سلامتی کونسل میں پاکستان اور اسرائیل میں تلخ جملوں کا تبادلہ

  • جمعہ 12 / ستمبر / 2025

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان نے قطر میں حماس رہنماؤں پر حالیہ اسرائیلی حملے کو ’غیر قانونی، بلا اشتعال اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ‘ قرار دیا۔

پاکستان اور اسرائیل کے مابین سخت جملوں کا یہ تبادلہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں ہوا۔ یہ اجلاس الجزائر، پاکستان اور صومالیہ کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا، جس کی حمایت فرانس اور برطانیہ نے بھی کی۔ پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب کا آغاز اسرائیلی حملے کی سخت مذمت سے کیا اور اسے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور ’ڈھٹائی پر مبنی اور غیر قانونی کارروائی‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ غیر قانونی اور ڈھٹائی پر مبنی حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ اسرائیل کی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے ایک بڑے اور مستقل سلسلے کا حصہ ہے جو خطے کے امن و استحکام کو کمزور کرتا ہے۔ اسرائیلی حملوں نے ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا، جس سے شہریوں کی زندگیاں جان بوجھ کر خطرے میں ڈالی گئیں۔ لہٰذا یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے‘۔

انہوں نے اس حملے کو سفارت کاری کے لیے براہِ راست چیلنج قرار دیا کیونکہ یہ اس وقت کیا گیا جب غزہ کے حوالے سے حساس مذاکرات ممکنہ کامیابی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان کے مطابق ’کسی اہم ثالث کے علاقے اور براہِ راست مذاکرات میں شامل افراد کو نشانہ بنانا دراصل سفارت کاری کو سبوتاژ کرنے، امن کی کوششوں کو ناکام بنانے اور شہریوں کی مشکلات بڑھانے کی دانستہ کوشش ہے‘۔

انہوں نے قطر کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کے حالیہ دورۂ دوحہ کو مثال کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ یہ دورہ قطر کی سلامتی و خودمختاری کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے عزم کی علامت ہے۔

انہوں نے اسرائیلی حملے کو اقوام متحدہ کے چارٹر بالخصوص آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی بھی قرار دیا جو کسی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ پاکستانی سفیر نے خبردار کیا کہ یہ حملہ اسرائیل کی اس پالیسی کا حصہ ہے جو غزہ، شام، لبنان، ایران اور یمن میں سرحد پار کارروائیوں کی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ بین الاقوامی قانون کی منظم خلاف ورزی اور خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی اسرائیل کی کھلی پالیسی کی ایک اور مثال ہے‘۔

دوسری طرف اسرائیل کے سفیر نے ابتدا میں اپنے خطاب میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی مثال دی تاکہ دوحہ پر حملے کا جواز پیش کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب بن لادن کو پاکستان میں ختم کیا گیا تو سوال یہ نہیں تھا کہ غیر ملکی سرزمین پر دہشت گرد کو کیوں نشانہ بنایا گیا، سوال یہ تھا کہ ایک دہشت گرد کو پناہ کیوں دی گئی؟ یہی سوال آج بھی اٹھتا ہے، بن لادن کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں تھا، اور حماس کے لیے بھی نہیں ہے‘۔

اس پر پاکستان نے فوری طور پر جواب دینے کا حق استعمال کیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے اس موازنہ کو ’ناقابل قبول اور بے ہودہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اسرائیل اپنی ’غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں‘ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ (اسرائیل) اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا مسلسل خلاف ورزی کرنے والا ایک قابض ہے، جو عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتیٰ کہ خود اقوام متحدہ کو بھی دھمکاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ استثنیٰ کے ساتھ کرتا ہے۔ حملہ آور ہونے کے باوجود یہ خود کو مظلوم ظاہر کرتا ہے مگر آج یہ مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے‘۔

انہوں نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کردار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ’بین الاقوامی برادری بخوبی جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، القاعدہ بڑی حد تک پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے باعث ختم ہوئی، اور ہم اس اجتماعی جدوجہد کے لیے پرعزم ہیں‘۔

اس کے جواب میں اسرائیلی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک دہرا معیار اپناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے میری باتوں سے انہیں تکلیف پہنچی ہو اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں لیکن میں ہمیشہ حقائق پر بات کرتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں مارا گیا اور اس پر کسی نے امریکا پر تنقید نہیں کی۔ جب دوسرے ممالک دہشت گردوں پر حملہ کرتے ہیں تو کوئی ان کی مذمت نہیں کرتا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے کہ نائن الیون ہوا تھا اور نہ ہی یہ حقیقت بدل سکتی ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں تھا اور وہیں مارا گیا۔ جب آپ ہم پر تنقید کرتے ہیں تو ذرا یہ سوچیں کہ آپ اپنے ملک کے لیے کون سے معیار اپناتے ہیں اور اسرائیل کے لیے کون سے‘۔

قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی نے بھی اجلاس میں اقوام متحدہ کے قواعد کے تحت خطاب کیا۔ انہوں نے دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ حملہ ان رہائشی کمپاؤنڈز پر کیا گیا جہاں مذاکراتی ٹیمیں، حماس کے نمائندے اور ان کے خاندان مقیم تھے، جس سے مکین خوفزدہ ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اقوام متحدہ کے رکن ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، خون کے پیاسے انتہا پسندوں کے زیرقیادت اسرائیل نے ہر حد پار کرلی ہے، کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کوئی ریاست اس طرح ثالث کو نشانہ بنائے؟‘۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے جواز کو طالبان کے سیاسی دفتر سے جوڑتے ہوئے کہا کہ امریکا نے کبھی دوحہ میں مذاکرات کرنے والے طالبان پر حملہ نہیں کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی کارروائیاں خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جا رہی ہیں اور امن کے امکانات کو تباہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم امن کے خواہاں ہیں، جنگ کے نہیں، اور ہم جنگ اور تباہی کے نعرے لگانے والوں سے مرعوب نہیں ہوں گے‘۔