شنگھائی تعاون تنظیم کا سبق
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 03 / ستمبر / 2025
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا قیام 2001 میں چینی شہرشنگھائی کے مقام پر ہوا جس میں چائنا اور رشیا کے علاوہ قازقستان، تاجکستان اور کرغستان شامل تھے۔ پاکستان اور انڈیا 10جولائی 2015 کو اس میں شامل ہوئے۔
اس تنظیم کا حالیہ 25واں سربراہی اجلاس چائنا کے شہر تیانجن میں ہوا جو تنظیم کی تاریخ کا سب سے بڑا اجلاس تھا۔ اس میں بیس ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔ اس اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں انڈین پرائم منسٹر نریندرامودی خود بنفسِ نفیس شریک ہوئے۔ اس سے پہلے وہ اپنے نمائندوں کو بھیجتے رہے ہیں۔ یوں وہ سات برس بعد چائنا یاترا پر آئے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی سمٹ میں مودی کی آمد اس لیے بھی اہمیت کی حامل تھی کہ حالیہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے انڈیا پر جو پچاس فیصد ٹیرف لگایا ہے، اس سے انڈیا اور امریکا کے تعلقات میں اچھی خاصی سردمہری آگئی ہے۔ انڈیا کو امریکا کا قریب ترین اتحادی مانا جاتا رہا ہے۔ جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کو ایک طرح سے امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کے بالمقابل طاقتور تنظیم کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا بنیادی سلوگن ہی یہ ہے کہ چائنا کی ابھرتی طاقت کو کسی بھی طرح دبایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تیانجن سمٹ کو ناپسند کرتے ہوئے، اسے محض نمائشی کارروائی قرار دیا ہے۔
چائنا اور رشیا کی مشترکہ خواہش رہی ہے کہ انڈیا امریکی اتحادی بننے کی بجائے زیادہ سے زیادہ ان کی قربت میں آتے ہوئے ایشیائی طاقت کا حصہ بنے، جیسے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے اس اہم ترین موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ورلڈ آرڈر کے نام پر غنڈہ گردی اور دھمکی آمیز رویہ قابلِ مذمت ہے“۔ اس میں اگرچہ انہوں نے امریکا کانام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ واضح تھا۔ چینی صدر نے مغرب پر تنقید کرتے ہوۓ یہ بھی کہا کہ ہمیں اس کی بالادستی اور طاقت کی سیاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر باہمی اتفاق رائے کو فروغ دیں ایک دوسرے کے دوست اور پارٹنر بنیں۔ صدر شی کا کہنا تھا کہ باہمی اختلافات کا احترام کرتے ہوئے تزویراتی رابطے قائم کریں۔ اس سلسلے میں صدر شی نے انڈیا چائنا تعلقات کی مثال دیتے ہوۓ کہا کہ مشرق میں ہم دو قدیم ترین تہذیبیں ہیں، سب سے بڑی آبادی والی اقوام جو دو ارب اسی کروڑ عوام پر مشتمل ہیں۔ بلاشبہ ہمارے سرحدی تنازعات بھی ہیں لیکن ان معاملات کو ہمارے مجموعی تعلقات پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ایک دوسرے کی کامیابی کے لیے اچھے پارٹنر ہیں۔ ہم اپنے تجارتی تعلقات کے حجم کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ ڈریگن اور ہاتھی کے مشترکہ رقص کی طرح تعاون و اتحاد ضروری ہے۔
رشین پریذیڈنٹ ولادیمیرپیوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناروا طور پر کہا کہ مغرب کی جانب سے یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی مستقل کوششیں یوکرینی تنازع کی اہم وجوہات میں سے ایک ہیں۔ جو رشیا کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بنتی ہیں۔ پاکستانی پرائم منسٹر شہبازشریف نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اپنے تمام ہمسایوں سے معمول کے تعلقات چاہتے ہیں جبکہ انڈین پرائم منسٹر نے اتنک واد یا ٹیررارزم کی بھرپور مذمت کی۔ یوں جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا اس میں تقریباً تمام رکن ممالک کے مطالبات یا تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی ایک پر الزام لگانے یا نام لینے کی بجائے ایک عمومی بات کی گئی۔ اس میں جہاں پاکستان کے مطالبہ پر جعفر ایکسپریس اور خضدار حملے کی مذمت کی گئی، وہیں بھارتی مطالبے پر سانحہ پہلگام کی دہشت گردی کو قابلِ مذمت قراردیا گیا جن کے سرپرستوں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا۔
2015 کے ایران جوہری معاہدے کی توثیق کی گئی تھی، اس کے خلاف یواین قرارداد کی دوبارہ تشریح پر خبردارکیا گیا۔ غزہ میں شہری ہلاکتوں کا سبب بننے والے اقدامات اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے تمام سیاسی و نسلی گروہوں کے نمائندوں کی شمولیت سے حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ دہشت گرد گروہوں کو سیاسی یا پراکسیز کی حیثیت سے استعمال کرنا ناقابلِ قبول قراردیا گیا۔ مجموعی طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا علامیہ بڑی حد تک متوازن قراردیا جاسکتا ہے۔ اگلی بات اقتصادی حوالے سے رکن ممالک میں تعاون کی مختلف راہیں تراشنا ہیں جس کی سب سے بڑی ذمہ داری خود چینی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ تاکہ ٹرمپ اپروچ کے بالمقابل ایشیائی اتحاد میں بہتر معاونت اور ترقی کے مواقع پیدا ہوسکیں۔ جس طرح پریذیڈنٹ شی نے چائنا اور انڈیا کو حریف کی بجائے حلیف قراردیا، اسی طرح پرائم منسٹر مودی نے سرحدی اختلاف کے باوجود چائنا انڈیا سٹریٹجک ریلیشنز اور تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان تعلقات کو کسی تیسرے ملک کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ دیکھا جائے تو یہ انڈیا کی مجبوری ہے۔ پچھلی ربع صدی سے انڈیا امریکی اتحادی کی حیثیت سے چائنا مخالف گردانا جاتا رہا ہے۔ باسٹھ کی خوفناک جنگ کے بعد، 2020 میں دونوں ممالک کے درمیان گلوان ویلی کی سرحدی جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔
امریکا، آسٹریلیا اور جاپان سے مل کر انڈیا اس کواڈ کا حصہ ہے جس کا مدعا ہی چائنا کا گھیراؤہے تاکہ تائیوان پر کسی نوع کا کوئی ایشو پیدا ہو تو مشترکہ اقدامات اٹھائے جاسکیں۔ لیکن ٹرمپ کی ناعاقبت اندیشی نے بالفعل کواڈ کوہی معطل کرڈالا ہے۔ نومبر میں اس کا جو اجلاس بھارتی میزبانی میں ہونے جارہا تھا، موجودہ حالات میں اس کی گرمجوشی اتنی ختم ہوچکی ہے اور ٹرمپ کو اپنا یہ دورہ منسوخ کرنا پڑا ہے۔
سفارت کار حالیہ تیانجن سمٹ سے یہ توقع کر رہے تھے کہ شاید شہباز مودی ملاقات یا کم از کم شیک ہینڈ کی کوئی صورت نکل آئے۔ لیکن بوجوہ یہ ہونہ سکا۔ شاید وہ اپنے آرمی چیف کے دباؤ میں تھے اور انہیں عالمی کانفرنس میں لے جانے کی انوکھی جمہوری روایت قائم کر رہے تھے۔ درویش کو اس موقع پر وہ تاریخی لمحات یاد آئے جب کشیدگی کی ایسی ہی فضا میں سارک کانفرنس منعقد ہوئی جس سے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف خطاب کرنے کے بعد ڈائس سے واپس جانے کی بجائے، سامنے سے گزرتے ہوئے سٹیج پر بیٹھے پرائم منسٹر واجپائی کے روبرو جاپہنچے اور ان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ واجپائی حیرت کے باوجود ایک دم اٹھے اور گرمجوشی سے ان کاسواگت کیا۔ یوں اس مصافحہ کی عالمی سطح پر خوب چرچا ہوئی اور باہمی منافرت کی کچھ برف بھی پگھلی۔ ویسے تو ہمارے بلند پرواز انڈیا سے مذاکرات اور بات چیت کی دہائی ہر عالمی پلیٹ فارم پردیتے ہیں لیکن بالفعل ان کے اندر ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف جتنا جگرا بھی نہیں ہے کہ وہ جس طرح پیوٹن کو سامنے گزرتے دیکھ کر ہاتھ ملانے کے لیے ترسی ہوئی نظروں سے آگے بڑھے، جس کا کچھ حاصل بھی نہ تھا کیونکہ اسی پیوٹن کو بعدازاں وہ یہ کہتے پائے گئے کہ ہمیں معلوم ہے آپ انڈیا کے قریبی دوست ہیں۔ لیکن ہم بھی آپ سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ حالانکہ وہ ٹرمپ جس کی نوبل پرائز کے لیے آپ بڑے فخر سے نامزدگی کررہے ہیں وہ مودی سے اس وجہ سے نالاں ہے کہ تم پیوٹن سے تیل کیوں خریدرہے ہو۔
شاید ہمارا بلند پرواز بھی تھوڑا روسی تیل منگوانا چاہتاہے یا خود کو سابق کھلاڑی کی طرح عالمی لیڈر دکھانا چاہتا ہے۔ آپ ایک طرف ٹرمپ کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے ہو دوسری طرف پیوٹن سے ہاتھ ملانے کے لیے اپنے قومی وقار کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں کرر ہے ہو۔ جبکہ اگر آپ خالصتاً قومی مفاد میں سوچیں تو انڈیا دشمنی کا خاتمہ پچیس کروڑ پاکستانی عوام کے زیادہ مفاد میں ہے۔ اس سلسلے میں آپ لوگوں کو چینی صدر شی جن پنگ کی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں کی گئی تقریر اور انڈیا کے متعلق ان کے اظہارِ خیال سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہ شدید ترین سرحدی تنازعات کے باوجود ان معاملات کو مجموعی تعلقات پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ تجارتی تعلقات کو ان تنگناؤں کا اسیر نہیں بننا چاہیے۔