ملتان کو بچانے کی کوششیں، سندھ میں آج بڑے سیلاب کا خطرہ

  • منگل 09 / ستمبر / 2025

بھارت نے دریائے ستلج میں آج پھر پانی چھوڑ دیا جس کے باعث دریائے ستلج میں بڑے سیلاب کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ جبکہ پنجاب بھر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں بھی جاری ہیں۔

دریائے چناب کا دوسرا سیلابی ریلا ملتان میں ہیڈ محمد والا کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شہر کو بچانے کے لیے شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔ فیصل آباد میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جبکہ لاہور میں بھی بادل جم کر برسے۔ بھارتی ہائی کمشنر نے دریائے ستلج میں ہائی فلڈ الرٹ جاری کیا ہے، جس کے باعث دریائے ستلج میں پھر سے بڑے سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروزپور کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

دریں اثنا پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ سینکڑوں مکانات، دیہات اور فصلیں پانی میں ڈوب گئیں۔ دریائے چناب کا دوسرا سیلابی ریلا ملتان میں ہیڈ محمد والا کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شہر کو بچانے کے لیے شیر شاہ بند کو کسی بھی وقت توڑنے کی تیاری کرلی گئی ہے اور اسے کسی بھی وقت توڑا جاسکتا ہے جبکہ اکبر بند اور گرے والا بند کی بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

ملتان کے اطراف دریائے چناب سے متصل بستیوں میں متعدد بستیوں میں 5 سے 10 فٹ پانی موجود ہے۔ ادھر خانیوال کی تحصیل کبیروالا میں دریائے راوی اور دریائے چناب میں ایک پھر اونچے درجے کا سیلاب ہے، جس کے نتیجے میں گندم سے بھری ہزاروں بوریاں پانی میں غرق ہوگئیں۔

دوسری جانب پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ فیصل آباد میں شدید بارشوں نے 30 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔ زیریں علاقے بارش کے پانی میں ڈوب گئے اور بعض مقامات پر بارش کا پانی گھروں کے اندر سے بہنے لگا، جس کے باعث لوگ چھتوں پر پناہ لینے یا محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔

لاہور کے بیشتر علاقوں میں پیر کو موسلا دھار بارش نے سڑکوں اور محلوں کو زیرِ آب کر دیا اور معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا۔ واسا کے مطابق پیر کی شام 7 بجے تک لاہور میں سب سے زیادہ 113 ملی میٹر بارش پانی والا تالاب اور اس کے نواحی علاقوں میں ریکارڈ کی گئی۔ بارش کے باعث صوبائی دارالحکومت میں بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا اور 11 کے وی کی تقسیم کی صلاحیت والے تقریباً 80 فیڈرز ٹرپ کر گئے۔

دریائے سندھ میں آج شدید سیلاب کا خطرہ ہے۔ گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے۔ کشمور کے کچے کے علاقے خطرے کی زد میں آگئے۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح 41 ہزار 868 کیوسک تک بلند ہوئی، گڈو بیراج کے مقام پر اس وقت پانی کی آمد 4 لاکھ 43 ہزار 494 کیوسک جبکہ اخراج 4 لاکھ 34 ہزار294 کیوسک ہے۔

پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 200 دیہات اور 2 لاکھ 24 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پنجاب سے آنے والا بڑا ریلا گڈو اور سکھر سے ہوتاہوا سیہون پہنچے گا جس کے باعث کچے میں بڑے سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی۔