ناروے کے انتخابات میں بائیں بازو کا پلڑا بھاری رہا
- تحریر خالد محمود اوسلو
- منگل 09 / ستمبر / 2025
آٹھ ستمبر کی شام کو رات نو بجے حق رائے دہی استعمال کرنے کے وقت کے اختتام کے ساتھ ہی ناروے کے پارلیمانی انتخابات کا مرحلہ اختتام پذیر ہوگیا ۔ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ناروے کے کل رائے دہندگان کے 78,9 فی صد نے اپنا حق استعمال کیا-
نتائج کے مطابق دائیں اور بائیں بازو کے مد مقابل دونوں اتحادوں کی مقبولیت بڑی حد تک انتخابی مہم کے دوران منظر عام پر آنے والے رائے عامہ کےتجزیوں سے مطابقت رکھتی دکھائی دے رہی ہے، جس کی وجہ سے سنسی خیز مقابلہ کا عندیہ دیا جا رہا تھا۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناروے جیسے جمہوری ملک میں عوامی رائے عامہ کے تیار کیے جانے والے تجزیے اعلئ، میعاری اور قابل اعتماد ہوتے ہیں۔ ان کو تیار کرنے کا طریقہ اس قدر علمی اور غیر جانبدار بنیادوں پر استوار ہوتا ہے کہ یہ حقیقت کی حد تک عوامی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں اس بات کا بھی بڑا عمل دخل ہوتاہے کہ عوام بھی رائے طلب کیے جانے پر دیانتداری کے ساتھ جواب دیتے ہیں جس سے سامنے آنے والے تخمینے قابل اعتماد بن جاتے ہیں۔
اگر نتائج کو دیکھا جائے تو اس انتخاب میں چار تبدیلیاں واضع نظر آتی ہیں ۔ اول تبدیلی یہ ہے کہ پچھلے پارلیمانی انتخاب کے مقابلے میں اس انتخاب میں دائیں بازو کے اتحاد کی مقبولیت میں واضع اضافہ ہوا ہے۔ گو یہ اضافہ اسے پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں مل سکی۔ اور دائیں بازو کا اتحاد اگلے چار سال مزید حزب اختلاف کا کردار ہی ادا کرے گا۔ 2021 میں دائیں بازو کو مجموعی طور پر 40.4 فی صد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔ جبکہ ان انتخابات میں یہ مقبولیت 46.3 تک پہنچی ہے۔ ان نتائج کی دوسری بڑی تبدیلی یہ ہے کہ دائیں بازو کے اتحاد میں سیاسی جماعتوں کا توازن بدل گیا ہے۔ پچھلے انتخاب کے مقابلے میں اس دفعہ اس اتحاد کی چوتھی جماعت کرستلے فولکے پارٹی نے سابقہ انتخاب کے برعکس چار فی صد کی حد کو عبور کرتے ہوئے اپنی نشتوں کی تعداد دو سے بڑھا کر 7 کر لی ہے۔
فریم سکرتس پارٹی اپنی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ناروے کی دوسری بڑی پارٹی اور دائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر کسی سیاسی جماعت کو ان انتخابات کا حقیقی فاتح کہا جاسکتا ہے تو یہ فریم سکرتس پارٹی ہے جس کی مقبولیت 2021 کے انتخاب کے مقابلے میں 100% بڑھی ہے اور پارلیمنٹ میں اس کی نشستیں دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ جبکہ عرصہ دراز سے دائیں بازو کی قیادت کرنے والی ہائیرے پارٹی اس انتخاب میں بُری طرح ناکام ہوکر تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔ اور ناروے کی تیسری بڑی جماعت کی پوزیشن پہ چلی گئی ہے۔
اس انتخاب کی تیسری بڑی تبدیلی یہ ہے کہ بائیں بازو کے اتحاد میں دوسری بڑی جماعت سنٹر پارٹی جسے کاشتکاروں کی جماعت گردانا جاتا ہے، کی مقبولیت پچھلے انتخاب کے مقابلے میں آدھی ہو گئی ہے اور اس کی پارلیمانی نشستیں 28 سے کم ہو کر 9 رہ ہیں۔ اس طرح وہ انتخابات میں سب سے زیادہ مقبولیت کھونے والی جماعت بن گئی ہے۔ اسی اتحاد میں شامل ایس وے پارٹی کی مقبولیت بھی کم ہوئی جس کی مقبولیت میں 2 فی صد کمی آئی ہے۔ اس کی چار نشتیں کم ہوئی ہیں۔ نتائج کے مطابق چوتھی تبدیلی اسی اتحاد میں شامل پانچویں جماعت ایم ڈی جی جسے گرین پارٹی بھی کہا جاتا ہے کا پچھلے انتخاب کے مقابلے میں اپنی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ چار فی صد کی حد کو عبور کرنے میں کامیاب ہونا ہے۔ اتحاد میں شامل دوسری چار جماعتوں کے برابر نشستیں لے کر اُن کی ہم پلہ بن گئی ہے۔ بائیں بازو کے اتحاد کی پانچویں جماعت ریڈ پارٹی اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کامیاب رہی ہے اور اس کی ایک نشست میں اضافہ ہوا ہے۔
حتمی نتائج کے مطابق دائیں اور بائیں بازو کے پاس پارلیمنٹ کی کل 169 نشستوں میں سے 87 اکثریت اتحاد کے پاس ہیں جبکہ حزب اختلاف کو 82 نشستیں ملی ہیں۔ اس اعتبار سے آربائیدر پارٹی کے زیر قیادت بائیں بازو کے اتحاد کو اس انتخاب کا فاتح قرار دیا جا رہا ہے گو اس کی عددی برتری پچھلے انتخاب کے مقابلے میں بہت کم ہوئی ہے اور مجموعی طور پر حکومتی اتحاد کی 13 نشستیں حزب اختلاف نے چھینی ہیں۔ لیکن حزب اختلاف اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لہذا سردست عوام نے اپنی رائے دہی سے آربائیدر پارٹی کی حکومت کو جاری رکھنے کا فیصلہ دیا ہے۔ لیکن آربائیدر پارٹی کے لیے اس پارلیمنٹ کی کمپوزیشن میں حکومت کرنا جان جوکھوں کا کام ثابت ہو گا۔ کیونکہ بائیں بازو کے اتحاد کے پانچ جماعتی اتحاد کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود آربائیدر پارٹی کو اپنی حمایتی جماعتوں کی طرف سے کڑے اور پُرآزمائش سیاسی مطالبات کا سامنا رہے گا ۔
سماجی اور اقتصادی نظریات پر اتحادی ہونے کے باوجود ان جماعتوں میں بہت سے اہم سیاسی ایشوز پر واضع تضادات بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے آربائیدر پارٹی کے لیے ان حالات میں حکومت کرنا پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہوگی بلکہ آربائیدر پارٹی کے لیے آنے والا وقت سیاسی طور پربڑا پُر خار ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو ناروے میں مخلوط حکومت کی روایات بہت پرانی ہے۔ مخلوط اور اقلیتی حکومت کی پارلیمان میں واضع اکثریت نہ ہونے کے باوجود بھرپور انداز میں حکومت چلانے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ ناروے کی جمہوری سیاسی تاریخ میں 1961 سے لے کر آج تک کوئی بھی جماعت تنہا اکثریت کی حامل نہیں رہی۔ پچھلے ساٹھ سالوں سے مخلوط یا پھر اقلیتی حکومتیں تشکیل پاتی رہی ہیں۔ اور ان کے کامیابی سے چلنے کا سہرا نارویجن پارلیمنٹ میں اصول کی بنیادوں پر سیاست کرنے کی روایات کے سر ہے۔
اس کے علاوہ حالات کے ہاتھوں مجبور تمام سیاسی جماعتیں ایک غیر اکثریتی پارلیمانی سیاست میں گہری مہارت حاصل کر چکی ہیں جس سے ہر جماعت کسی نہ کسی صورت میں اپنی اہمیت کو برقرار رکھنے میں اور فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے مواقع حاصل کر لیتی ہے۔ اسی وجہ سے افہام و تفہیم نارویجن سیاست کی خاص پہچان ہے تمام جماعتیں اپنی اپنی حکمت عملی کے تحت چھوٹی جماعتیں ہونے کے باوجود زیادہ سے زیادہ اثر ورسوخ حا صل کرنے کی تگ و دو میں رہتی ہیں۔ یک جماعتی اکثریت سے محروم نارویجن پارلیمنٹ چھوٹی جماعتوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی کیونکہ اس طرح سیاست کا مرکز حکومتی کابینہ سے نکل کر پارلیمنٹ میں منتقل ہو جاتا ہے اور حکومت کی طرف سے پیش کردہ ہر قانون سازی اور معاشی اقدامات کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوتا ہے۔ لہذا حکومت جب بھی کوئی بل پیش کرتی ہے تو وہ پارلیمان کے موڈ کو مد نظر رکھنے پر مجبور ہوتی ہے تاکہ اس کی پیش کردہ تجاویز کو پارلیمان میں مطلوبہ حمایت حاصل ہوسکے۔
اس کے لیے حکومت تمام جماعتوں کی سیاسی ترجیحات کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے ہر بل کے لیے مطلوبہ حمایت کو حاصل کرنے کے لیے ایسا مسودہ تیار کرتی ہے جس میں دوسری جماعتوں کی درکار حمایت کی ترغیب کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کی اسی کمپوزیشن کو مد نظر رکھ کر حکومتی جماعت اکثر اپنے قابل اور جوڑ توڑ کے ماہر سیاستدانوں کو حکومت میں وزارتیں دینے کی بجائے انہیں پارلیمانی کردار تفویض کرتی ہے تاکہ وہ اپنی حکمت اور اعلئ قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کے لیے حمایت کو حاصل کر سکیں۔ لہذا حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنےوالے تجربہ کار اور پرانے پارلیمنٹرین کا پارلیمنٹ میں کردار کلیدی ہوجاتا ہے۔
لہذا اب یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ پرانی روایات کے مطابق عدم اتفاق کے باوجود قومی اتفاق سے آگے بڑھتی ہے یا پھر غیر یقینی حاوی ہوتی ہے۔ بر حال ہر صورت میں یہ بات اٹل ہے کہ طاقت کا مرکز پارلیمنٹ ہی ہوگی اور ہر فیصلہ کُن موڑ پہ نظریں پارلیمنٹ پر ہی رہیں گی۔