امہ کی وقتی خوشنودی یا حقیقی غمخواری
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 10 / ستمبر / 2025
ناسازئ طبع میں ٹھنڈا میٹھا شربت پینے اور پلانے والے مخلص بزرگان کی خدمت میں، ہماری دست بستہ التماس ہے کہ وہ اُمہ کی حالت پر رحم فرمائیں، اس کو بستر مرگ سے اٹھ بیٹھنے، چلنے پھرنے اور دنیا میں سربلند ہونے کے مواقع بہم پہنچائیں۔
اس کی وقتی خوشنودی کے لئے اسے وہ مشروبات نہ پلائیں جو اس کے جسد قومی میں رعشہ طاری کر دیں۔ جس طرح افراد کو معیاری صحت کے حصول کی خاطر کچھ کڑوے نسخوں اور پرہیزی ہدایات کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح اقوام و ملل کو بھی پستی سے بلندی کی طرف لے جانے کے لئے کچھ بظاہر کڑوے کسیلے فیصلے کرنے اور سہنے پڑتے ہیں۔
نائن الیون کے بعد آج ہم اگر ٹھنڈے پیٹوں غور کریں کہ مسلم ورلڈ میں القاعدہ، داعش، حماس اور طالبان جیسے متشدد گروہوں کے خلاف جو آپریشن ہوا ہے، حکیم مغرب کو ہم لاکھ برا کہیں، اُمہ کے اس جسد قومی کی صحت و سلامتی کے لئے یہ کتنا ناگزیر تھا۔ یہ ایک الگ طویل بحث ہے کہ اس علاج کے ہنوز کیا مثبت اثرات و ثمرات نمودار ہوئے ہیں یا ہونے والے ہیں۔ اور برعکس صورت میں کون کون سی تباہ کاریاں وارد ہونی تھیں۔ اُمہ کے سچے خیر خواہوں کو یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ عالم اسباب کی یہ دنیا فطری حقائق یا مسائل و علل ہی سے عبارت ہے۔ مسبب الاسباب نے بھی یہ حقیقت کھول کر بیان کر دی ہے۔ ”انسان کو تو بس کوشش کرتے رہنا چاہئے“۔
اسباب کی اس دنیا میں حقیقی آگہی،شعوری سر بلندی حکمت عملی، وسائل اور اپنے وقت کی ٹیکنالوجی کی اہمیت سے انکار کرنے والا احمقوں کی دنیا کا باسی تو قرار پا سکتا ہے، دنیا یا انسانیت کی ترقی میں انمٹ نقوش چھوڑنے ولا نہیں بن سکتا۔ فرشتے قطار اندر قطار اتارنا تو ایک تمثیلی اظہار بیان ہے، یہ فرشتے جو میدان بدر میں اترے تھے۔ سوال یہ ہے کہ آخر میدان احد میں اترنے سے کیوں قاصر رہے؟ حالانکہ لشکر اسلام کی قیادت ہر دو مواقع پر پیغمبراسلامؐ خود بنفس نفیس فرما رہے تھے۔ ہم کہتے ہیں کہ دوسرے موقع پر اپنے کمانڈر کے حکم کی تعمیل میں جنگی حکمت عملی یا پالیسی نہیں اپنائی گئی، یہ عدم تعمیل دراصل طے کردہ ”حکمت عملی“ کو نظر انداز کرنا ہی ہے۔
ہمارا طرز عمل ایسا غیر ذمہ دارانہ ہے کہ ہم کبھی طالبانوں کے غم میں گھلنے لگتے ہیں، کبھی بن لادن کو شہید کہتے ہوئے رونا شروع کردیتے ہیں، کبھی ان جہادیوں کی مفرور قیادت کے قصے سنانے لگتے ہیں، کبھی حکمت یار کی حماقتوں میں دانائی تلاش کرتے ہیں تو کبھی بن لادن جیسے شخص کی بڑائی بیان کرتے ہیں۔ کبھی ملا عمر ہمارا امیر المومنین بننا چاہتا ہے، کبھی بیت اللہ محسود اور صوفی محمد۔ افغانوں میں امن، ترقی اور استحکام کے لئے حساس جدوجہد کرنے والے ہمیں ہضم ہو رہے ہیں، نہ ان کی سرپرستی کرنے والے شرف قبولیت پا رہے ہیں۔ سو اپنے اس طرز عمل سے سوائے انارکی پھیلانے کے ہم اور چاہتے کیا ہیں؟ ہمارا کچھ ایسا ہی طرز عمل دیگر خطوں اور ممالک کے مسلمانوں اور ان کے مسائل سے متعلق بھی ہے۔ ہر نعرے باز اور غیر ذمہ دار شخص خواہ وہ اپنے عوام کے لئے کتنا ہی بدترین ڈکٹیٹر ہو، ہمیں محض اس لئے اپنا ہیرو نظر آنے لگتا ہے کہ وہ مغرب کو گیدڑ بھبھکیاں لگاتا اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اپناتا ہے۔ صدام کو تو خیر چھوڑیں، قذافی نے کتنے اور کیسے کیسے پینترے بدلے، کبھی ہم نے ان کا حساب کیا؟ قذافی سٹیڈیم کی صورت میں وہ آج بھی ہمارا ہیرو ہے جبکہ سر سید ؒاور اتاترکؒ ہمارے ہیرو نہیں ہیں۔ البتہ جابر و ظالم خلافتِ عثمانیہ والے عثمانی آمر ہمار ے ہیروز ہیں۔
دنیا بھر میں جن کو ہم خالص مذہبی، جہادی یا اسلامی تحریکیں کہتے ہیں، کیا ہم نے کبھی ان کی کارکردگی کا غیر جذباتی و منصفانہ جائزہ لیا؟ اپنے سیدھے سادے مخلص مسلمان عوام کے لئے مذہب کے ان ٹھیکیداروں نے جو مشکلات کشمیر سے لے کر فلسطین تک دنیا بھر میں پیدا کر رکھی ہیں اور مسلم ممالک میں جس طرح اسلام کے مقدس نام پر یہ لوگ انارکی پھیلانے کا باعث بنتے چلے آ رہے ہیں، اسے اسلام کی خدمت قرار دیا جائے یا اس پاکیزہ نام کو بدنام کرنے کی کاوش؟ یہی لوگ اگر اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہوئے مسلمان عوام کے انفرادی و اجتماعی حقوق کی بات کرتے، ان کے بنیادی و جمہوری حقوق کی جدوجہدمسلمہ آئینی، قانونی، سیاسی اور جمہوری اصولوی کی مطابقت میں پیش کرتے تو نہ صرف یہ کہ انہیں اپنے عوام کا کھلا اور مضبوط تعاون میسر آتا، بلکہ علاقائی آمریتوں کے خلاف سیکولروجمہوری مغرب کی اخلاقی، سیاسی، قانونی بلکہ مادی قوت بھی ان کی پشت پناہ ہوتی۔ کیونکہ آج مسئلہ مذہب یا دین کا تو رہ ہی نہیں گیا۔
آج دنیا میں مذہب کی پاکیزہ اخلاقی تعلیمات کا تو کوئی بھی مخالف نہیں رہا۔ خرابی تو تب پیدا ہوتی ہے، جب مذہب کا سیاسی و مفاداتی استعمال کیا جاتا ہے۔
مسلم معاشرے ہوں یا غیر مسلم، آج انسانیت کا اصل مسئلہ امن، سلامتی اور سیاسی و معاشی استحکام ہے، آئین، جمہوریت، قانون، حقوق، مساوات اور آزادیوں کی عملداری ہے۔ مسئلہ ایسے مہذب معاشروں کی تشکیل ہے، جہاں کوئی کسی کا استحصال کر سکے نہ ظلم و جبر کے لئے کوئی گنجائش نکال سکے۔ نسلی و جنسی امتیاز کا خاتمہ ہو سکے۔ آج غربت، جہالت، بیماری، ظلم، جبر، ناانصافی جیسی برائیاں انسانیت کی مشترکہ دشمن ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ مہذب انسانوں کو مل کر ان سے لڑنا ہے۔ کیا یہ سب غیر اسلامی کام ہیں یا عین تقاضائے اسلام؟ بات ویسٹ کی ہے نہ ایسٹ کی، بھارت کی ہے نہ اسرائیل کی، بات تو انسانی اور غیر انسانی رویوں کی ہے۔ رہ گئے علاقائی جھگڑے، تو یہ مصنوعی آگ بھی دراصل کچھ مفاداتی گروہوں کی، اپنے مخصوص مفادات کے حصول کی خاطر لگائی ہوئی ہے۔
اگر ہم دنیا میں خالص جمہوریت کا چلن عام ہونے دیں تو یہ علاقائی جھگڑے خود بخود مرجائیں گے اور دفن ہو کر رہ جائیں گے۔ ضرورت حوصلے، برداشت اور صبر کی ہے۔ دوسرے کو اپنا مؤقف سمجھانے کے ساتھ ساتھ اس کا مؤقف سمجھنے کی ہے۔ انسانی رواداری کے لئے اپنا سینہ کھولنے کی ہے۔ نظریہ جبر کے رخصت ہوتے ہی آج دنیا میں امہ کا تصور بدل چکا ہے۔ دنیا بھر کے تمام آئینی و جمہوری معاشرے جن کی بنیادیں انسانی حقوق اور فکری و نظری آزادیوں پر استوار ہیں وہ چاہے بھارت و اسرائیل ہوں یا امریکا ویورپ یا آسٹریلیا و جاپان، ہمارے لیے ایک امہ ہیں اور جو اس کے برعکس غیر جمہوری ہیں یا انسانی حقوق اور آزادیوں کے انکاری معاشرے ہیں وہ چاہے رشیا و چائنہ ہوں یا افغانستان و ایران، جہاں آمریت و جبر نے انسانیت کے شکنجے کسے ہوئے ہیں اس انسانی یا اسلامی امہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جبر کے مائنڈ سیٹ پر مبنی اسی نفرت و گھٹن کے خلاف آواز اٹھانا امہ کی حقیقی غمخواری ہے۔