ہم دریاؤں سے کب تک ڈرتے رہیں گے؟
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 05 / ستمبر / 2025
جس طرح کھیت کھلیان اور باغات ہرے بھرے اچھے لگتے ہیں،اِسی طرح دریا بھی اُس وقت بہت بھلے معلوم ہوتے ہیں،جب اُن میں پانی لبا لب بھرا ہوتا ہے۔سوکھے ہوئے دریا ایک ویرانی اور خشک سالی کا منظر پیش کرتے ہیں جبکہ دریاؤں میں پانی ہو تو وہ زندگی کی علامت بن جاتے ہیں۔
کل صبح معروف بیورو کریٹ،اوورسیز پاکستانی کمشن پنجاب کی کمشنر اور دانشور ثمن رائے نے مجھے دریائے ستلج کی ایک خوبصورت ویڈیو بھیجی۔لبا لب بھرے ہوئے دریا میں سورج کی کرنیں ایک خوبصورت نظارہ پیش کر رہی تھیں۔میں نے اُن سے پوچھا یہ کب کی ویڈیو ہے، انہوں نے کہا آج صبح کی ہے۔ میں نے اپنے بھتیجے اسامہ شفقت کو فون کیا،جو اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے سلسلے میں جلالپور پیروالہ کے قریب دریائے ستلج کے بند پر تعینات ہیں۔میں نے پوچھا دریا کی کیا صورتحال ہے تو اُس نے بھی ایک ویڈیو بنا کے بھیج دی،جو وہی منظر پیش کر رہی تھی جو ثمن رائے کی ویڈیو میں موجود تھا۔ثمن رائے سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا دریائے ستلج صدیوں سے اسی گذرگاہ پر بہہ رہا ہے۔اس کی ایک اپنی تاریخ ہے اور اس سے اَن گنت کہانیاں وابستہ ہیں انہوں نے کہا دریا درحقیقت پنجاب کا حُسن ہیں۔یہ پنج آب کی دھرتی جہاں اپنی لہلہاتی زندگی کے باعث اپنی مثال آپ ہے وہاں ان دریاؤں کی وجہ سے بھی اس کے حُسن میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے ایک بہت اچھی بات کی، وہ چونکہ نیچر اور کلچر لور ہیں،اس لئے انہوں نے کہا جس طرح ہمیں اپنے دیگر ثقافتی و تاریخی ورثے کا خیال رکھنا چاہئے اُسی طرح یہ دریا بھی ہماری توجہ چاہتے ہیں۔انہیں ان کی تاریخی گذر گاہوں سمیت برقرار رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔سچی بات ہے اُن کی اِس سوچ نے مجھے چونکا دیا۔اس پہلو پر تو ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔ہم دریاؤں کے حوالے سے دو انتہاؤں میں بٹے رہتے ہیں ایک خشک سالی اور دوسرا سیلاب،کیا یہی ہمارا مقدر رہ گیا ہے۔ مجھے ثمن رائے کی بات سے خیال آ گیا جس طرح دیگر تاریخی ورثوں کو بچانے کے لئے ادارے قائم کئے گئے ہیں،کیا دریاؤں کو بچانے کے لئے بھی ایک ادارہ نہیں بنانا چاہئے۔
آج یہ بحث چل نکلی ہے کہ دریاؤں کی گذر گاہوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا دی گئی ہیں،جن کی وجہ سے اُن کا راستہ سکڑ گیا ہے اور سیلاب سے تباہی زیادہ ہونے لگی ہے۔یہ سوچ بھی انتہائی احمقانہ ہے کہ دو چار سال اگر دریاؤں میں پانی نہیں آتا تو یہ سمجھ لیا جائے کہ اب پانی نہیں آئے گا اور وہاں سنگ و خشت کے جہاں آباد کر دیئے جائیں یہ سوچ احمقانہ ہونے کے ساتھ ساتھ ظالمانہ بھی ہے، کیونکہ کرہ ارض کا توازن خشکی اور پانی کی بنیاد پر قائم ہے، جن علاقوں میں پانی نہیں ہوتا وہاں زندگی بھی ناپید ہو جاتی ہے۔ہم یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ اگر ایک دو سال دریا میں پانی گنجائش سے کم آیا تو یہ فیصلہ کر لیں کہ اب اُس کے مطابق دریا کو سکیڑ دیا جائے۔ دریاؤں کے بارے میں تو یہ بہت پرانی کہاوت ہے کہ وہ اپنا قبضہ لینے ضرور آتے ہیں۔ جو کام دنیا میں کہیں نہیں ہوتا ، وہ ہمارے ہاں بڑی سہولت سے ہو جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی قدیمی اور فطری دریا ہیں وہ صدیوں سے جوں کے توں موجود ہیں۔اُن کے اردگرد خشک زمین پر آبادیاں ضرور بنی ہیں مگر ایسا نہیں ہوا کہ دریا کی زمین کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لئے ہتھیا لیا گیا ہو۔ دریا کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جو ایک ملک سے شروع ہو کر اسی میں ختم ہو جائے یہ آبی گذر گاہیں ملک در ملک چلتی ہیں۔
پاکستان کے دریا بھی بھارت سے نکلتے ہیں،دریا ہر سال اوور فلو ضرور کرتے ہیں تاہم اگر اُن کے پاس اپنی تاریخی گذر گاہیں موجود ہوں تو اُن کے پانی کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ ماجرا یہ ہے کہ ہم نے دریا کے راستے روک دیئے ہیں۔ جو لوگ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ لاہور میں قائم سوسائٹیوں کو بچانے کے لئے اب بہت بڑا سپر بند بنایا جائے گا وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب زیادہ پانی آئے گا تو وہ سپر بند بھی ناکام ہو جائے گا اُسے کہیں نہ کہیں سے توڑنا پڑے گا۔ آپ جب پانچ سو فٹ چوڑی زمین کو تین فٹ تک لے آتے ہیں تو مسائل ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا میں سڑکیں اور نہریں کشادہ بنانے کا رواج ہے کیونکہ اُن کی تنگی مسائل پیدا کرتی ہے،کشادگی مسائل کو دور کر دیتی ہے ہم عجیب ڈگر پر چل نکلے ہیں وہ ڈگر کہ جو فطرت کے خلاف ہے۔
eکیا ہمارا مقدر یہی رہ گیا ہے کہ ہر سال سیلاب کو بھگتیں،نہ یہ سوچیں کہ پانی کو ذخیرہ کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا جائے اور نہ اس بات پر توجہ دیں کہ دریاؤں کی جو تاریخی گذر گاہیں ہیں انہیں کھلا رکھیں۔ہر سال لاکھوں افراد کو بے گھر کریں،اپنی فصلیں اور مال مویشی تباہ کریں۔امدادی ٹینٹ لگائیں،بریانی کے ڈبے بانٹیں،دنیا سے امداد کی اپیل کریں اور وقت گزر جائے تو اگلے سال تک اپنی مستیوں میں مشغول ہو جائیں۔ چلیں جی آپ ڈیم نہیں بناتے،کچھ سیاسی مجبوریاں ہیں یا کچھ اور ہے،لیکن اتنا تو کر سکتے ہیں کہ دریاؤں کو اُن کی گنجائش کے مطابق کھلا کر دیں۔ سارے کاغذات، سارے تاریخی حوالے اور تمام معلومات موجود ہیں کہ دریا کس حد تک بہتے تھے اور اب تک کس حد تک تنگ کر دیئے گئے ہیں۔اُن پر ایکشن لیں اور جس طرح شہروں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہیں اُسی طرح دریاؤں کی گذر گاہوں پر قبضے کرنے والوں کو بھی قانون کی گرفت میں لا کر جگہ وا گزار کرائیں۔
ایک زمانہ تھا کہ پنجاب میں نہروں کی بھل صفائی بھی ہوتی تھی، جس سے اُن کی گنجائش میں اضافہ ہو جاتا تھا اور اضافی پانی نہروں میں چھوڑ کر بڑے سیلاب سے بچا جا سکتا تھا۔اب وہ روایت بھی ختم ہو گئی ہے۔ایک غفلت کا مظاہرہ ہے جس کا خمیازہ بھی ہر سال بھگتتے ہیں کیا اس طرح ملک چلتے ہیں؟ کیا بڑے فیصلوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہم دریاؤں کے پانی سے سیلاب کی صورت کب تک ڈرتے رہیں گے،اس پانی کو اپنی طاقت اور خوبصورتی کب بنائیں گے؟ کوئی ہے جو اس کا جواب دے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)