ریاست کی لاپرواہی اور تعلیم کی طبقاتی تفریق
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 02 / ستمبر / 2025
ریاست کیا ہوتی ہے، اس کی تشکیل کیسے ہوتی ہے، ریاست اور فرد کا تعلق کیا ہے؟ اور ریاست کی ذمہ داریاں یا فرائض کیا ہوتے ہیں؟
ریاست کی تشکیل افراد کے آپس میں مل کر رہنے اور اپنے فرائض و حقوق کے لین دین کے معاہدے کے تحت تشکیل پاتی ہے۔ مختلف ممالک یا ریاستوں کی تشکیل ان کے حالات اور حدود و قیود کے مطابق طے پاتی ہے کچھ ممالک وفاق ہیں جن میں مختلف قومیتوں نے اپنے اپنے مطالبات کے ساتھ الحاق کیا ہوتا ہے اور کچھ ریاستیں ایک ہی قومیت اور علاقے پر تشکیل دی گئی ہوتی ہیں۔ ریاست اور ریاست میں رہنے والے افراد کے بیچ ایک معاہدہ ہوتا ہے جسے عام زبان میں عمرانی معاہدہ کہا جاتا ہے جس میں ریاست اور افراد کے حقوق و فرائض کا ذکر ہوتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داریوں میں افراد کا ہر قسم کا تحفظ کرنا، قوانین پر عملدرآمد کروانا، ملک کے اندر امن قائم رکھنا اور اپنے افراد کی بنیادی ضروریات اور ان کے حقوق بہم پہنچانا ہوتا ہے۔ بنیادی حقوق میں سب سے پہلے انسانی جان کا تحفظ، صحت اور تعلیم ہوتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داریوں میں وسائل پیدا کرنا اور وسائل کی درست تقسیم کا کام بھی ہوتا ہے۔ افراد کے بنیادی حقوق میں صحت تعلیم، روزگار کے مواقع اور قانونی تحفظ سرفہرست ہیں۔
آج ہم صرف تعلیم اور صحت پر بات کریں گے اور اپنی ریاست کا دوسرے ممالک سے تھوڑا سا موازنہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہماری ریاست صحت اور تعلیم کی ذمہ داریوں سے تقریباً سبکدوش ہو چکی ہے اور ہمارے ملک میں صحت اور تعلیم بہت بڑے منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں۔ جس ملک میں تعلیم اور صحت کاروبار بن جائیں وہاں انصاف بکنے لگتا ہے اور ایمانداری ناپید ہو جاتی ہے۔ ہمارا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری تعلیم یکساں نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک کئی طبقات میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان میں صرف ایک ایچی سن کالج کی کلاس الگ ہوتی تھی، باقی ملک میں تعلیم میں زیادہ فرق نہیں ہوتا تھا۔ البتہ ملک کی چند درسگاہوں کا نام کچھ بلند تھا۔ جیسے گورنمنٹ کالج لاہور۔ پھر 80 کی دہائی سے مختلف نجی انگریزی تعلیمی اداروں کی بنیاد پڑنا شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ سلسلہ ہر شہر، محلے اور دیہاتوں تک پھیل گیا۔
جب ہم سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھتے تھے تو اس وقت طلبہ و طالبات کے لیے ایک مخصوص لباس یا یونیفارم ہوتا تھا، لڑکے ملیشیا (گہرے گرے یا کالے رنگ کا ایک عام سا کپڑا جو سستا ہوتا تھا) پہنتے تھے جبکہ لڑکیوں کی نیلے رنگ کی قمیض اور سفید شلوار ہوتی تھی جبکہ دوپٹے کا رنگ بھی سفید ہی ہوتا تھا۔ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ سب بچوں کا لباس ایک جیسا ہوگا تو ان میں یکسانیت نظر آئے گی۔ لیکن جیسے جیسے نجی تعلیمی اداروں میں اضافہ ہوتا گیا تو پھر مذہبی فرقوں کے الگ الگ نشانیوں کی طرح ان تعلیمی اداروں کے یونیفارم بھی اپنے اپنے بنتے گئے۔ یہ یونیفارم اس طرح کے ہوتے ہیں کہ ان میں کشش نظر آتی ہے نہ تو یہ ہمارے قومی لباس سے مماثلت رکھتے ہیں، نہ ہی عام غریب آدمی کی قوت خرید میں ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر نجی سکول کی کتابوں سے کاپیوں تک دوسروں سے الگ ہوتی ہیں۔ ہر سکول کی داخلہ اور ماہانہ فیس بھی مختلف ہوتی ہے۔ ان تمام چیزوں پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ مقابلہ صرف پیسے کمانے کے لیے ہو رہا ہے۔ بچے پڑھتے ہیں ان کو سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں بھی ملتی ہیں مگر ان کے ذہن میں ایک بات نقش ہو جاتی ہے۔ وہ یہ کہ سب کچھ پیسہ ہی ہے۔ لہذا وہ بھی فارغ التحصیل ہونے کے بعد پیسے کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں دوسری جو بات ہوتی ہے وہ رتبہ ہے۔ اس لیے وہ بھی ہر حال میں رتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اب ذرا ایک دوسری ریاست سے موازنہ کرتے ہیں۔ میرے بھائی کے دو بیٹے اے پی ایس بھمبر میں اور دو چھوٹی بچیاں گاؤں کے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھ رہی تھیں، چاروں بچوں کی تعلیم کا ماہانہ مجموعی خرچ لگ بھگ 30 ہزار روپے تھا۔ (میرے دوسرے بھائی کے 4 بچے لاہور بیکن ہاوس میں پڑھ کر گئے ہیں ان کا ماہانہ مجموعی خرچ ایک لاکھ 50 ہزار تک تھا)۔ اب بھمبر والے بچے ایک سال پہلے ناروے چلے گئے وہاں ان کو مختلف جگہوں میں داخلہ ملا۔ پہلے ان کو وہاں کی زبان سکھانا شروع کی اور ساتھ ساتھ کلاس بھی۔ اب وہ عام کلاسوں میں شروع کر چکے ہیں اور جن کلاسوں سے گئے تھے اس سے ایک یا دو کلاسیں آگے بٹھایا گیا ہے۔ اب ان چاروں بچوں کو ریاست ماہانہ دو لاکھ روپے سے زائد بنیادی ضروریات کے لیے دیتی ہے۔ سکول سو فیصد مفت ہیں کوئی کتاب خریدنی ہے نہ کسی یونیفارم کی ضرورت ہے۔ چھوٹی بچی کو سکول آنے جانے کے لیے ٹیکسی ملی ہے اور بڑے بچوں کو بس کے مفت کارڈ ملے ہیں۔ تمام بچوں کو صبح کا بہترین ناشتہ اور دوپہر کا کھانا سکول والے دیتے ہیں جو بچوں کی صحت کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ اگر بچوں کو خدا نخواستہ کوئی صحت کا مسئلہ ہو ، دانت میں کوئی مسئلہ ہو تو اس کا سو فیصد مفت اور بہترین علاج ہوتا ہے۔ والدین کے اوپر بچوں کی اتنی ہی ذمہ داری ہے کہ گھر میں بچوں کو اچھا ماحول فراہم کریں اور گھر کے اندر بچوں پر کوئی تشدد یا کسی قسم کا دباؤ نہ ہو۔
میرے خیال میں برطانیہ سمیت پورے یورپ میں ایسے ہی ہے لیکن سارے ممالک بچوں کو ماہانہ پیسے نہیں دیتے یہ اسکینڈنیوین ممالک کے علاوہ چند دوسرے ممالک ہیں جو بچوں کو پیسے دیتے ہیں۔ کینیڈا اور امریکہ میں بھی تعلیم مکمل فری ہے۔ کیوبا جیسے غریب ملک میں تعلیم اور صحت مکمل طور پر ریاست کے ذمے ہے۔ یورپ میں بڑے افراد کے لیے صحت کی سالانہ ایک چھوٹی سے رقم ہوتی ہے لیکن کیوبا میں وہ بھی نہیں ہے۔ اسی طرح تمام ترقی یافتہ ممالک میں سب کے لیے صحت کی ساری ذمہ داری ریاست لیتی ہے۔ جو ممالک غریب ہیں ان کا نظام غلط ہے اور ان کی قیادت کی نالاقیوں کی وجہ سے غربت ہے۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ برطانیہ اور یورپ نے جن ممالک پر قبضہ رکھا، وہاں سے جاتے وقت اپنے حواریوں اور اپنے نوکروں کو مسلط کر گئے جنہوں نے کوئی نظام نہیں بننے دیا۔ اور اپنے ملکوں کو مستحکم نہیں ہونے دیا۔