سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل، بہاولنگر میں چاویکا بند ٹوٹ گیا
پنجاب میں سیلاب سے 24 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔ جب کہ تقریباً 10 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ اگلے 48 سے 72 گھنٹے بعد 13 لاکھ کیوسک کا ریلا سندھ کے علاقوں سے گزرنے کا امکان ہے۔
سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل ہوگیا ہے۔ ملتان میں دریائے چناب کا بڑا آبی ریلا ہیڈ محمد والا سے گزر رہا ہے۔ پانی متعدد بستیوں میں داخل ہونے کے بعد ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ بستیوں سے لوگوں کو محفوط مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔ ملتان میں دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہوگئی۔ اکبر فلڈ بند کے قریب پولیس نے بیریئر لگاکر ہیڈ محمد والا روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ ہیڈ محمد والا پر 4 لاکھ 90 ہزار کیوسک کا ریلا پہنچ گیا۔ آج ملتان میں 8 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزرے گا۔ پانی زیادہ ہونے کی صورت میں بند پر شگاف ڈالا جائے گا، جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب فواد ہاشم ربانی نے مظفرگڑھ کا ہنگامی دورہ کیا۔ اور دریائے چناب کے کنارے دوآبہ کے مقام پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی انتظامیہ اور عوام کو سیلاب کے چیلنج کا سامنا ہے۔
ادھر بہاولنگر میں دریائے ستلج میں آنے والے بڑے سیلابی ریلے سے چاویکا بہادر کا بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں پانی کی لپیٹ میں آگئیں۔ مین شاہراہ میں پانی موجود ہونے سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ چیچہ وطنی میں سیلاب سے متعدد دیہات زیر آب آنے کے بعد لوگوں کی مویشوں کے ہمراہ محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔
پنجاب کے ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے کہا ہے کہ صوبے میں اب تک 24 لاکھ افراد، 3 ہزار 200 دیہات متاثر ہوئے۔ سیلاب میں پھنسے 9 لاکھ 99 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کے دوران 7 لاکھ 80 ہزار جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ صوبے بھر میں 395 ریلیف کیمپ، 392 میڈیکل کیمپ اور 336 ویٹرنری کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں شدید سیلاب کے باعث 24 لاکھ سے زائد افراد اور 3 ہزار 200 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ پی ایم ڈی نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تمام بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں آندھی اور کہیں کہیں بارش کی پیشگوئی کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ ان مقامات میں اسلام آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال، ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژنز شامل ہیں۔ ایڈوائزری میں مزید کہا گیا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران فیصل آباد اور شمال مشرقی بلوچستان میں کہیں کہیں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔
سندھ کے مختلف اضلاع کے کچے کے علاقوں میں سیلابی صورتحال کے بعد لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔ سندھ کے 3 بیراجوں پر بدستور نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے آج 8 لاکھ کا سیلابی ریلا آنے کی توقع کی جارہی ہے۔ ضلع کونسل سکھر کی جانب سے کچے میں پانی میں پھنسے کئی خاندانوں کو کشتیوں پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سے 78 دیہات زیر آب آگئے۔ بے گھر لوگوں نے کشتتیوں پر محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع کردی۔ ٹھٹھہ میں سیلاب سے کچے کے متعدد گاؤں زیر آب آنے سے 100 سے زائد مکانات ڈوب گئے۔ سیلاب سے متاثرہ افراد اپنی مدد آپ کے تحت کیمپ لگانے میں مصروف دکھائی دیے۔
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد 12 سے 13 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچے گا۔ صوبائی وزارتِ اطلاعات نے ’ایکس‘ پر ان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی سکھر اور کوٹری بیراج سے بغیر کسی نقصان کے گزر چکا ہے۔