ناروے قومی انتخابات میں تین پاکستانی نژاد امیدوار کامیاب

8 ستمبر 2025 کو ناروے میں قومی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے۔ پورے انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی انتخابی بے قاعدگی یا دھاندلی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ حالانکہ 47 فیصد پیشگی ووٹ بھی ڈالے جا چکے تھے۔

اس بار پیشگی ووٹنگ کا عمل 11 اگست سے 5 ستمبر تک جاری رہا۔ پورے ووٹنگ عمل میں صرف بیلٹ پیپر پر ووٹ ڈالے گئے۔ ہر ووٹر کو خود پولنگ اسٹیشن جا کر ووٹ ڈالنا پڑا۔ کسی قسم کی ای ووٹنگ یا ای وی ایم مشین کا استعمال نہیں ہوا۔
کہیں پر بھی فوج، اسٹیبلشمنٹ یا انتخابی عملے کی جانب سے کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔ اور نہ ہی ووٹرز اور عوام ایسی کسی مداخلت کو برداشت کرتے ہیں۔

ہارنے والے امیدواروں اور پارٹی رہنماؤں نے اپنی شکست خوش دلی سے قبول کی اور اپنے مخالف جیتنے والے امیدواروں اور جماعتوں کو مبارکباد دی۔ انتخابات کے نتائج کے مطابق بائیں بازو کے اتحاد نے 88 نشستیں حاصل کر کے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ جس سے آربائیدر پارٹی کے منتخب لیڈر اور رکن قومی اسمبلی، یوناس گار اسٹورے کے دوبارہ وزیرِاعظم بننے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

بائیں بازو کے اتحاد میں شامل پانچ جماعتیں: آربائیدر پارٹی، ( لبیرپارٹی ) سوشلسٹ وینسترے پارٹی، ریڈ پارٹی، گرین پارٹی اور کسان پارٹی نے حکومت سازی کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد، جسے عرف عام میں دائیں بازو کا اتحاد کہا جاتا ہے، اس میں ہائرے (کنزریٹو ) لبرل، کرسچن ڈیموکریٹ اور ایف آر پی پارٹیاں شامل ہیں۔ اس اتحاد نے 81 نشستیں حاصل کیں۔

بائیں بازو کی پانچوں جماعتیں ان نکات پر متفق ہیں کہ ملک میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری کو کم کیا جائے، روزگار اور صنعت کاری کے یکساں مواقع دیہی و شہری علاقوں میں فراہم کیے جانیں گے۔ ٹیکس نظام کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ زیادہ آمدنی والے افراد زیادہ ٹیکس دیں اور کم آمدنی والے افراد کم ٹیکس ادا کریں۔ ماحولیاتی آلودگی میں کمی، قابل تجدید توانائی (رینیوایبل انرجی) کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری، اور فوسل آئل کے ذریعے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں کمی بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
اگرچہ ان نکات پر اتفاق رائے موجود ہے، تاہم چند بڑے مسائل پر اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ جیسے کہ نیٹو کے ساتھ دفاعی معاہدے، یورپی اقتصادی یونین سے علیحدگی، مسئلہ فلسطین، نارویجین آئل فنڈ کی اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور غریب ممالک کو دی جانے والی امداد میں اضافہ۔

ناروے الیکشن 2025 میں تین پاکستانی نژاد امیدوار بھی اپنی اپنی جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہو گئے ہیں۔ عابد راجہ لبرل پارٹی کی طرف سے ضلعی حلقہ آکرش ہوس سے کامیاب ہوئے۔ مدثر کپور کنزرویٹو پارٹی (ہائرے) کی نمائندگی کرتے ہوئے ضلعی حلقہ اوسلو سے منتخب ہوئے۔ لبنٰی جعفری ضلعی حلقہ ہوردالینڈ سے منتخب ہوئیں۔

پارٹی سنٹرم، جس کے تین ضلعی حلقوں میں پاکستانی نژاد امیدوار زیادہ تعداد میں کھڑے تھے، کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ پارٹی سنٹرم کو پورے ملک سے صرف 5403 ووٹ ملے جو کہ کل ووٹوں کا صرف 0.2 فیصد بنتا ہے۔

ناروے قومی اسمبلی انتخابات میں ٹوٹل ووٹرز کی تعداد 41 لاکھ کے قریب ہے۔ جن میں سے 32 لاکھ ووٹرز  نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس طرح ووٹنگ ٹرن آؤٹ 79 % رہا۔