قطر پراسرائیلی حملہ: کچھ تلخ حقائق (2)

دنیا میں کون سا دل درد مند ہے جسے غزہ کے عوام کی حالتِ زار کا ادراک، احساس اور دکھ نہیں۔ ان پر حملے ہورہے ہیں ان کے بچے بوڑھے جوان مررہے ہیں لیکن حماس قیادت کو ذرا شرم نہیں آرہی کہ ہم لوگوں نے اسرائیلی یرغمالی کس خوشی میں اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں؟

وہ ان کی لاشوں پر بھی اپنا گندا بیوپار کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ انہیں مظلوم فلسطینی عوام کے نام پر حاصل کردہ بیرونی امداد کی اس قدر حرص اور لالچ کیوں ہے؟ حماس لیڈران کے ذاتی اکاؤنٹس کئی کئی ارب ڈالرز سے کیونکر بھرے پڑے ہیں، جسے شک ہے وہ اسمعیل ھنیہ کی جائیداد اور ذاتی اکاؤنٹس میں درج ساڑھے پانچ ارب ڈالرز کی تفصیلات ملاحظہ کرلے۔ ہمارے پاکستان جیسے روایتی مسلمان ممالک کے عوام کو آخر اس نوع کے حقائق بتانے سے ہمارا میڈیا کیوں گریز یا پرہیز کرتا ہے؟

نتیجتاً وہ دنیابھر کے مسلم دہشت گردوں اور ان کی حماس، اسلامی جہاد، لشکر طیبہ، حزب اللہ، اخوان المسلمون، بوکوحرام، طالبان، جیش محمد، القاعدہ اور داعش جیسی خونخوار ٹیررسٹ تنظیموں کے متعلق یہ گمان رکھتے ہیں کہ شاید وہ خالص اسلامی کاز کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ امریکا، یورپ اور مغربی دنیا تو ان کے ساتھ اسلاموفوبیا کی وجہ سے حقارت یا بیر رکھتے ہیں۔

اسرائیل کو ہم لوگ جس قدر مرضی برا بھلا کہہ لیں جتنی مرضی لعن طعن کرلیں لیکن کیا وہ اس سرزمین پر ایک اٹل حقیقت نہیں ہے، جس کی کچھ نہ کچھ تاریخی، تہذیبی، جغرافیائی اور مذہبی و اخلاقی بنیادوں سے بھی آپ لوگ انکار نہیں کرسکتے۔ جس کا بیان ہماری مقدس ترین کتاب میں بھی موجود ہے۔ انسانی بنیادوں پر بھی اگر ہم غور کریں تو ہمارے مسلمانوں کے پاس ماشا اللہ ستاون مسلم ممالک موجود ہیں، آخر ہم یہود کے لیے پوری دنیا میں صرف ایک ملک سے بھی کیوں انکاری ہیں۔ ہم لوگوں نے اپنے پاسپورٹ پر بھی نفرت انگیز تحریر کیوں لکھ رکھی ہے۔

درویش عرض گزار ہے کہ وہ شخص جو اسرائیلی مظالم کی مذمت نہیں کرتا شاید وہ مہذب انسان کہلانے کا حقدار بھی نہیں لیکن جب حماس جیسے ٹیررسٹ گروپ اسرائیل کے اندر گھس کر بارہ سو اسرائیلیوں کے گلے کاٹ رہے تھے، کیا ہمارے اپنے مسلمان عوام  نے مذمت کرنے کی بجائے اس پر خوشیوں کے شادیانے نہیں بجائے؟ یہاں کتنے لوگ یہ سوال کرتے پائے گئے ہیں کہ حماس نے جو بے گناہ اسرائیلی ناجائز یرغمالی بنارکھے ہیں، انہیں کیوں رہا نہیں کیاجارہا؟۔ اے مسلمان بھائیو! انسانی ہمدردی کا کیا یہ دہرا معیار نہیں ہے؟

تم کس قدر دوغلے اور منافق لوگ ہو ایک طرف فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا رونا روتے نہیں تھکتے ہو دوسری طرف اسی اسرائیل کی طرح سیم بیج پر پریذیڈینٹ ٹرمپ کے لیے امن نوبل پرائز کے باضابطہ سفارشی بن کر کھڑے ہوجاتے ہو۔ حالانکہ دن رات یہ چیختے پائے جاتے ہو کہ امریکی صدر ٹرمپ فسلطینیوں پر اسرائیلی مظالم میں برابر کا شریک ہے۔ وہ بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کی مدد اور تعاون کے بغیر اسرائیلی پرائم منسٹر کی مجال نہیں تھی کہ وہ حماس والوں کا دوحا تک پیچھا کرسکتا یا وہاں میزائل گراپاتا۔ اگر تمہارے لیڈران اتنے مخلص ہیں تو امریکی سفیر کے سامنے کریں ٹرمپ کی مخالفت۔ الٹے یہ لوگ امریکی سفارت خانے پہنچ کر ٹرمپ کی شان میں قصیدے پڑھتے پائے جاتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں خفیہ یا جلی ملاقاتوں کے لیے حریص کھڑے دکھتے ہیں۔ تاکہ ان کی خوشامد پسندی کہیں کمزور نہ پڑجائے۔

اسلام اسلام کے نعرے جپنے والے خوشامدیو! سنکیانگ کے مسلمانوں پر جب مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تب اسلام اور مسلمانوں سے تمہاری محبت کہاں چلی جاتی ہے۔ کشمیری مسلمانوں سے تمہیں بڑی محبت ہے، سنکیانگ کے مسلمانوں سے نفرت کیوں ہے۔ کیوں ان کا نام تک نہیں لیتے ہو۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور مظالم کی آواز کبھی پریذیڈنٹ شی جن پنگ کے حوالے سے اٹھا کر تو دیکھو، پیوٹن کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے بیوقوفوں کی طرح للچارہے تھے، منگتوں کی طرح آگے بڑھ کر اپنے ملک کی تذلیل کروارہے تھے، کیا کبھی یہ پوچھنے کی جرات کرسکتے ہو کہ آپ نے چیچنیا اور رشیا کے مسلمانوں پر کتنے مظالم ڈھائے ہیں۔ یوکرین میں کتنے بے گناہ موت کے گھات اتارے ہیں۔

سب ڈھکوسلے بازی ہے، دو چہروں والے منافق لوگ ہیں۔ چھتر افغانوں سے کھاتے ہیں، نفرت کے بگولے دلی کی طرف منہ کرکے چھوڑتے ہیں۔ آج ٹرمپ تمہارا ہیرو ہے کہ مودی کے خلاف بول رہا ہے۔ سوچو اس دن کا جب اس نے تم سے یہ مطالبہ کردیا کہ اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرو یا اسرائیل کو فوری تسلیم کرلو، ورنہ آرہی ہیں تم پر یہ بندشیں۔ سوچ لو کہ اس دن اپنے اس انکل کو کیا جواب دو گے؟دوسروں پر ہنسنا بہت آسان ہوتاہے جب خود پر پڑتی ہے تو آ ٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا ہے۔
ہمارے زیادہ سیانے قطر کو سمجھاتے ہوئے اس نوع کی لمبی لمبی چھوڑ رہے ہیں کہ تم لوگوں نے اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی اور معاشی مضبوطی پر فوکس کرنے کی بجائے پاکستان کی طرح اپنےعوام کو بھوکے مار کر عسکریت پر خرچ کیوں نہیں کیا۔ ہماری طرح تگڑی فوج کیوں نہیں بنائی۔ عوام کالانعام تو جانوروں کی طرح ہوتے ہیں، پاکستانیوں کی طرح قطری عوام بھوکے مرتے ہیں تو مرنے دو، بس دفاع مضبوط ہونا چاہیے۔ فوج تگڑی ہونی چاہیے۔

ان لوگوں کو یہ سچائی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اسرائیلی حملہ درحقیقت قطر پر نہیں، ایک عالمی ٹیررسٹ گروپ حماس پر امریکی تعاون و معاونت کے ساتھ ہوا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ حملہ امریکی پریذیڈنٹ کی حماس کو آخری وارننگ کے بعد ہوا۔ دوسرے لفظوں میں ٹرمپ نے خود کروایا ہے۔ قطر والوں کو کمزور عسکریت کے طعنے دینے سے پہلے سوچو کہ اسی امریکا نے جب بن لادن کو مارنے کے لیے پاکستان کے اندر گھس کر ملٹری چھاؤنی کے عین سامنے حملہ کیا تھا تو آپ کی طاقتور آرمی نے امریکا کا کیا بگاڑ لیاتھا؟ کیا جواب دیا تھا اس نے امریکا کو۔

عسکری ذہنیت کے زیادہ سیانو! ڈرو ایسے وقت سے جب کسی موڑ پراس ہمارے ملک بدنصیب پر اس نوع کا کوئی حملہ ہوگیا تب ہمیں چانن ہوجائے گا کہ اپنے عوام کو بھوکا مارنے کے باوجود ہماری عسکریت کس طرح دم دبا کر بھاگتی ہے۔ اور ملک و قوم کی کتنی بڑی تباہی لاتی ہے۔ یہ جیسا تیسا انفرسٹرکچر ہے اس کا بھی کیا بنتا ہے۔ بڑی بڑی بڑھکیں ہانکنے والے 48، 65، 71 اور کارگل کی بہادریاں یادفرمالیں۔ بالخصوص 71 میں جب ہمارے پیارے ملک کے دو ٹکڑے کردیے گئے، ہمارے 93 ہزار بہادروں نے سرنگوں ہوکر ہتھیار ڈالے اور انڈین قیدی بننا قبول کیا۔ اپنی حالیہ جس نام نہاد کامیابی پر ہم اترارہے ہو یہ سب کچھ مصنوعی سراب اور غلط فہمی کا حصہ ہے۔ کسے معلوم نہیں کہ حقیقت میں جنگ ہوئی ہی نہیں۔ صرف مودی کی غلط ایسیسمنٹ تھی کہ اتنک واد کے اڈوں تک محدود رہنا ہے، کسی ملٹری بیس کو نہیں چھیڑنا۔

اس سارے ڈرامے کو فتح قرار دیتے ہوئے بڑے بڑے اعزازات یا تمغے بانٹتے پھرنا، اس ہائبرڈ سسٹم میں ہی ممکن ہے۔ ایسی انوکھی جمہوریت میں ٹھوس سوالات اٹھانے کا یارا کس میں ہے۔