طاقت کی زبان اور رعایا

اقتدار معاشرے میں فرد کے تحفظ، بنیادی ضروریات کی فراہمی اور مختلف گروہوں میں پرامن تعلقات کو یقینی بنانے کے لئے بطور امانت ایک اختیار کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ تاہم انسانی تاریخ میں اقتدار انسانوں کے وسائل، حقوق اور خوشیوں کو صاحبان اختیار کے ذاتی مفادات کے تابع کرنے کا آلہ کار بن گیا۔

اقتدار کا حتمی مقصد یہی رہا کہ وسائل پر ایک مختصر گروہ کا اجارہ رہے اور عوام کی اکثریت کو مختلف حیلوں سے بے دست و پا رکھا جائے۔ انہیں علم سے بے بہرہ رکھا جائے۔ ان کی آزادیوں پر دیدہ و نادیدہ بندشیں لگائی جائیں۔ انہیں کھلے تشدد کے ذریعے خوفزدہ کیا جائے۔ ان کی نفسیات میں انہونی اور ناگہانی کے اندیشے کاشت کیے جائیں۔ ان تمام حربوں کے باوجود انسانوں میں آزادی اور داخلی احترام کی خواہش کبھی ختم نہیں ہو سکی۔ تاریخ کبھی ایسے افراد سے خالی نہیں رہی جو اقتدار سے دست و گریباں نہ رہے ہوں۔

بیسویں صدی میں فرانس کے مفکر اور تاریخ دان میشل فوکو کا خاص موضوع اقتدار کے مقابلے میں علم اور آزادی کی حرکیات تھا۔ 1982 میں میشل فوکو نے ”Subject and Power“ کے عنوان سے ایک مقالہ شائع کیا تھا۔ میشل فوکو نے Subject کا لفظ رعایا کے معنوں میں استعمال کیا تھا۔ اتفاق سے اردو میں یہ لفظ ’موضوع‘ کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ فیض صاحب کا مصرع یاد کیجئے۔ ’اپنا موضوع سخن ان کے سوا اور نہیں‘۔ میشل فوکو نے لکھا تھا۔ ’اقتدار کوئی ادارہ نہیں اور نہ یہ کوئی بندوبست ہے۔ یہ کوئی ایسی جسمانی طاقت بھی نہیں جو صرف ہمیں ودیعت ہوئی ہو۔ اقتدار تو کسی معاشرے کے تاریخی تناظر میں کارفرما پیچیدہ تزویراتی صورت حال کے مخصوص خد و خال سے تعلق رکھتا ہے۔ ‘
متابعت کی اس صورتحال کو سوویت شاعر اوسپ مینڈل سٹام نے 1933میں سٹالن کے بارے میں اپنی نظم کے ایک مصرعے میں بیان کیا تھا۔ ’ہم زندہ ہیں مگر اپنے قدموں کے نیچے وطن کے احساس سے محروم ہیں‘۔ اس نظم کی پاداش میں مینڈل سٹام عقوبت خانوں اور جلاوطنی سے گزرتا ہوا بالآخر 1938 میں ولاڈی واسٹک کے قید خانے میں مر گیا۔ جولائی 1789 میں فرانس کے انقلابیوں نے باستیل پر حملہ کیا تو وہاں سے ایک 99 سالہ قیدی بھی برآمد ہوا جو خالی آنکھوں سے پیرس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے کوئی بھی پرانا نشان پہچاننے سے عاری تھا۔ طاقت کی زبان کا انسانی تمدن پر بدترین اثر یہ ہوتا ہے کہ یہ انسانوں سے اپنی شناخت کا حق چھین کر ان پر من مانی شناخت، اقدار، رویے، خوف اور خواب مسلط کر دیتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں مغربی پاکستان کے گورنر امیر محمد کالا باغ جیسا غیر شائستہ اور بے رحم حکمران نہیں گزرا۔ اس کے باوجود پاکستان کے بیشتر سیاستدان کالاباغ بننے کی درپردہ خواہش رکھتے ہیں حتیٰ کہ عوام بھی اس کے گن گاتے ہیں۔ پاکستان نے 6 مارچ 1953کو جزوی مارشل لا کا پہلا تجربہ کیا تھا لیکن اس سے تین ہفتے قبل 13 فروری 1953 کو کمانڈر انچیف ایوب خاں نے کراچی میں امریکی قونصل جنرل گبسن سے ملاقات میں کہا تھا کہ ’ضرورت پڑنے پر ملکی استحکام کے لیے فوجی حکومت قائم کر دی جائے گی۔ پاکستانی فوج سیاست دانوں یا عوام کو ملک تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی‘۔ یہ اس وقت کی پیچیدہ تزویراتی صورتحال کے حقیقی خدوخال تھے۔

14 اکتوبر 2022 کو امریکی کانگرس میں سابق مشرقی پاکستان میں 1971 کے قتل عام کے بارے میں ایک قرارداد پیش ہوئی۔ اگرچہ قرارداد منظور نہیں ہو سکی لیکن اس میں ایک نکتہ توجہ طلب تھا۔ ’سب جانتے ہیں کہ 22 فروری 1971کو جنرل یحییٰ خان نے اعلیٰ عسکری قیادت کے اجلاس میں کہا تھا کہ اگر ہم تیس لاکھ بنگالیوں کو ہلاک کر دیں تو باقی ماندہ بنگالی پالتو پرندے کی طرح ہماری ہتھیلی سے دانہ چگیں گے‘۔ یحییٰ خان کی دھمکی میں تیس لاکھ کا یہ ہندسہ ہماری تاریخ کے گلے میں آج تک لٹک رہا ہے۔

میجر جنرل خادم حسین راجہ نے لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ نیازی کے ڈھاکہ میں پہلے خطاب کا حوالہ دے رکھا ہے جس میں بنگالیوں کی نسل بدلنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ گورنر ہاﺅس ڈھاکہ کے ملبے سے ملنے والی راﺅ فرمان کی وہ ڈائری موجود ہے جس میں مشرقی پاکستان کے سبزے کو لہو رنگ کرنے کا ارادہ درج تھا۔ اسی ڈائری میں ان دانشوروں کی فہرست بھی موجود تھی جنہیں 14 دسمبر 1971 کو قتل کیا گیا۔ تزویراتی حقائق تبدیل ہوئے تو راﺅ فرمان سمیت 93 ہزار قیدیوں کو بھارتی فوج کی طرف سے اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار رکھنے کی اجازت دی گئی۔

طاقت کی زبان کیسی ہی مطلق کیوں نہ ہو، اس کی حدود طے ہیں۔ زمیں کہیں نہ کہیں آسماں سے ملتی ہے۔اس بے خبر صحافی کو فروری 2018میں معلوم ہوا کہ فوج کے سربراہ قمر باجوہ نجی محفلوں میں پانچ ہزار حکومت مخالف شہریوں کو پھانسی دینے کی خواہش کا اظہار فرماتے ہیں نیز اٹھارہویں ترمیم کو چھ نکات سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ اب تو حامد میر نے 31 اگست 2023 کے کالم میں اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ قمر باجوہ نہیں ملک میں سیاسی توازن کی میزان بول رہی تھی۔ بعد ازاں قومی نرسری کے گملے میں لگائی گئی ایک خود کاشتہ قلم نے 11 جون 2019 کو جیو ٹیلی ویژن پر کہا کہ ’ہمارے اختیار میں ہو تو 22 کروڑ شہریوں کی تقدیر بدلنے کے لیے پانچ ہزار افراد کو پھانسی دے دیں۔ اگر قانونی طریقہ کار پر چلے تو ہماری بیس نسلوں کو کرپشن سے نجات کا انتظار کرنا پڑے گا‘۔  تاریخ کا جبر ہے کہ قومی مفاد کی نرسری میں لگی اس بالشت بھر قلم پر کونپلیں نکل آئی ہیں۔ اب اس نورتن سے پوچھنا چاہیے کہ 2019 میں پانچ ہزار افراد کو پھانسی دے دی جاتی تو آج وہ کس کے ساتھ ایوان اقتدار میں بیٹھتے۔

طاقت کی زبان کا یہ ذکر آج اس لیے چلا کہ ان دنوں نئے صوبوں کا شوشا چھوڑا گیا ہے۔ نیز این ایف سی میں رد و بدل کے کنکوے اڑائے جا رہے ہیں۔ اس مشق میں پرانے خانہ زاد سامنے آئے ہیں۔ یہ بحث کچھ ایسی ناقابل فہم نہیں۔ صرف یہ یاد دلانا مقصد ہے کہ طاقت کی زبان کی حدود ہوتی ہیں۔ جبر کی ایک سائنس ہوتی ہے۔ ان حدود اور جبر کی سائنس سے بے خبری اچھا شگون نہیں ہوتی۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)