔ پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی، مکالمے اور سفارت کاری کی طاقت پر یقین رکھتا ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔  پاکستان ایس سی او اراکین اور ہمسایہ ممالک کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور تمام بین الاقوامی و دوطرفہ معاہدوں کا پاسدار ہے‘۔

وزیر اعظم پاکستان کی تقریر اور ایس سی او سربراہی کانفرنس کے اعلامیہ کو ملا کر پڑھا جائے تو اسے پاکستانی مؤقف کی تائید کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔  پاکستان اور بھارت کے تناظر میں پاکستان نے پہلگام  سانحہ کے بعد سے مسلسل باہمی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ بھارت کی طرف سے ایک طرف بات چیت  سے انکار کیا جاتا ہے تو دوسری طرف  یہ واضح کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ہونے والی کسی بھی دہشت گردی کا الزام پاکستان پر عائد کرکے دہشت گردوں کا پیچھا کرے گا اور پاکستان پر حملہ کرے گا۔ یہ مؤقف درحقیقت عالمی  چارٹرز کے علاوہ اب شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیہ کے بھی برعکس ہے۔  تصویر کا یہ پہلو خوشگوار ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس کانفرنس میں شریک تھے اور سربراہی کانفرنس کے اعلامیہ پر متفق ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ نئی دہلی اب اس معاملہ  میں  اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے گا تاکہ علاقے میں دہشت گردی و انتہاپسندی کے خاتمہ کے لیے مل جل کر کام ہوسکے۔ یہ واضح ہے کہ دہشت گردی فاصلے پیدا کرنے اور ایک دوسرے پرالزامات عائد کرنے سے نہیں رکے گی بلکہ اس کے لیے متاثرہ ممالک کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔  ایس سی او نے اب اسی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیہ میں انتہاپسند و علیحدگی پسند گروہوں کو کسی خاص مقصد کے لیے  استعمال کرنے سے گریز کا مشورہ دیا  گیاہے۔ پاکستان بھی بلوچستان میں مسلح  علیحدگی پسندی کے حوالے سے اسی نکتے پر زور دیتا رہا ہے۔ اس کا الزام ہے کہ  علیحدگی پسند بلوچ گروہوں کو بھارتی ایجنسیوں کی براہ راست حمایت حاصل ہے تاکہ وہ انہیں پاکستان میں انتشار، بدامنی اور بدانتظامی کے لیے استعمال کرسکے۔  یہی اصول  ایس سی او کے اعلامیہ میں واضح ہونے سے پاکستانی مؤقف کو تقویت ملی ہے۔ بھارت کی  طرف سے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں علیحدگی  پسند گروہوں کی مدد کا الزام لگایا جاتا تھا لیکن پاکستان طویل عرصہ سے اس طریقہ کو مسترد کرچکا ہے۔ اس وقت پاکستان کشمیر کی خود مختاری کی سیاسی و سفارتی حمایت تو کرتا ہے لیکن وہاں سرگرم عسکری گروہوں کی پشت پناہی سے تائب ہوچکا ہے۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے بھارت کو بھی اسی حکمت عملی کو اختیار کرنا پڑے گا۔

بھارت نے موجودہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے پہلے اس تنظیم کو سنجیدہ نہیں لیا تھا۔ وہ امریکہ کا لاڈلا حلیف تھا اور ایس سی او کے بیشتر فیصلوں سے لاتعلقی ظاہر کرتا رہا ہے۔ تاہم ٹرمپ  حکومت نے غیر معمولی ٹیرف عائد کرکے بھارت کے سفارتی  آپشنز محدود کردیے ہیں۔ اسی لیے بھارتی حکومت چین کی طر ف رجوع کرنے  پر مجبور ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم پہلی بار ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔ اس اجلاس میں ہونے والی بات چیت اور اعلامیہ کی روشنی میں اگر تمام رکن ممالک دیانتداری سے عمل کریں تو  چین اور روس کے ساتھ مل کر ایک وسیع  علاقائی اتحاد مستحکم ہوسکتا ہے جو ایک دوسرے کی معاشی ترقی  میں معاون بھی ہوسکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی علاقائی تنازعات  حل کرنے کا ایک ٹھوس اور قابل اعتبار پلیٹ فارم بھی  قائم  کیا جاسکتا ہے۔

اجلاس نے دہشت گردی اور انتہاپسندی  ختم کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے کا اصول واضح کرکے  پاکستان اور بھارت کو ایک نایاب موقع فراہم کیا ہے۔ اسلام آباد اور نئی دہلی کے لیڈر اگر ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہوجائیں تو خطے کے غریب عوام کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔