قطر پر حملہ: قانونی بالادستی کے اصول کا خاتمہ
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 09 / ستمبر / 2025
دنیا بھر کے ممالک دوحا پر اسرائیلی حملہ کی مذمت کررہے ہیں۔ بالآخر شاید امریکہ ہی وہ واحد ملک رہے گا جو اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہوگا اور واضح الفاظ میں اس جارحیت کی مذمت نہیں کرے گا لیکن اس کے باوجود اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اسرائیلی منہ زوری کو روکا جاسکے اور اسے ایک مہذب ملک کے طور پر اقوام عالم کا رکن بن کر زندہ رہنے اور رہنے دو کا اصول ماننے پر آمادہ کیا جاسکے۔
اب یہ کہنا شاید حقیقت سے آنکھیں چرانا ہوگا کہ اسرائیل کا عسکری مقابلہ ممکن ہے۔ یہ باور کرلینے سے بھی کام نہیں چلے گا کہ اگر امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی نہ کرتا تو اسے ایسی جارحیت کا مظاہرہ کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔ کیوں کہ اسرائیل امریکی امداد سے قطع نظر خود عسکری لحاظ سے اس قدر طاقت ور ہے کہ کوئی ہمسایہ ملک یا عرب ممالک چاہنے کے باوجود اس کا مقابلہ کرنے یعنی اس کے کسی حملہ کا دفاع کرنے کے قابل نہیں ۔
عرب ممالک نے یکے بعد دیگرے اسرائیل سے ہارنے اور اس کی وسعت پسندی سے بچنے کے لیے امریکہ کو اپنا مربی و سرپرست قبول کیا۔ نہ صرف کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے امریکی معیشت اور دنیا کے نظام پر اس کی دسترس مضبوط کرنے کا اہتمام کیا بلکہ سالانہ اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید کر خود کو امریکہ کی عملی غلامی میں دے دیا۔ قطر امریکہ کا قریب ترین حلیف ملک ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اس کی ثالثی اور سفارت کاری کو عالمی سطح پر ہر ملک نے تسلیم کیا ہے۔ اس کے علاوہ قطر میں امریکہ کا ایک بہت بڑا فوجی اڈا ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ قطر کی خود مختاری کا ضامن نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو دوحا پر حملہ کا افسوس ہے اور اس حملہ سے اسرائیل یا امریکہ کا کوئی ہدف حاصل نہیں ہؤا۔ اس کے باوجود امریکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ اسرائیل نے اسے اطلاع دینے کے بعد دوحا میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کا اقدام کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کا یہ بھی کہنا ہے صدر ٹرمپ نے اس حملہ کے بعد قطر کے امیر اور وزیر اعظم سے فون پر بات چیت کی ہے لیکن قطر کی طرف سے مذمت کا معمول کا بیان جاری ہونے کے علاوہ ایسا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا جس سے یہ اندازہ کیا جاسکے کہ اس صورت حال میں وہ کیا طرز عمل اختیار کرے گا۔ اصولی طور سے جب امریکہ قطر کی حفاظت میں ناکام ہوچکا ہے تو اسے فوری طور سے امریکہ کو نوٹس دینا چاہئے کہ امریکی فوجی اڈے کے باوجود اسرائیل نے اس کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو تاراج کیا ہے۔ اگر یہ فوجی اڈا قطر کے قومی وقار اور خود مختاری کا محافظ نہیں ہوسکتا تو اسے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم یہ سنجیدہ اور ضروری اعلان کرنے کے لیے جس حوصلے اور عوامل کی ضرورت ہے، وہ موجود نہیں ہیں۔ اسرائیل سے ما رکھانے کے باوجود قطر کبھی امریکہ کی چھتر چھایہ سے نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ سب کو جان لینا چاہئے کہ عربوں یا اسرائیل کے عتاب کا نشانہ بننے والے سب ممالک کو اصل خطرہ اسرائیل کی بجائے اسی بیمار سوچ سے ہے۔ بے شمار دولت ہونے کے باوجود عرب ممالک ایک ناکارہ عضو کی طرح اسرائیل کے رحم و کرم پر ہیں اور دوحا کے حکمران دنیا کی ہمدردیاں سمیٹ کر سرخرو ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔
دیگر عرب دارالحکومتوں میں ضرور اس ناگہانی حملہ پر سراسیمگی کا ماحول ہوگا لیکن سب عرب لیڈر اپنے اپنے طور پر یہ کہتے ہوئے خدا کا شکر بجا لارہے ہوں گے کہ یہ حملہ ان کے علاقے میں نہیں ہؤا۔ لیکن سعودی عرب سمیت سب عرب ممالک کو جان لینا چاہئے کہ کسی کو اسرائیلی جارحیت سے تحفظ حاصل نہیں ہے۔ جس امریکہ کو انہوں نے اپنا محافظ بنایا ہے ہؤا ہے، اسرائیل کو اس کے ’شرارتی بلکہ شیطان بچے‘ کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ اس کی ہر حرکت کا دفاع کرے گا اور افسوس کا اظہار کرکے معاملہ بھول جانے کا مشورہ دے گا۔ جیسا مشورہ آج ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے دیا ہوگا۔ کہ ’حوصلہ رکھو، اسرائیل تمہارے خلاف تھوڑی ہے۔ وہ تو حماس کو سبق سکھا رہا ہے جو اس کا حق ہے‘۔ یا تو عرب ممالک اس دعوے کا جواب تلاش کریں یا انہی شرائط پر امریکہ کے حلقہ بگوش رہیں جو واشنگٹن ، اسرائیل کی مشاورت سے طے کررہا ہے۔
اسرائیلی حملے نے بین الاقوامی قوانین کا بھرم کھول کر رکھ دیا ہے۔ یوں تو دنیا میں ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی ایسا وقوعہ ہوتا ہے جب ایک طاقت و ر کسی کمزور کو ’سزا‘ دینے کے لیے کسی نہ کسی جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جیسا کہ مئی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کرکے کیا تھااور جوابی وار کے بعد ’سیر فائر‘ قبول کرنے پر مجبور ہؤا۔ یا پھر جیسا جارحانہ رویہ روس 2014 سے یوکرین کے خلاف اختیار کیے ہوئے ہے۔ اور فروری 2022 سے باقاعدہ یوکرین پر حملہ آور ہے اور اس کے وسیع علاقوں کا تاوان لیے بغیر جنگ بند کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یا خود اسرائیل اکتوبر 2025 سے غزہ میں فوج کشی کے ذریعے جس کا مظاہرہ کرتا آرہا ہے۔ اس کی شرط بھی آسان ہے کہ بیس پچیس لاکھ فلسطینی یا تو مرجائیں یا یہ علاقہ چھوڑ کر کہیں چلے جائیں۔ اس پر ستم یہ کہ وہ بھاگنے کا راستہ دینے پر بھی آمادہ نہیں۔ ساری دنیا احتجاج کرنے اور شور مچانے کے باوجود اس جارحیت کو نہیں روک پائی۔
قطر پر حملہ سے اسرائیل نے کوئی نئی مثال قائم نہیں کی ہے۔ اس سے پہلے شام، لبنان، یمن، عراق اور تیونس پر فضائی حملے کرکے وہ گزشتہ دو سال میں اس روایت کو راسخ کرتا آرہا ہے کہ اسرائیل جب چاہے گا اپنے ’دفاع‘ کا نام لیتے ہوئے کہیں بھی حملہ کردے گا اور کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوگا۔ جون کے دوران اسی عذر پر اسرائیل نے ایران پر گیارہ دن تک مسلسل فضائی حملے کرکے ، اس کا انفرااسٹرکچر تباہ کیا۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے طاقت ور صدر نے اسرائیل کی اشک شوئی کے لیے خود بھی ایران پر حملہ کیا۔ پھر جنگ بندی کا اعلان کرکے خود ہی امن کا چیمپئن ہونے کا اعلان بھی کردیا۔ یادش بخیر عرب ممالک دہائیوں سے ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے سینکڑوں ارب ڈالر امریکی اسلحہ خریدنے پر صرف کرتے رہے ہیں۔ لیکن ایران نے آج تک کسی عرب ملک کو کوئی گزند نہیں پہنچائی لیکن اسرائیل دفاع کے نام پر عرب علاقوں میں توسیع پسندی کی تاریخ رقم کرچکا ہے۔
دوحا پر حملہ ایک ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی کا سوال نہیں ہے۔ اس حملہ کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی قانون نافذ العمل نہیں ہے۔ صرف طاقت ہی کو فیصلہ کرنے اور نقشے تبدیل کرنے کا حق و اختیار حاصل ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم ہو یا گلف تعاون کونسل یا اقوام متحدہ، یہ سب ادارے کاغذئی شیر ہیں جنہیں اسرائیل یا امریکہ جیسے انسان دشمن اور اصولوں کو روندنے والے ممالک خاطر میں نہیں لاتے۔ اور یہ دیگر ممالک انہیں سزا دینے یا ان سے لاتعلقی کا اعلان کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ دنیا اس وقت ایک ایسا جنگل بن چکی ہے جس میں جب بھی بادشاہ سلامت کا دل کرتا ہے تو وہ کسی جانور کو چیر پھاڑ کھاتا ہے اور باقی جانور مسکینوں کی طرح اپنی جان بچ جانے پر اطمینان کا سانس لیتے ہیں۔
مذمت و احتجاج بے معنی الفاظ ہوچکے ہیں۔ اسی لیے ممکنہ بھرپور مذمت کے امکان کے باوصف اسرائیل دوحا کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آیا۔ قطر ہی نہیں، سب عرب ممالک کو سوچنا چاہئے کہ امریکہ نے اس حملہ کی آڑ میں انہیں کیا پیغام دیا ہے۔ یا تووہ اس پیغام کو مان کر اپنی قومی غیرت کے خلاف مزید دست درازی کے لیے تیار رہیں ۔ یا پھر ایک جابرانہ ورلڈ آرڈر کو تبدیل کرنے کے لیے سرگرمی کا مظاہرہ کریں ۔