سیلاب قومی سانحہ ہے، اسے قومی عزم سےحل کیا جائے

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے اب  تک 900 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ چار کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہیں۔ صرف پنجاب میں بیس لاکھ سے زائد  شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف کوچ کرنا پڑا ہے۔   پاکستانی عوام اور حکومتوں کو اس مسئلہ کو قومی سانحہ مان کر  قومی یکجہتی سے یہ  مسئلہ  حل کرنے کی ضرورت ہے۔

اطلاعات کے مطابق  اب تک 25 سے زائد اضلاع میں  4100 دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ اس وقت پنجاب  اس قدرتی آفت کی زد پر ہے جبکہ سیلابی ریلا جنوبی پنجاب سے اب سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بپھرے ہوئے دریاؤں کا سارا پانی سمندر میں ملنے تک  ابھی بہت سے مزید نقصان اور انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے۔   آفت کے اس ماحول میں صوبائی حکومتوں،  رضاکارانہ طور سے کام کرنے والی تنظیموں اور فوج نے وسیع پیمانے  پر امدادی کارروائیاں کی ہیں لیکن اس کے باوجود سرکاری طور سے فراہم کی گئی سہولتیں سب متاثرین کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ اکثر لوگوں کو خود ہی اپنی حفاظت کرنا ہے اور خود ہی اپنے نقصان کی تلافی  بھی کرنا ہوگی۔

 حکومتوں کی اس ناکامی پر جو بھی رائے قائم کی جائے لیکن پاکستان کے معروضی حالات اور صوبائی حکومتوں کی  مالی استعداد کے منظر نامہ میں کوئی حکومت شدید خواہش کے باوجود بھی سب متاثرین  کی مدد کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔  ایک تو   فنڈز کی کمی آڑے آتی ہے  تو اس کے ساتھ ہی بنیادی امدادی انفرا اسٹرکچر کی کمی ہے۔ اپنے گھر بار چھوڑ کر جانے والے چند ہزار یا چند لاکھ لوگ  ہی امدادی کیمپوں  میں  سر چھپانے کی جگہ تلاش کرپاتے ہیں۔ اکثر کو شہروں یا قصبوں میں یا تو اپنے عزیزوں کے ہاں پناہ لینا پڑی ہے یا اپنے رہنے کا خود ہی کوئی بند و بست کرنا  تھا۔  سیلاب کے شدید ریلے اور بارشوں کی طوفانی یلغار نے لاکھوں افراد کو ان کے بنیادی اثاثوں سے بھی محروم کردیاہے۔ اب بہت سے لوگوں کو اپنی زندگی از سر نو شروع کرنا ہوگی۔  سیلاب گزر جانے کے باوجود زمینوں اور املاک کو دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے کثیر وسائل اور سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔

اگرچہ حکومتوں سے توقع کی جائے گی کہ وہ اس نقصان کی تلافی کریں لیکن ان کے پاس پہلے ہی وسائل کی کمی ہوگی۔ ایسے موقع  پر سیاسی نعرے تو ضرور سننے میں آئیں گے  اور سیاسی حکومتی لیڈر بلند بانگ دعوے بھی کریں گی لیکن ان پر عمل درآمد    مشکل ہوگا۔ وجہ وہی وسائل کی کمیابی ہے جس سے ہم سب آگاہ ہیں لیکن اسے ماننے  سے گریز کیاجاتا ہے۔   متعدد ممالک میں شہریوں نے  کسی ہنگامی یا ناگہانی تباہی کی صورت میں  انشورنس پالیسی  لی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لیے جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو حکومتیں ضرور مدد کے لیے میدان  میں آتی ہیں لیکن  انشورنس کمپنیوں سے ملنے والا معاوضہ   افراد اور خاندانوں کو  دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں خو حفاظتی کے ایسے کسی نظام کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ تاہم  طغیانی کی حالیہ غیر متوقع اور شدید تباہی کے بعد سرکاری  و انفرادی سطح پر اس آپشن کو ضرور زیر غور آنا چاہئے۔  تاکہ ضرورت پڑنے پر ہر شخص کو کسی طرف سے معاونت کی امید تو ہو۔

کم علمی اور  معلومات کی کمی  کی وجہ سے پاکستانی شہریوں میں  شاید  اپنی مد آپ کے ایسے منصوبوں سے آگاہی نہیں ہے۔ تاہم موجودہ تجربے سے سیکھنا چاہئے کہ لوگوں میں شعور پیدا ہو اور وہ مشکل وقت  سے نمٹنے کے لیے اچھے وقت میں ہی منصوبہ بندی کرلیں تاکہ جب آفت آئے تو  صرف  شور مچانے اور الزام تراشی سے ہی کام نہ چلایا جائے بلکہ  کوئی ایسا مالی ڈھانچہ موجود ہو جو تعمیر نو کے مرحلے میں معاون ہوسکے۔ زراعت سے وابستہ کچھ خاندان ضرور صاحب وسلیہ ہوں گے اور شاید اپنے مالی مفادات کی تلافی کے لیے خود ہی انشورنس پالیسی خریدنے اور اس کی قیمت ادا کرنے کی استظاعت بھی رکھتے ہوں گے۔ لیکن بیشتر کسان ایک تو مفلسی کا سامنا کرتے ہیں ، دوسرے کم علمی کی وجہ سے انہیں کسی جدید میکنزم  کا حصہ بننے کا شعور بھی نہیں ہوتا۔ اس مشکل سے  نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتیں اپنے اپنے کسانوں کے لیے قومی انشورنس حکمت عملی کا آغاز کرسکتی ہیں۔ ایسی قومی انشورنس  کے مالی بیک اپ کے لیے   کچھ وسائل حکومت فراہم کرے اور کچھ  رقم  کاشتکاروں اور ممکنہ  آفت کا سامنا کرنے  والے لوگوں  سے وصول کی جائے۔ ایک بار یہ طریقہ فعال ہوگیا تو مستقبل میں اس سے شہریوں کو بھی سہولت ہوگی اور حکومتوں پر بھی اچانک غیر ضروری بوجھ نہیں پڑے گا۔ البتہ اس مقصد کے لیے ایسی  مؤثر قانون سازی ضروری ہوگی جس کے تحت انشورنس کمپنیاں صرف پریمیم وصول کرنے ہی کے لیے میدان میں موجود نہ ہوں بلکہ مشکل  میں   معاوضہ ادا کرنے کے لیے بھی دستیاب ہوں۔

ہمارے ہاں ہر مشکل کو ناگہانی آفت قرار دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ سب غیر متوقع اور اچانک ہوگیا، اس لیے اس کا سامنا کرنے کی تیاری نہیں کی گئی تھی۔ لیکن یہ طرز عمل موجودہ سائنسی دور میں ناقابل قبول ہے۔ موسمی تبدیلیاں ایک دن میں رونما نہیں ہوئیں بلکہ دہائیوں سے ان کے بارے میں پیش گوئیاں کی جارہی ہیں۔  متعدد ممالک میں پیش از وقت حفاظتی اقدامات  بھی کیے جاتے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجہ میں  مالی نقصان سے تو نہیں بچا جاسکتا  لیکن عام طور سے شہریوں کو  بروقت محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے کا اہتمام کرلیا جاتا ہے ۔ اس طرح قیمتی جانیں ضائع نہیں ہوتیں۔ پاکستان  تقریباً ہر سال ہی تغیانی کا  سامنا کرتا  ہے۔ اگرچہ اس بار دریاؤں میں پانی کی مقدار زیادہ ہے اور انہوں نے اپنے پرانے راستے کھوجنے شروع کیے ہیں جن پر عاقبت نااندیشی کی وجہ سے آبادیاں قائم کرلی گئیں   یا انہیں دوسرے مصرف میں لایا گیا۔  اب ان آبی گزرگاہوں کے حوالے سے  بہتر شعورسے کام لینے اور ماضی کی غلطیوں  کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک میں صرف ہنگامی حالات میں وارننگ دینے یا مدد فراہم کرنے کا ادارہ ہی نہیں ہونا چاہئے بلکہ   کسی ایمرجنسی کی صورت میں ایسے انتظامات ہونے چاہئیں کہ متاثرین کو عارضی طور سے رہنے اور کھانے پینے کی سہولتیں فراہم ہوسکیں۔ عام طور سے اسکولوں یا سرکاری عمارتوں کو اس ڈھب پر ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ کسی ہنگامی صورت میں وہ رہائشی مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔ پاکستان میں اوّل تو ایسی عمارات کی نشاندہی ہی نہیں ہوتی ۔  ایسی کچھ عمارتیں موجود ہونے کے باوجود اکثر صورتوں میں وہ کارآمد نہیں ہوتیں کیوں کہ کسی  ایمرجنسی  استعمال کے لیے ان کی دیکھ بھال کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔  یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سیلاب  یا کسی دوسری قدرتی آفت کی صورت میں  فوجی یا عسکری اداروں کو رضاکاروں کے طور پر  مددکے لیے آنا پڑتا ہے۔ حالانکہ  عام دنوں میں اسکولوں کالجوں کے طلبہ اور شہریوں کو کسی ہنگامی حالت میں مدد دینے کی تربیت دینا  چاہئے تاکہ ہر مشکل میں فوج ہی مسئلہ کا واحد حل نہ ہو بلکہ سول ادارے  بھی خود کفالت کا مظاہرہ کریں۔

حالیہ سیلاب  میں ہونے والی تباہی اور مشکلات کی وجہ سے ملک بھر میں  ہر پہلو سے مباحث ہورہے ہیں۔ عام طور سے ان مسائل پر گفتگو کرنے والے اس شعبہ کے ماہرین نہیں ہوتے۔    یہی وجہ ہے کہ حکومتی کاموں پر تنقید کے لیے دریائی راستوں میں رکاوٹوں کے علاوہ ڈیم نہ بنانے یا پانی ذخیرہ   کرنے میں سست روی کے بارے میں شکایات رجسٹر کرائی گئی ہیں۔ یہ ساری شکایات درست ہیں لیکن بیشتر صورتوں میں پیش کیے  جانے والے حل شاید قابل عمل نہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے قومی سطح پر کوئی فورم بنانے اور آبی ماہرین کی مدد سے ایسے انتظامات کرنے کی ضرورت ہے جو کم خرچ بالا نشین کے مصداق کارآمد بھی  ہوں مگر ان  پر زیادہ مالی وسائل بھی صرف نہ ہوں۔  پاکستان کو عام طور سے پانی کی قلت کا سامنا ہے ۔ اس پر مستزاد بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے پر اصرار کررہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو پانی ذخیر کرنے اور اس کا اصراف  روکنے  کے متعدد منصوبوں پر کام کرنے  کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم سیلاب  کا آغاز ہونے کے بعد سے متعدد بار قومی ایکشن پلان کا ذکر کرتے رہے ہیں  ۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مستقبل میں ایسے مسائل سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرے گی۔ اس وقت ایسے بیانات کو سیاسی رنگ دینے کی بجائے یہ توقع کرنی چاہئے  کہ وزیر اعظم  جلد ہی کوئی ایسا قومی فورم تشکیل دینے میں کامیاب ہوں گے جو قومی سطح پر مسائل کو سمجھنے اور پھر باہم اتفاق رائے سے ان کا حل تلاش کرنے کے قابل ہوگا۔  پاکستانی حکومت اور عوام کو یکساں  طور سے سمجھنا ہوگا کہ حالیہ سیلاب یا قدرتی آفت اپنی نوعیت کا انہونا یا آخری وقوعہ نہیں ہے بلکہ  ایسے سانحات مستقبل میں بھی پیش آئیں گے۔ اس لیے ان کی پیش بندی کے لیے ابھی سے کام کا  آغاز کرنا چاہئے۔