سیلاب کی شدت بڑھنے کا خطرہ، ملتان میں زمیندارہ بند ٹوٹ گیا

  • جمعرات 04 / ستمبر / 2025

بھارت کے ڈیموں سے پانی کے مسلسل اخراج سے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے۔ پنجاب میں ہائی فلڈ کے خطرے کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے الرٹ جاری کردیا۔

قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بورے والا، عارف والا اور بہاولنگر کے اضلاع کو ہائی فلڈ کا خطرہ ہے۔ ملتان ڈویژن میں سیلابی پانی کی شدت سے زمیندارہ بند ٹوٹ گیا، سیلاب زدہ علاقوں سے لوگ اپنے مال مویشی کے ساتھ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ملتان ٹول پلازہ کے قریب شیر شاہ بند پانی کے دباؤ کے باعث ٹوٹنے سے پانی ٹول پلازہ کی جانب بڑھنے لگا ہے۔ بستی گاگرہ اور ملحقہ علاقے زیرِ آب آچکے ہیں، ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی ٹول پلازہ پر آنے سے ملتان اور مظفرگڑھ کا زمینی رابطہ منقطع ہوجائے گا۔

این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کیا ہے کہ بھارتی ڈیموں سے پانی کے مسلسل اخراج سے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال میں اضافے کا خدشہ ہے۔ گنڈا سنگھ والا میں موجودہ بہاؤ 3 لاکھ 35 ہزار 591 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جو غیر معمولی طور پر بلند ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی میں اضافے کی وجہ بھارت کے پونگ اور بھاکرا ڈیموں سے پانی کا اخراج ہے، بھارت کا پونگ ڈیم 98 فیصد اور بھاکرا تقریباً 96 فیصد بھرا ہوا ہے۔

ہیڈ سلیمانکی میں ہائی فلڈ کی صورتحال متوقع ہے، جس کا تخمینہ شدہ اخراج تقریباً ایک لاکھ 32 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ اسلام کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، اخراج تقریباً 95 ہزار 700 کیوسک کے قریب ہے۔

زرعی زمینوں، دیہی آبادیوں اور کمزور انفرااسٹرکچر کو نمایاں طور پر سیلابی ریلوں سے خطرہ ہے، اسی طرح قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بورے والا، عارف والا اور بہاولنگر اضلاع کو ہائی فلڈ کا خطرہ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے اموات کی تعداد 46 تک پہنچ گئی۔ 35 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ پنجاب میں سیلاب سے 4 ہزار کے قریب بستیاں ڈوب گئی ہیں، 15 لاکھ کے قریب افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ قادر آباد کے مقام پر چناب کا پانی دوبارہ متاثرہ علاقوں میں جائے گا، جھنگ پہنچنے پر چناب کا پانی مزید پریشانی کا سبب بنے گا۔

عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ سیلاب نے نہ صرف قیمتی جانیں لی ہیں, بلکہ بڑے پیمانے پر معاشی نقصانات بھی پہنچائے ہیں، جن میں 13 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی اور تقریباً 4 ہزار دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے زرعی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کی ہدایت دی ہے۔ ریلیف کیمپوں اور زیرِ آب علاقوں میں ملیریا اور دیگر آبی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے فیومیگیشن اور مچھروں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب جب خانیوال کے قریب دریائے راوی اور چناب کے پانیوں کا سنگم ملتان اور مظفرگڑھ کے اضلاع کے لیے خطرہ بننے لگا، یہ ’دوہرا خطرہ‘ پچھلے ہفتے کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کے باوجود برقرار رہا۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ پر پانی کی سطح 417 فٹ سے بھی اوپر چلی گئی، جو خطرے کی حد سے بھی زیادہ ہے ، حکام نے اگلے چند انتہائی نازک قرار دیے ہیں، کیوں کہ خانیوال کے قریب راوی اور چناب کے سنگم کے بعد کٹائی کے مقامات پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

مشرقی دریاؤں کے کنارے شہری مراکز کو بچانے کے لیے پنجاب حکومت ایک ایسی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے تحت کنٹرولڈ شگاف ڈالے جارہے ہیں، تاکہ بیراجوں اور مرکزی حفاظتی بندوں پر دباؤ کم کیا جا سکے اور گنجان آباد شہروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ فیصلہ کہ ہیڈ محمدوالا، شیر شاہ فلڈ بند اور رنگ پور پر کٹ لگایا جائے یا نہیں، چند گھنٹوں میں متوقع ہے تاکہ ملتان اور مظفرگڑھ کو بچایا جا سکے، اس مقصد کے لیے 17 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

دریائے راوی کا سیلابی ریلا ملتان میں ریلوے برج تک پہنچ گیا ہے، جب کہ کبیر والا میں درجنوں دیہات پانی میں ڈوب گئے۔ ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں بھی سیلابی ریلے نے تباہی مچادی، متعدد بستیاں زیرآب آگئیں اور لوگ اپنی مدد آپ کےتحت نقل مکانی کر رہے ہیں، لودھراں میں بھی 5 بستیوں کے بند ٹوٹ گئے۔ پانی فصلوں میں داخل ہوگیا اور دیہات کا زمینی رابطہ ٹوٹ گیا۔