قدرتی آفات کو خود نمائی کے لیے استعمال کرنے کا رویہ
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 09 / ستمبر / 2025
اس وقت ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمردآزما ہے۔ پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے بعد سندھ میں بھی سیلاب کی تباہی جاری ہے۔ لگ بھگ 30 لاکھ ایکڑ زمینوں پر کھڑی فصلوں کی تباہی نے ہماری پہلے سے دگرگوں معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
آپ بطور انسان تصور کریں کہ چند گھنٹوں میں آپ کا ہنستا بستا گھرانہ اجڑ کر پانی کے بیچ بے یار و مددگار کھڑا ہو اور پانی کے اندر کھڑے ایک بوند پانی اور دو نوالوں کو ترس رہا ہو تو اس وقت انسان پر کیا گزرتی ہے؟ ان حالات میں اگر حکمران اس موقع کو اپنی تشہیر و تصویر کا ذریعہ بنائیں تو یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف نہیں ہوگا؟
ہمارے حکمرانوں اور بیوروکریٹس کی بے شرمی کی انتہا ہے کہ ننگے جسموں کو دو روٹیاں دیتے وقت ان روٹیوں پر اپنی تصاویر لگا کر اجڑے لوگوں کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ دو روٹیاں تمہیں ہم نے دی ہیں، لہذا یاد رکھنا اور ووٹ بھی ہمیں دینا۔ ایسی سوچ پر کیا کہا جائے؟ یوں تو اس ملک پر طرح طرح کے کارٹونوں نے حکمرانی کی ہے لیکن اس دوڑ میں پنجاب، وفاق اور باقی صوبوں پر سبقت لے گیا ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ جب کوئی ارب پتی حکمران کیمروں اور میڈیا کے ساتھ اپنے محل سے نکل کر اپنے حکم پر لگائے گئے ریلیف کیمپ میں شان کمال کے ساتھ پہنچتا یا پہنچتی ہے اور کسی ایک بچے یا خاتون کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ کہتے ہوئے تصویر بنواتے ہیں کہ "آپ نے فکر نہیں کرنی میں ہوں نا آپ کے ساتھ"۔ تو اس وقت مصیبت میں پھنسے لوگوں کو اسے پکڑ کر اپنے کیمپ میں بٹھا لینا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں تاکہ بیوروکریسی کی توجہ بھی ادھر ہی رہے۔ لیکن ہمارے ان اجڑے مزدوروں اور کسانوں کو اتنا شعور ہی کہاں ہے کہ وہ سوال ہی کریں کہ آپ کس طرح ہمارے ساتھ ہو؟ اگر آپ ہمارے ساتھ ہوتے تو ہم اس حال میں کیوں ہوتے؟ اگر آپ کو ہماری فکر ہوتی تو یہ سیلاب آتے ہی کیوں؟
ہمارے ملک کا یہ چلن بن چکا ہے کہ جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو ہر کوئی اپنی تصاویر اٹھائے روٹی کے چند ٹکڑوں کے ساتھ آفت زدہ علاقوں میں خیمہ زن ہوتا ہے۔ ہر جماعت اپنے جھنڈوں اور قیادت کی تصاویر ساتھ لے کر پہنچتی ہے۔ پاک فوج مدد کرتی ہے تو وہ بھی اپنی تشہیر اس طرح کرتے ہیں کہ اگر ہم نہ ہوتے تو یہ ملک ہی نہ ہوتا۔ حالانکہ یہ ملک بنانے میں ان کا ایک فیصد بھی کردار نہیں۔ البتہ اس ملک کی معیشت، شعور اور یکجہتی کی تباہی کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔
پنجاب کی موجودہ وزیر اعلی نے تو سب ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ پنجاب کے تمام شہروں کی ریڑھیوں پر وزیر اعلی کی تصاویر ہیں، کوڑا دانوں پر تصاویر آویزاں ہیں، رمضان میں آٹے کے ٹھیلوں پر بھی بڑے میاں صاحب کی تصاویر تھیں۔ اور اب سیلاب زدگان تک جو دو روٹیاں پہنچائی جا رہی ہیں، ان روٹیوں پر بھی وزیر اعلی کی تصویر چپکائی گئی ہے۔ اس کا کیا مقصد ہے؟ کیا یہ خیرات وزیر اعلی اپنے ذاتی پیسے سے کر رہی ہے؟ ویسے تو ذاتی پیسہ خیرات کرتے وقت بھی تشہیر سے منع کیا گیا ہے اور قرآن پاک میں فرمان ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے خیرات کرنے کی مثال ایسی ہے کہ آپ نے بہترین زمین میں بیج بویا ہے جس پر بارش ہوگی تو کئی گنا زیادہ پھل آئے گا۔ اور تشہیر کے لیے خیرات کی مثال ایسے ہے کہ آپ نے ایک چٹان پر بیج رکھا ہے جب بارش آئے گی تو اسے بہا لے جائے گی۔ لیکن یہ جو ہماری حکومتیں مصیبت زدگان کی کچھ مدد کر رہی ہیں، یہ تو عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے یا عوام کے نام پر اکٹھی کی گئی امداد ہے تو اس پر وزیر اعلی کی تصویر کیوں؟ جائیں پوری دنیا میں جا کر دیکھیں کہ کہیں ایسی مثال ملتی ہے؟
دنیا کے کئی ممالک میں زلزلے، سیلاب اور سونامی آتے رہے ہیں اور ان کی حکومتیں اور فلاحی تنظیمیں مدد کو پہنچتی ہیں تو وہ اپنی تشہیر کیوں نہیں کرتے؟ ہمارے ہاں خودنمائی اور ذاتی تشہیر کا سلسلہ ضیا دور سے شروع ہوا تھا۔ اسی دور میں سیاست میں پیسے کا عمل دخل بھی شروع ہوا اور اس کے بعد ہمیں سیاستدان کم اور تاجر زیادہ ملتے آ رہے ہیں۔ اب سیاست کی جگہ تجارت لے چکی ہے، یعنی سیاست میں پیسہ لگاؤ اور پھر کئی ہزار گنا کماؤ۔ اب ہم ایک قوم نہیں بلکہ مختلف چھوٹے چھوٹے گروہوں کا ہجوم ہیں۔ ہر کوئی اپنی ٹوپی، پگڑی، چھڑی اور لباس کے ساتھ نمودار ہوتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ اس ملک کو ہم نے ہی بچا رکھا ہے۔ اس وقت پاکستان کی صورتحال خوفناک ہو چکی ہے 3200 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ لاہور کی ایک شہری سوسائٹی جس میں مکان بنانے والوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی لگا رکھی تھی، پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ غیر جانبدار ذرائع کے مطابق 900 افراد سیلاب اور بارشوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں ہزاروں کی تعداد میں جانور مارے گئے ہیں 32 لاکھ ایکڑ زرعی رقبے کو نقصان پہنچا ہے۔ 39 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
اس سے موجودہ تباہی کا اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے لیکن مستقبل قریب میں اس تباہی کے مزید ہولناک نتائج سامنے آنے کا خدشہ بھی ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے اندر پہلے ہی کبھی گندم اور آٹے کی تو کبھی چینی کی کمی رہتی ہے، جس میں دودھ کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے لوگ مضر صحت دودھ بنا کر فروخت کرتے ہیں، جہاں خوردنی تیل دو نمبر اور مضر صحت استعمال ہوتا ہے، جس ملک کے ہسپتالوں میں ہر وقت رش رہتا ہے، اس ملک میں سیلاب کی حالیہ تباہ کاریوں کے بعد کیا ہوگا؟ کیا حکومت نے فوڈ سیکیورٹی کا بندوبست کر لیا ہے؟ کیا حکمرانوں نے آنے والی مہنگائی کو روکنے یا کھانے پینے کی چیزوں کی مناسب سپلائی کی کوئی منصوبہ بندی کی ہے؟ ایک طرف سیلاب متاثرین کی بحالی کا چیلنج درپیش ہے تو دوسری طرف تباہ ہونے والی فصلوں اور ضائع ہونے والے جانوروں کی کمی کا سامنا کرنا ہے۔
اگر وزیر اعلی یہ سمجھتی ہیں کہ سیلاب زدگان کو چند دن کھانا دے کر اور بریانی میں ایک ایک بوٹی ڈال کر تصاویر بنوا لینے سے مسائل حل ہو جائیں گے تو پھر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ پنجاب پر مسلط کیے جانے والے کارٹونوں میں ایک اور کا اضافہ ہوا ہے۔