ناروے میں 2025 کے قومی انتخابات میں پاکستانی نژاد امیدوار

8 ستمبر 2025 کے نارویجین قومی اسمبلی الیکشن کمپین آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ کارنر ، جنرل مینٹگز کے ساتھ مساجد ، چرچ، میڈیا پر مباحثے ، سیاسی پارٹیاں ہر فورم پر جاکر اپنا سیاسی ، معاشی، انتظامی ایجنڈا عوام کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔

 ان انتخابات میں ہر پارٹی نے تارکین وطن امیدواروں کو بھی ٹکٹ دیے ہیں پاکستانی تارکین وطن جن کی اب تیسری نسل ناروے میں پروان چڑھ رہی ہے، ان کو نارویجین سیاسی پارٹیاں خصوصی اہمیت دے رہی ہیں۔ پاکستانیوں کی اس عزت افزائی کی وجہ سے ناروے کی بڑی سیاسی پارٹیوں نے پاکستانی نژاد امیدواروں کو اپنی امیدوار لسٹ میں پہلے نمبروں میں رکھا ہے۔ جس سے پاکستانی نژاد امیدواروں کے ایم این اے بننے کا زیادہ امکان ہے۔

اس وقت موجودہ کنزرویٹو پارٹی اتحاد کی اپوزیشن میں 2 پاکستانی مرد ایم این ایز ہیں، جبکہ لیبر پارٹی کی موجودہ حکومت میں ایک پاکستانی خاتون ایم این اے ہونے کے ساتھ وفاقی وزیر ہیں۔ 2025 کے نارویجین پارلیمان کے انتخابات میں جو پاکستانی امیدوار حصہ لے رہے ہیں اور جن کا قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہونا یقینی نظر آرہا ہے، ان کا مختصر تعارف:

عابد راجہ

عابد راجہ کو وینسترے پارٹی نے صوبے آکرہوس کی امیدوار لسٹ میں پہلے نمبر پر رکھا ہے۔ پہلا نمبر ہونے کی وجہ سے عابد راجہ کے چوتھی دفعہ مسلسل ایم این اے بننے کے چانسز ہیں۔ عابد راجہ 2013 سے 2021 تک حکومت میں تھے۔ عابد راجہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی، کنٹرول اور آئینی کمیٹی کے ممبر رہے ہیں۔ یہ کمیٹی پارلیمانی جمہوریت میں سب سے طاقتور کمیٹی سمجھی جاتی ہے۔ اس کمیٹی نے حکومت اور پارلیمنٹ پر نظر رکھنا ہوتی ہے کہ وہ دوران حکومت یا پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران کسی بھی قسم کا غیر قانونی کام تو نہیں کر رہے۔ کیا کوئی نیا قانون ملکی آئین کے پیرا میٹر کے اندر رہ کر بن رہا ہے یا کہ نہیں۔ عابد راجہ بولڈ قسم  کے سیاست دان ہیں، اور اپنا موقف کسی بھی ایشو پر کھل کر بیان کرتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ میڈیا اور جنرل پبلک میں کافی مشہور اور کنٹرورشل ہیں۔

مدثر کپور

مدثر کپور موجود حکومت کنزرویٹو ہائرے پارٹی کی طرف سے 2013 سے 2025 تک ایم این رہیں۔ اس ٹرم میں مدثر کپور پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیات اور رابطہ سرکاری اداروں کی کمیٹی کے متحرک ممبر رہے۔ اب ہائرے نے کیپٹل اوسلو کی اپنی امیدوار لسٹ پر مدثر کپور کو 3 نمبر پر رکھا ہے۔ مدثر کپور کے بھی کافی چانسز ہیں کہ وہ چوتھی مرتبہ ایم این اے منتخب ہو جائیں۔ کیونکہ عمومی طور پر اوسلو کے حلقے سے ہائرے 6 ، 7 ایم این ایز منتخب کروالیتی ہے۔ مدثر کپور کام سے کام رکھنے والے سیاستدان ہیں، میڈیا سے دور رہ کر کام کرتےہیں، ان کی سیاست کا اسٹائل باتیں کم ، کام پر زیادہ توجہ ہے۔

لبنی جعفری

لبنی جعفری ناروے کی سب سے بڑی پارٹی لبیر پارٹی کی ممبر ہیں۔ لبنی جعفری لبیر پارٹی کی موجودہ حکومت میں وزیر مساوات اور ثقافت ہیں۔ لبنی جعفری ضلع ہوردے لاند سے 2021 میں لبیر پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی امیدوار منتخب ہوئی تھی۔ 2025 کے قومی اسمبلی انتخابات کے لیے ہوردے لاند حلقے سے لبیر پارٹی نے لبنی جعفری کو دوبارہ اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ لبنی جعفری ایڈمنسٹریشن اینڈ آرگنائزیشن مضامین میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہیں۔ لبنی جعفری لبیر پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں میں سرگرم ہونے کے ساتھ تارکین وطن، تعلقات عامہ اور انٹیگریشن معاملات پر پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں۔ لبنی جعفری مختلف النسل کے لوگوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ثقافتی و ادبی سرگرمیوں کے انعقاد کو اہم ذریعہ سمجھتی ہیں۔

فرح قریشی

فرح قریشی کو 2025 کے قومی اسمبلی انتخابات کے لیے لیبر پارٹی نے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے ۔ وہ لبیر پارٹی کی نامزد امیدواروں کی اوسلو لسٹ میں ساتویں نمبر پر ہیں۔ فرح قریشی لیبر پارٹی کے ایک سرگرم رکن ہیں۔ وہ کئی سالوں سے مقامی سیاست، سماجی کام اور ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اُنہیں کمیونٹی ورک، کھیلوں اور نوجوانوں کے مسائل میں گہری دلچسپی ہے۔ پیشے کے لحاظ سے، فرح قریشی جیل سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ اور اوسلو جیل افسران کی یونین کے سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔ فرح قریشی سماجی انصاف، اقلیتوں کے حقوق، اور مہاجرین و تارکین وطن سے متعلق مسائل کے حل کے لیے پُرجوش ہیں ۔ وہ اُن سیاسی جماعتوں (جیسے کہ فریم سکرت پارٹی) پر تنقید کرتی رہی ہیں جو مہاجرین اور اقلیتوں کو جرائم سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اُن کا مؤقف ہے کہ نوجوانوں کے جرائم کو صرف نسل یا ثقافت کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اس کے پیچھے معاشی معاملات، تعلیمی، اور سماجی چیلنجز کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔

فرح قریشی پُرعزم سیاستدان ہیں جو ناروے میں سماجی انصاف، اقلیتوں کے حقوق، اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔

ان یقینی طور پر منتخب ہونے والے امیدواروں کے ساتھ ساتھ دوسری پارٹیوں میں بھی پاکستانی نژاد افراد قومی اسمبلی انتخابات میں امیدوار ہیں۔ خاص کر نئی پارٹی سنٹرم۔ پارٹی سنٹرم کے 3 حلقوں میں امیدوار لسٹ کے پہلے نمبروں پر پاکستانی نژاد نامزد امیدوار ہیں۔ اگر پارٹی سنٹرم نے 8 ستمبر انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو درج ذیل امیدواروں میں سے کوئی بھی قومی اسمبلی کی نشست حاصل کرسکتا ہے: مہتاب افسر، سمیعہ ناز، ثمینہ تھاگے ،ساجد مختار اور ناصر گوندل۔