نئے ’ورلڈ آرڈر‘ کی ضرورت و خواہش
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 04 / ستمبر / 2025
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز بیجنگ میں منعقد ہونے والی فوجی پریڈ اور اس موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے کم جونگ اُن چین کے صدر شی جن پنگ کے ہمراہ تھے۔ ٹرمپ نے اسے امریکہ کے خلاف سازش سے تعبیر کیا ہے لیکن چینی وزارت خارجہ اس تاثر کی تردید کی ہے اور کہا کہ چین کے کسی ایک ملک سے تعلقات، اس کے دوسرے ملکوں کے ساتھ مراسم پر اثر انداز نہیں ہوتے۔
تاہم پہلے تیا نجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں ایک دوسرے کی خود مختاری کے احترام پر مبنی نئے ’ورلڈ آرڈر‘ کی بات اور بدھ کو بیجنگ میں 80 سال پہلے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی کامیابی کی تقریب کے موقع پر عظیم الشان فوجی پریڈ کا انعقاد ، واشنگٹن ہی نہیں بلکہ تمام مغربی ممالک میں خطرے کی گھنٹیاں بجانے کا سبب بنا ہے۔ اس پریڈ سے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ نے واضح کیا ہے کہ معاملات پر ان کی گرفت ہے اور چین دنیا کو درپیش گوناں گوں مسائل کی صورت حال میں قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان اشاروں کو امریکہ و مغربی ممالک امریکی قیادت میں کام کرنے والے موجودہ ورلڈ آرڈر کے لیے چیلنج سمجھ رہے ہیں۔ شاید اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے شی، پوتن اور کم کی ملاقات کو امریکہ کے خلاف ’سازش‘ سے تعبیر کیا۔
چین نے فوجی پریڈ میں اپنی عسکری صلاحیت اور تکنیکی ترقی کا مظاہرہ کیا اور خود کو ایک جدید اور اعلیٰ حربی آلات سے مسلح قوم کے طور پر پیش کیا۔ تاہم چینی صدر کا مؤقف ہے کہ دنیا کو جنگ کی بجائے امن کی طرف بڑھنا چاہئے اور باہمی معاملات میں دباؤ اور بدمعاشی کا رویہ اختیار نہیں ہونا چاہئے۔ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ’آج انسانیت کو امن یا جنگ، مذاکرات یا تصادم، جیت یا شکست کے انتخاب کا سامنا ہے‘۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’چین ایک عظیم قوم ہے جو بدمعاشوں سے نہیں ڈرتی‘۔ یہ گفتگو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں چینی صدر کی تقریر کا تسلسل تھی جس میں انہوں نے استحصال اور جبر سے پاک نئے عالمی نظام کی بات کی تھی۔ انہوں نے امریکہ کا نام نہیں لیا لیکن مبصرین شی جن پنگ کی تقریروں کا مخاطب امریکہ ہی کو سمجھتے ہیں۔
گو کہ یہ حقیقت کافی عرصہ سے واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ اپنی تمام تر طاقت اور معاشی و عسکری برتری کے بل بوتے پر چین کو نظرانداز کرنے یا دبانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے ٹیرف عائد کرنے کے معاملہ میں جیسے چینی قیادت نے امریکی اقدامات کا مقابلہ کیا اور کوئی ناجائز شرط ماننے سے گریز کیا ہے، اس سے اس کے عزم اور خود پر انحصار کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس بار شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں 20 سے زائد عالمی رہنماؤں نے شرکت کی حتی کہ امریکہ کا قریب ترین حلیف بھارت بھی اپنے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس کانفرنس میں بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔ حالانکہ بھارتی وزیر اعظم ماضی میں ایسے اجلاسوں کو نظر انداز کرتے رہے تھے۔ اگرچہ اس کی وجہ ٹرمپ کی قیادت میں انڈیا کے ساتھ امریکہ کا بدلا ہؤا رویہ اور بھارتی مصنوعات پر غیر معمولی محصول عائد کرنا بھی شامل ہے لیکن بھارت جیسے بڑے ملک اور معیشت کا ایس سی او کی طرف رجحان اور چین سے معاملات درست کرنے کی خواہش کا اظہار درحقیقت یہ بھی واضح کرتا ہے کہ بھارت سمیت دنیا کے تمام ممالک سمجھنے لگے ہیں کہ چین ایک نئے عالمی انتظام کی قیادت کرسکتا ہے۔
نریندر مودی نے اگرچہ بدھ کو منعقد ہونے والی فوجی پریڈ میں شرکت نہیں کی جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اس میں شریک تھے۔ لیکن تجزیہ نگاروں کے نزدیک ا س کی وجہ چین کے ساتھ ہونے والی سرحدی جھڑپیں اور حال ہی میں پاک بھارت جنگ کے دوران چینی ٹیکنالوجی کا کردار بھی تھا۔ ایسے میں اگر مودی اس پریڈ میں شریک ہوتے تو بھارت کے قوم پرست عوام میں ان کی مقبولیت چیلنج ہوتی ۔ ان کے لیے یہ اقدام سیاسی موت کے مترادف ہوتا۔ اگرچہ مئی میں ’آپریشن سندور‘ کے نام سے پاکستان پر حملہ اور پھر تین روز بعد اچانک جنگ بندی کی وجہ سے مودی کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی ہے اور وہ بھارت کے لیے مسلسل ایک بوجھ بنتے جارہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس اور اس کے بعد بدھ کو ہونے والی یادگاری تقریب نے نریندر مودی کو اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کا موقع فراہم کیا تھا ۔لیکن انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم کو نظر انداز کرکے اور بعد میں عالمی لیڈروں کے ہمراہ چینی طاقت کا مشاہدہ کرنے سے گریز سے خود ہی اس موقع کو ضائع بھی کردیا۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر نئے ورلڈ آرڈر کی جو بات کی ہے، اسے متعدد ممالک میں ایک خوش آئیند تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ امریکہ کی قیادت میں پوری دنیامیں جبر و استحصال کا جو نظام مسلط کیا گیا ہے، چینی قیادت شاید اس سے نجات کا راستہ دکھا رہی ہے۔ تاہم یہ پیش رفت نہ تو سہل ہوگی اور نہ ہی اتنی سادہ ہے کہ اسے ایک اعلان کے بعد حقیقت مان لیا جائے۔ امریکہ اب بھی دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور بیشتر مغربی ممالک اب بھی اس کی قیادت پر کام کرنے والے نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ کیوں کہ قیاس کیا جارہا ہے کہ موجودہ نظام بعض بنیادی انسانی اصولوں یعنی جمہوریت، آزادی رائے اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہے۔ جبکہ اس کے خلاف بات کرنے والے لیڈر درحقیقت ایک ایسے آمرانہ نظام کی بات کرتے ہیں جہاں انفرادی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
یورپی یونین کی سفارتکار کاجا کالاس نے گزشتہ روز بیجنگ کی تقریب پر تبصرہ کرتے ہوئے درحقیقت اسی صورت حال کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ شی جن پنگ، ولادیمیرپوٹن اور کم جونگ ان کا ایک ساتھ نظر آنا مغرب مخالف ’نیا عالمی نظام‘ تشکیل کرنےکی کوشش ہے۔ یہ خواہش ’قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے لیے براہِ راست چیلنج‘ ہے‘۔ البتہ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان گو جیاکن نے سختی سے اس مؤقف کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یورپی یونین کی اعلیٰ اہلکار کا بیان نظریاتی تعصب سے بھرا ہؤا ہے۔ یہ بنیادی تاریخی علم سے خالی ہے اور عام محاذ آرائی اور تنازع کو ہوا دیتا ہے۔ ایسے بیانات انتہائی گمراہ کن اور بالکل غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ لوگ کنویں کے مینڈک جیسا تعصب اور تکبر ترک کریں گے اور ایسے مزید اقدامات کریں گے جو دنیا میں امن و استحکام اور چین یورپ تعلقات کے لیے سازگار ہوں‘۔
یہ دونوں تبصرے موجودہ نظام اور اسے چیلنج کرنے والی قوتوں کے عزائم کو سمجھنے اور ان کا جائزہ لینے میں مدد کرسکتے ہیں۔ چینی صدر جس نئے عالمی نظام کی بات کررہے ہیں، اس میں ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے گریز کیا جائے گا اور باہم تجارت و مواصلت کو فروغ دے کر خوشحالی کا سفر طے کیا جائے گا۔ شی جن پنگ اس سے ضروری یہ قیاس کررہے ہوں گے کہ دنیا کے ملکوں میں تصادم کم کرکے امن قائم کرنے اور معاشی معاملات پر توجہ مبذول کرکے وسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے انسانوں ہی کا بھلا ہوگا۔ ا ن کے پیش نظر چین میں غربت کے خاتمے اور خوشحالی کی طرف سفر کی مثال ہوگی۔ چینی لیڈروں نے ضرور جنگ کی بجائے امن اور تصادم کی بجائے تجارت کو حکمت عملی کے طور پر اختیار کرکے چین کو ایک نئی معاشی و عسکری طاقت میں تبدیل کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ چینی نظام میں انسانی حقوق و انفرادی آزادی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ چینی لیڈر کمیونسٹ پارٹی ہی کو ترقی کا راستہ مان کر اس کی بالادستی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ بیجنگ میں ہونے والی پریڈ کے موقع پر نعروں و گیتوں میں بھی کیا گیا۔
امریکہ و مغربی ممالک انفرادی آزادی کو نظر انداز کرنے کے اسی طرز عمل کی بات کرتے ہیں لیکن دوسری طرف عالمی تنازعات میں امریکہ اور مغربی ممالک نے ہمیشہ ان اصولوں کو نظرانداز کیا اور صرف اپنے مفادات کو پیش نظر رکھا۔ یوکرین جنگ کے علاوہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور انسانیت سوز بربریت کے بارے میں خاموشی اور اسے روکنے میں ناکامی ، درحقیقت موجودہ نظام کے خلاف پریشانی و بے چینی کی بنیاد بن رہی ہے۔ دوسری طرف ’امریکہ سب سے پہلے‘ کا نعرہ لگاکر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرکے اور انہیں سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرکے اعتماد کا بحران پیدا کیا ہے۔ یورپ ٹرمپ کی بے اعتنائی اور روس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے سے انکار کے باوجود اب بھی عسکری و اسٹریٹیجک طور سے خود کو امریکہ کی چھتر چھایہ میں رکھنا چاہتا ہے۔ اس کی ایک وجہ جمہوریت و انفرادی آزادی کے اصول ہیں تو دوسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یورپی ممالک آزادانہ سیاسی حکمت عملی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ کوئی ایسا قد آور لیڈر دکھائی نہیں دیتا جو یورپ کی خود مختار شناخت کو نمایاں کرکے اس کے مفادات کی بنیاد پر حکمت عملی ترتیب دے سکے۔ ایسے میں یورپی لیڈروں کو روس اور چین ہی اپنے سے سب بڑے دشمن دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ٹیرف کے علاوہ یوکرین جنگ میں ٹرمپ حکومت نے یورپی مفادات کو قطعی طور سے نظر انداز کیا ہے۔
دوسری طرف چین کے صدر نے جو نیا ورلڈ آرڈر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اسے فی الوقت ایک نعرے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ اس بینر تلے چین اپنے معاشی و اسٹریٹیجک مفادات تو حاصل کرسکتا ہے لیکن اس وقت تک عالمی لیڈر کا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہوسکتا جب تک وہ بڑے تنازعات حل کرانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن حاصل نہ کرلے۔ چینی لیڈر شاید ابھی اس طرف قدم بڑھانے سے گریز کررہے ہیں۔ اسی لیے ایس سی او کے اجلاس یا شی جن پنگ کے خطابات میں غزہ میں رونما ہونے والی انسانیت سوز جارحیت اور یوکرین جنگ کے بارے میں کوئی واضح مؤقف سننے میں نہیں آیا۔ دوسری طرف روس اور شمالی کوریا کے آمر لیڈروں کو دائیں بائیں بٹھا کر یہ تاثر قوی کیا گیا ہے کہ چین جس نئے عالمی نظام کی بات کرتا ہے اس میں انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔
چین بلاشبہ ایک ناقابل تسخیر عسکری و معاشی طاقت ہے لیکن عالمی طور سے قائدانہ پوزیشن میں آنے کے لیے اسے قومی و علاقائی مفادات سے بالا ہوکر عالمی مسائل پر واضح رائے بنانے اور انہیں حل کرنے کی طرف رہنمائی کرنا ہوگی۔ ایس سی او کے پلیٹ فارم کو اگر یوکرین تنازعہ ختم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی تو یہ بلاشبہ چین کی قیادت میں ایک نئے ورلڈ آرڈر کی طرف ایک اہم پیش رفت سمجھی جاتی۔