ناروے میں انتخابی عمل کے مراحل

ناروے میں آٹھ ستمبر کو ہونے والے انتخابات کے انتخابی عمل کی ابتدا پچھلے سال کے اواخر سے شروع ہو ئی تھی، جب تمام سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینے کے عمل مکمل کیا۔

ناروے کے انتخابی قانون کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں انتخابی سال میں اپنے امیدواروں کی فہرستیں 30 مارچ تک الیکشن کمیشن کے پاس داخل کرانے کی پابند ہوتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس امیدواروں کی مرتب شدہ فہرست تمام جماعتیں اپنے رجسٹرڈ شدہ پارٹی نام کے ساتھ تمام حلقوں میں جمع کرواتی ہیں۔ رجسٹرڈ شدہ جماعتوں کے علاوہ وہ جماعت جس نے پچھلے انتخابات میں پانچ ہزار ووٹ حاصل کئے ہوں، وہ بھی بغیر کسی خاص شرط کے اپنے امیدواروں کی فہرست داخل کروانے کا حق رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی گروہ آزاد امیدواروں کی فہرست داخل کرانا چاہتا ہے تو پھر اُسے جس حلقے سے امیدواروں کی فہرست داخل کرانا مقصود ہو، وہاں کے درج شدہ ووٹروں کی تعداد کے ایک فیصد کے دستخطوں کو حاصل کر کے امیدواروں کی فہرست داخل کرا کر انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔

انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار کو اپنے حلقے میں رہائش پذیر ہونے کی شرط سے استثنا حاصل ہے البتہ ایک امیدوار صرف ایک ہی جماعت سے امیدوار ہوسکتا ہے۔ جماعتوں کی طرف سے امیدواروں کی فہرست داخل ہونے کے بعد الیکش کمشن تمام فہرستوں کو مشتہر کرتا ہے اور تمام امیدواروں سے فرداً فرداً رابطہ کر کے ان کی رضامندی معلوم کی جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی تمام کارروائی یکم جون تک مکمل کرتے ہوئے حتمی فہرستیں جاری کر دیتا ہے جن کو رائے دہندگان دوران انتخاب بطور بیلٹ ( پرچی )استعمال کرتے ہیں۔ فہرستوں کے جاری ہونے کے بعد الیکشن کمیشن انتخابات کے عملی مرحلہ کے انتظامات کو ترتیب دیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رائے دہی میں شرکت کو آسان ترین بناتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے میں عوام کو کسی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔

اس سلسلہ میں قبل از وقت رائے دہی کے استعمال کا عمل شروع کیا جاتا ہے جو تقریباً ایک ماہ پر محیط ہوتا ہے تاکہ لوگ انتخاب والے دن سے قبل بھی جب چاہیں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ اس کے علاوہ خاص کر یہ بندوبست بھی کیا جاتا ہے کہ جو لوگ خراب صحت یا پھر کسی اور معذوری کی وجہ سے عام حق رائے دہی کے مقام تک رسائی میں دشواری کا شکار ہوں تو انہیں یہ حق استعمال کرنے کے لیے ممکن حد تک آسودگی پیدا کی جاتی ہے خاص کر ہسپتال میں زیر علاج اور عمر رسیدہ لوگوں کی نگہداشت کے اداروں میں رہائش پذیر افراد کو وہیں پر رائے دہی کے استعمال کی سہولت کا انتظام کیا جاتا ہے۔ تاکہ کوئی بھی خرابی صحت یا پھر کسی جسمانی معذوری کی وجہ سے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔ اور ہر کسی کو یہ سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے لیے الیکش کمیشن کا عملہ ہر حلقے میں ہسپتالوں کے اندر رائے دہی کے استعمال کے لیے انتظام کرتا ہے اور زیر علاج مریضوں کو یہ سہولت وہاں پر میسر کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جو مریض اپنے بستر سے اُٹھنے کے قابل نہیں ہوتے، انہیں بستر پر جا کر رائے دہی کی سہولت مہیا کی جاتی ہے۔ اس سارے عمل کو شفاف رکھنے کے لیے مکمل غیر جانبداری کا خیال رکھا جاتا ہے۔

اسی طرح ناروے کے عمر رسیدہ افراد کے اداروں میں انتہائی ضعیف افراد کے لیے بھی وہاں رائے دہی کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ وہاں پر بھی ہر رائے دہندگان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور جو بزرگ اپنے بستر سے اُٹھنے سے لاچار ہوتے ہیں انہیں یہ سہولت ان کے اپنے کمرے کے اندر بستر پر ہی مہیا کی جاتی ہے۔ وہ افراد جو اپنے گھر میں رہتے ہیں اور کسی بیماری اور معذوری کی وجہ سے خود اپنے سہارے ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن نہیں پہنچ سکتے تو وہ اپنی مقامی بلدیاتی انتظامیہ کی وساطت سے الیکشن کمیشن کو اپنا ووٹ اپنے گھر سے ڈالنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جس میں انہیں یہ وجہ بتانی ہوتی ہے کہ وہ کس مجبوری کے تحت خود پولنگ اسٹیشن پر پہنچنے کے اہل نہیں۔ ایسی صورت میں ان کی درخواست اگر منظور ہو جاتی ہے تو پھر الیکشن کمیشن گھر میں رائے دہی کے استعمال کے لیے عملہ متعین کرتا ہے جو ووٹ کے استعمال کے لیے درکار تمام سازوسامان کے ساتھ متعلقہ رائے دہندہ کے گھر جا کر ووٹ ڈالنے کاُ موقع فراہم کرتا ہے۔ اس طرح ایسے افراد اپنے گھر سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتےہیں ۔

یہ تمام حقوق نارویجن شہریوں کے بنیادی شہری حقوق میں قانون و آئین کا حصہ ہیں جن پر عملدرآمد کے بغیر انتخابی عمل کو ادھورا تصور کیا جاتا ہے، جس پر عملدرآمد ہر صورت میں کیا جاتا ہے۔ قطع نظر کہ اس پر کتنے ہی وسائل کیوں نہ استعمال کرنے پڑیں۔ اس کے علاوہ جیل میں قید افراد کو بھی یہ سہولت حاصل ہے۔ بیرون ملک مقیم نارویجن شہریوں کو بھی اپنا رائے دہی استعمال کرنے کے لیے ناروے کے سفارت خانوں میں یہ سہولت مہیا کی جاتی ہے ۔ بیرون ملک تمام نارویجن انتخاب کے لیے طے شدہ دن سے دس روز قبل تک کسی بھی نارویجن سفارت خانے میں جا کر اپنی شناخت کرواتے ہوئے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔ اور سفارت خانہ ڈالے گئے تمام ووٹوں کو الیکشن والے دن سے قبل ناروے پہنچانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ وہ یہ ذمہ داری نارویجن الیکشن کمیشن کے تعاون سے انجام دیتا ہے۔  اس۔کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ لوگوں کو رائے دہی کے عمل میں شامل کرنا ہی نہیں بلکہ اس بنیادی شہری حقوق کی پاسداری ہوتا ہے جو جمہوری نظام حکومت کی بنیاد ہے،

اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کوئی بھی شہری اپنی کسی مجبوری کے تحت اس حق کو استعمال کرنے سے محروم نہ رہے۔