متمول طبقہ کیوں بے خبر ہے؟

کئی افراد ایسے ملتے ہیں جن کی تان اِس بات پر ٹوٹتی ہے کہ اِس بار سیلاب زدگان کے لئے بیرون ملک سے کوئی بڑی امداد نہیں مل رہی، پھر یہ بھی کہتے ہیں اس بار تو تباہی بھی زیادہ ہے۔سیلاب سے متاثرہ افراد تو رُل جائیں گے۔

میں اُن کی باتیں سُن کر سوچتا ہوں کہ ہماری یہ مجموعی ذہنیت بن گئی ہے کہ فقیروں کی طرح امداد کے لئے سوچتے ہیں،کبھی اس بات پر زور نہیں دیتے کہ25کروڑ افراد کے اس ملک میں کیا کمی ہے کہ ہم چند لاکھ متاثر ہونے والوں کی مدد اور بحالی نہ کر سکیں۔ پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک ارب پتی کیا کھرب پتی پڑا ہے۔کروڑ پتیوں کا شمار ہی نہیں،کیااِس طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کوی فرض نہیں کہ وہ اس ابتلا کی گھڑی میں آگے آئیں اور ایک ایک بستی، ایک ایک شہر سنبھال لیں۔یہاں ارب پتی بھی حکومت سے مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ مدد کے لئے وسائل مختص کیے جائیں۔ او بھائی حکومت تو کر ہی رہی ہے، کچھ آپ بھی کر لیں،انہی غریبوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے آپ کی مصنوعات خرید کر آپ کو ارب پتی بنایا ہے۔کچھ ان کا بھی حق ہے۔دنیا بھر میں ایسے مواقع پر صرف حکومت کو تنہا نہیں چھوڑ دیا جاتا بلکہ امرا سامنے آتے ہیں۔ہم دنیا پر ہمیشہ یہ تاثر  چھوڑتے ہیں کہ غریب و نادار ہیں، جبکہ عالم یہ ہے دنیا کے مختلف ممالک میں ہمارے دولت مند طبقے کی جائیدادیں،بنک بیلنس ہیں۔ ملک میں جب بھی عوام پر کوئی مشکل وقت آتا ہے، یہ خواص بھی مظلوم بن کر عوام کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ابھی تک کسی صنعتی گروپ کی طرف سے سیلاب زدگان کی امداد کا کوئی اعلان دیکھنے میں نہیں آیا۔ادویہ ساز کسی کمپنی نے یہ اعلان نہیں کیا کہ سیلاب زدگان کے لئے وہ مفت طبی کیمپ لگا کر ادویات فراہم کرے گی،

میں سمجھتا کئی کمپنیاں ایسی ہیں جو اپنے ایک ماہ کا منافع ہی سیلاب سے متاثرہ افراد کی طبی امداد کے لئے وقف کر دیں تو سینکڑوں مریضوں کا بھلا ہو سکتا ہے۔ اب سیلاب اُترے گا تو غریبوں کے گھر ہوں گے نہ اشیا کہ وہ تو پانی کے ساتھ بہہ گئے یا گر گئے۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا ملک کے امیر ترین افراد حکومت کی مشاورت سے ایسے علاقوں کا انتخاب کر لیں جہاں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے اور اُن علاقوں میں  گھر تعمیر کرنے یا مرمت کرانے کا ذمہ اُٹھا لیں۔یاد رہے کہ غریبوں کے گھر عالیشان نہیں ہوتے، سر چھپانے کی جگہ ہوتے ہیں اور دو چار لاکھ روپے میں بن جاتے ہیں۔ ایسے ایک ایک سو گھروں کی تعمیر بھی بڑے صنعتی گروپ اٹھا لیں تو پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم  ہو سکتی  ہے۔سیلاب کے دِنوں میں سب کی توجہ حکومت کی طرف  ہوتی ہے یا حکومتی اداروں کی طرف،حالانکہ نجی شعبے کے سرمایہ داروں کو ازخود آگے آنا چاہئے لیکن میری اس بات کو انہونی ہی قرار دیا جائے گا، کیونکہ ہمارے ہاں ایسی کوئی روایت قائم ہی نہیں ہو سکی۔

روزنامہ”پاکستان“ کے گروپ جوائنٹ ایڈیٹر شوکت اشفاق اور میں سیلاب سے متاثر علاقوں کا جائزہ لینے کے لئے ملتان کے نواح میں مختلف جگہوں پر گئے۔ہم شہروں میں رہنے والے سمجھتے ہیں ہمارے گھر ہی قیمتی ہیں،ہم انہیں چھوڑنے یا خالی کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، حالانکہ گھر تو بس گھر ہوتا ہے۔ چڑیا کا گھونسلا بھی اُس کا گھر ہوتا ہے اور کوئی گرا دے تو اُس کی بھی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ہم نے دیکھا کہ جب لوگ سیلاب کی وارننگ جاری ہونے پر جلدی میں اپنے گھر خالی کر رہے تھے تو ان کی کیا حالت تھی،عورتیں دھاڑیں مار کے  رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں پتہ نہیں۔یہ گھر سلامت رہتا ہے یا نہیں، اس میں دوبارہ آنا نصیب بھی ہوتا ہے یا نہیں،اُن کے کرب کو ہم محسوس بھی کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔یہ وہ سیلاب متاثرین ہیں، جنہوں نے دریا کی زمین پر قبضہ کر کے اپنے گھر نہیں بنائے ہوئے تھے،بلکہ اپنی چھوٹی موٹی  زمین پر کاشتکاری کر کے گذارہ کرتے تھے۔اُن کے کچے مکانات پانی کے ریلے میں بہہ رہے تھے اور جو کچھ وہ نکال سکتے تھے نکال کر اپنے ہی گھروں سے ہجرت پر مجبور ہو گئے تھے۔ ابھی تو اُن کے زندہ رہنے کا مسئلہ ہے، جب سیلاب اُترے گا تو ایک امید لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں گے، آگے کیا ملتا ہے یہ اُن کی قسمت پر منحصر  ہے۔  اس بار یہ عجیب فیصلہ بھی دیکھنے میں آیا کہ سیلاب زدگان کو عارضی خیموں میں رکھا گیا ہے جبکہ بارشوں کی وجہ سے ان خیموں میں پانی داخل ہو جاتا ہے اور اندر کیچڑ بن جاتا ہے۔ کیا ایسا ممکن نہیں تھاکہ ان سیلاب زدگان کو سرکاری سکولوں،کالجوں اور دیگر دستیاب عمارتوں میں رکھا جاتا۔ کیا ایسا پہلے نہیں ہوتا رہا۔  فیصلے کرنے والے نجانے کیا سوچ کر فیصلہ کرتے ہیں مگر اُن کے غلط فیصلے لوگوں کی اذیت میں اضافہ کر دیتے ہیں۔

ماضی میں ہم نے دیکھا کہ ایسے سانحات یا آفات پر حکومتی فنڈز اکٹھا کرنے کے لئے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالتی رہی ہیں۔ ایک یا دو دن کی تنخواہ کاٹی جاتی  ہے اس کا مصرف کہاں ہوتا ہے کسی کو نہیں بتایا جاتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں ملک کے متمول افراد کو کیوں اس کارِخیر میں شامل نہیں کیا جاتا۔سب ارب پتی افراد کا ڈیٹا ایف بی آر کے پاس موجود ہے۔کیا اُن سے سیلاب فنڈ کے لئے وصولی نہیں کی سکتی۔ جب قومی مشکلات آتی ہیں تو پوری قوم کو مل کر اُن سے نکلنا ہوتا ہے۔یہ بات خلافِ حقیقت ہے کہ صرف حکومت سب کچھ کرے اور دوسری طرف وہ طبقہ ہو،جس کے پاس کچھ نہیں رہا، آخر سول سوسائٹی کہاں ہے؟ وہ اپر کلاس کیوں غائب ہو جاتی ہے، جس کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔کیا ہمارے پاس صرف یہی ایک راستہ ہے کہ ہم کشکول لے کر دنیا کے سامنے جائیں اور مدد کی بھیک مانگیں۔

اقوام متحدہ  کا تو فرض ہے کہ وہ کسی ملک کی مدد کرے باقی ممالک سے تو اپیل ہی کرنی پڑتی ہے۔اگر ہمارا متمول طبقہ اس موقع پر آگے آ جائے،ملک کے تمام چیمبرز آف کامرش مدد کا بیڑہ اٹھا لیں تو شاید ہمیں کسی کے آگے دست ِ سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے، مگر ایسا کرے کون؟

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)