سیاسی شعور: اس دشت میں اک شہر تھا

ہمارا بنیادی مسئلہ سیاسی ہے یا معاشی؟ بے شک معیشت ہی کسی ملک کی ترقی کا پیمانہ ہے لیکن معیشت کو ترقی کا راستہ دکھانے والی قوت سیاسی قیادت ہے جو ملک میں موجود سیاسی شعور کی روشنی میں فیصلہ سازی کے ذریعے معیشت کے خد و خال مرتب کرتی ہے۔

ترقی کے لیے مطلوبہ شعور خلا میں جنم نہیں لیتا۔ اس میں کمرہ جماعت میں تدریس سے لے کر کمرہ عدالت میں قانون کی بالادستی اور پارلیمنٹ میں قانون سازی سے لے کر ذرائع ابلاغ کی آزادی تک ان گنت عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ آئیے، کچھ مثالوں کی مدد سے قوموں کے معاشی عروج و زوال پر نظر ڈالتے ہیں۔ اکتوبر 1929 کی کساد بازاری نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکا ہی کو شدید ضرب نہیں پہنچائی بلکہ دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 1933 میں دو اہم واقعات رونما ہوئے۔ 30 جنوری 1933 کو ہٹلر جرمنی کا چانسلر مقرر ہوا۔ 4 مارچ 1933 کو فرینکلن روزویلٹ نے امریکی صدارت کا حلف اٹھایا۔ جرمنی اور امریکا نے اپنے لیے دو مختلف راستے اختیار کیے تھے۔ امریکا جمہوری راستے پر گامزن تھا جبکہ جرمنی نے اپنی معیشت کو عسکریت پسندی کی راہ پر ڈالا۔

پانچ برس بعد 1938 میں امریکا کی معیشت کا حجم 800 ارب ڈالر تھا۔ جرمنی 375 ارب ڈالر اور برطانیہ 284 ارب ڈالر کو پہنچ چکا تھا۔ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر سوویت یونین کی معیشت 359 ارب ڈالر، فرانس 186 ارب ڈالر اور جاپان 169 ارب ڈالر کے نشان پر تھے۔ 1945 میں چھ سالہ عالمی جنگ ختم ہوئی تو امریکی معیشت ایک کھرب 474 ارب ڈالر کو پہنچ چکی تھی۔ سوویت یونین 343 ارب، برطانیہ 331 ارب اور جرمنی 322 ارب ڈالر کی معیشت کے ساتھ بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر تھے۔ جاپان کی معیشت گر کر 144 ارب ڈالر رہ گئی تھی۔ چار دہائیوں بعد 1978 میں چین کی قیادت ڈنگ شیاؤ پنگ کے پاس آئی تو دنیا کی پہلی چار معاشی قوتیں امریکا، سوویت یونین، جرمنی اور جاپان تھیں۔ چین سب سے بڑی آبادی کے باوجود نویں نمبر پر تھا۔ یہ وہ تاریخی موڑ تھا جہاں چین نے اپنے معاشی خدوخال تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایک چوتھائی صدی کے بعد 1991 میں امریکا، جاپان، جرمنی اور اٹلی دنیا کی چار بڑی معیشتیں تھیں۔ 274 ارب ڈالر کے جی ڈی پی کے ساتھ پہلی دس معاشی قوتوں میں بھارت کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ اس موقع پر بھارت نے پنڈت نہرو کا معاشی ماڈل ترک کر کے کھلی منڈی کی معیشت اپنانے کا فیصلہ کیا۔ عام طور پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بھارت کی معاشی کایا کلپ کا معمار قرار دیا جاتا ہے لیکن 1991 میں منموہن سنگھ پارلیمنٹ کے رکن تھے اور نہ سیاست کا حصہ تھے۔ ڈاکٹر منموہن کو وزیر خزانہ بنانے کا فیصلہ وزیراعظم نرسیما راؤ نے کیا۔ کل 35 برس کے عرصے میں امریکا تیس کھرب ڈالر اور چین 19 کھرب ڈالر کے ساتھ پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ جرمنی، بھارت اور جاپان بالترتیب تیسرے، چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔ اعداد و شمار کے اس کسی قدر بے رنگ بیان پر غور کریں تو کسی بھی معیشت کی ترقی یا زوال کے پس منظر میں ان معاشی ترجیحات کا بنیادی کردار ہے جنہیں سیاسی قیادت متعین کرتی ہے۔

ہمارے ملک میں بنیادی المیہ یہ ہوا کہ آزادی کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والی جماعت مسلم لیگ نے تحریک آزادی کی بجائے تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا۔ مسلم لیگ کی تنظیمی بنیادیں کمزور تھیں۔ اس جماعت کے بیانیے میں جدید سیاسی تصورات کے لیے بہت کم جگہ تھی۔ مغربی پاکستان میں مسلم لیگ کی قیادت ناتجربہ کار تھی اور مقامی سیاسی کھینچا تانی میں الجھی ہوئی تھی۔ مسلم لیگ نے عملی طور پر یک جماعتی حکمرانی کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم لیاقت علی بیوروکریسی کے زیراثر تھے اور پاکستان کے حصے میں آنے والی برٹش انڈین فوج کے ایک تہائی حصے نے کشمیر کے سوال کی آڑ میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر لی۔ میجر جنرل افتخار علی خان کے طیارے کا حادثہ ہماری تاریخ میں کم کم ہی زیر بحث آیا ہے لیکن اس حادثے نے ملکی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ قائداعظم سے لے کر فرینک میسروی تک ان فوجی افسروں سے آگاہ تھے جو سیاسی عزائم رکھتے تھے۔ جنوری 1951 میں ایوب خان کے بطور کمانڈر انچیف تقرر نے سکندر مرزا اور ایوب خان گٹھ جوڑ کو جنم دیا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد عملی طور پر یہ دونوں حضرات ملک چلا رہے تھے۔ رفتہ رفتہ بیورو کریسی پس منظر میں جانے لگی اور سیاسی طاقت کی بساط پر مذہبی پیشوا بھی نمودار ہو گئے۔

اکتوبر 1958 میں پہلے مارشل لا کے نفاذ کے بعد سیاسی قیادت براہ راست عسکری قوت کے تابع ہو گئی اور جمہوری قوتوں کے ابھرنے کا راستہ مسدود کر دیا گیا۔ ایوب خان نے ایبڈو کی مدد سے ایک پوری سیاسی نسل تباہ کر دی۔ سیاسی عمل اور سیاست دان کو حرف دشنام میں بدل دیا گیا۔ 1971 میں مشرقی پاکستان کے الگ ہونے سے ملک میں جمہوری آواز مزید کمزور ہو گئی۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات نے سیاسی شعور کی پنیری روند ڈالی۔ ملک نادیدہ قوتوں کے دست کرشمہ ساز سے جنم لینے والی ایسی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں آ گیا جن کا سیاسی شعور ذاتی مفاد کے تابع تھا اور جمہوری تشخص پر سوالات تھے۔ جنرل ضیا کی گیارہ سالہ آمریت نے ملک کے سیاسی اور تمدنی خدوخال ہی بدل ڈالے۔ جس ملک میں جمہوری قوتیں روز اول ہی سے کمزور تھیں وہاں سیاسی خشک سالی کی طویل رت نے ڈیرہ ڈال لیا۔

 آج پاکستان میں کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی اندھی تقلید کرنے والے تو شاید مل جائیں، مالی مفادات کے لیے سیاسی نقاب اوڑھنے والوں کی بھی کمی نہیں لیکن بنیادی المیہ یہ ہے کہ جمہوری قیادت چند ناموں تک محدود رہ گئی ہے اور سیاسی عمل سے سیاسی شعور اس پیمانے پر بے دخل کیا گیا ہے کہ ملک سیاسی مبادیات سے لاتعلق ہو گیا ہے۔ ہم سیاسی جماعتوں کو ان کی غلطیوں پر تنقید کا نشانہ تو بناتے ہیں لیکن یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ عوام میں سیاسی شعور کی عدم موجودگی میں سیاسی قیادت کس کے بھروسے پر عوامی حاکمیت کے لیے جدوجہد کرے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)