اسرائیل کا عزم صمیم اور ہنود و یہود گٹھ جوڑ

عالمی نظام کی کمزوریاں کھل کھلا کر سامنے آ رہی ہیں۔ برطانوی ماہر آدم سمتھ کی  ’دولت اقوام کی نوعیت‘  پر تحقیقاتی مقالے کے مندرجات پر قائم کیا جانے والاسرمایہ دارانہ نظام اپنی تمام تر کمزوریوں اور ناانصافیوں کے ساتھ دنیا کے سامنے آشکار ہو چکا ہے۔

 آدم سمتھ کو اس نظام کا بابا آدم اور اس کی تحقیقاتی کتاب کو بائبل آف کپیٹلزم مانا جاتا ہے۔ برطانیہ میں تخلیق کردہ اس نظام میں پیدائش اور تقسیم دولت کے ساتھ ساتھ سرمایے یعنی پیداوار کے عوامل زمین، محنت، سرمایہ اور تنظیم پر سیر حاصل گفتگو کی پیدائش دولت کے عمل میں ظاہر ہونے والی قدر زائد یعنی منافع کو محنت یعنی مزدور کی بجائے پیداواری عمل کی تنظیم کرنے والے کا حق قرار دیا گیا حالانکہ پیداواری عمل میں وہ سرمایہ دار کے طور پر پہلے ہی منافع کا حق دار قرار پا چکا تھا۔ یہیں سے اس نظام میں فکری عدم توازن کے ساتھ ساتھ عملی ناانصافی کی ابتدا ہوئی۔

200سالوں کے دوران یہ نظام عالمی سطح پر غلبہ پاچکا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی پیدائش تو برطانیہ عظمیٰ میں ہوئی لیکن اسے عالمی نظام کے طور پر بڑھانے اور غالب نظام بنانے کا سہرا  امریکہ کے سربندھا ہے۔ آج پورا عالمی نظام کینز کی اختراعات اور برٹین ووڈ میں تخلیق کردہ معاملات کے ساتھ عالمی معیشت کے انجن کے طور پر کام کررہا ہے۔ اس نظام کے تحت تخلیق کئے گئے مالی و زرعی ادارو ں سمیت اقوام متحدہ جیسے سیاسی ادارے استحصالی نظام کے گماشتے بن چکے ہیں۔ ذرا غور کریں 78سالوں سے مشرق وسطی اسرائیلی توسیع پسندانہ اور ظالمانہ پیش قدمیوں کے باعث آگ و خون میں نہایا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس مسئلے کے حل کے لئے اجلاس طلب کیا ہے۔ امریکہ نے فلسطینی وفد کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس طرح جن لوگوں کا مسئلہ زیر بحث لایا جانا ہے،  وہ یہاں موجود ہی نہیں ہوں گے اس طرح کی سوچ و بچار کا پھر نتیجہ کیا نکلے گا۔ ہم اس بارے میں چشم تصور سے حقیقت جان سکتے ہیں۔

اس ظالمانہ عالمی نظام کا ایک عظیم الشان شاہکار صہیونی ریاست اسرائیل ہے۔ پوری دنیا میں یہ واحد ریاست ہے جو نسلی بنیادوں پر قائم کی گئی ہے۔ نسلی تفاخر ایک ذہنی بیماری ہے ۔ اس پر مستزاد دوسروں کو کم تر سمجھنا اور ان سے جینے کا حق ہی چھین لینا، مجرمانہ سوچ ہے۔ اسرائیل اپنے قیام کے روزِ اول سے ہی فلسطینیوں کو اپنی اسی سوچ کا نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیل کی جغرافیائی سرحدیں ابھی تک غیر معین ہیں۔ تقسیم فلسطین کے عالمی منصوبے کے مطابق ریاست اسرائیل کو اپنے قیام کا جواز مل گیا، پھر اس نے آگے بڑھتے ہوئے اپنے ہی طے کردہ عظیم اسرائیل کے نقشے کے مطابق عرب علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔

 صہیونی حکمرانوں کی اسی سوچ کا حالیہ مظہر غزہ کی جنگ ہے۔ اسرائیل نے  2سالوں پر محیط اس جنگ کے دوران ظالمانہ بمباری کے ذریعے سارے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق غزہ کی زمین قابلِ رہائش نہیں رہی۔ وہاں ایک بھی عمارت، بشمول رہائشی عمارت میڈیکل کمپلیکس، عارضی پناہ گاہیں، قابل استعمال نہیں رہیں۔ اسرائیل نے وہاں اس قدر بارود گرایا ہے کہ اس کی مجموعی طاقت کئی ایٹم بموں کے برابر بنتی ہے۔ ہنوز یہ عمل جاری ہے اپنے طے کردہ پروگرام کے مطابق اب وہاں زمینی فوج بھی داخل کر دی گئی ہے تاکہ غزہ پر زمینی قبضہ کیا جائے اور آخری مرحلے پر اسے اسرائیل میں ضم کر کے گریٹر اسرائیل کا حصہ بنا دیا جائے۔ اسرائیل روزِ اول سے ہی گریٹر اسرائیل کے قیام کی کاوشیں کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی جغرافیائی سرحدیں ابھی تک غیر معین ہیں۔

 اسرائیل عربوں کی ہر عسکری تنظیم کا خاتمہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ عرب دنیا کا کوئی بھی ملک اسرائیل کے سامنے چوں چراں کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ مصر ہو، عراق ہو، شام ہو ان کی عسکری قوت پامال کی جا چکی ہے۔ اخوان المسلمون کو عرب حکمرانوں کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ حماس کا خاتمہ اب اسرائیل کے حتمی اہداف میں شامل ہے۔ اسرائیل حماس کا پیچھا کر رہا ہے۔لبنان ہو یا ایران، قطر ہو یا کوئی بھی ملک، اسرائیل حماس قیادت کے خاتمے کے لئے ان پر حملہ آورہو رہا ہے۔ چند مہینے قبل ایران پر حملہ کیا گیا ۔حماس قیادت کو بڑی صفائی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ایران نے بھی مرادنگی کا ثبوت دیا۔زندہ قوم ہونے کا عملی مظاہرہ کیا۔ اسرائیل کے آئزم ڈوم اور اسرائیل تک عدم رسائی کے نظریات کو پاش پاش کیا۔ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل پر قیامت برپا کی اور اسرائیل میں گھس کر اس کے میزائلوں نے تباہی مچائی۔

اب حماس قیادت کا پیچھا کرتے کرتے اسرائیل قطر پر حملہ آور ہو گیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ اسرائیل کا سردست یہ حملہ ناکام ہو گیا ہے کیونکہ حماس قیادت حملے کے وقت اس کمرے میں موجود نہیں تھی جو اسرائیلی ڈرونز کے ٹارگٹ پر تھا۔ حملہ درست ٹارگٹ پر کیا گیا تھا، حماس قیادت حملے سے چند لمحے قبل نماز کی ادائیگی کے لئے اٹھ کر مسجدگئی تھی ،اس لئے وہ محفوظ رہی۔ اسرائیل نے دوبارہ حملہ آور ہونے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور یہ اعلان عربوں و مسلمانوں کی طرح اعلان نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی تیاری اور دشمنی کو نابود کرنے کا عزم صمیم بھی پایا جاتا ہے۔

عربوں کی حالت انتہائی قابل رحم ہے انہوں نے اپنی تمام تر سفارتی، سیاسی اور اقتصادی سرمایہ کاری امریکہ اور انڈیا کے ساتھ کر رکھی ہے۔ وہ امریکہ اور انڈیا کو اپنا دوست سمجھتے رہے ہیں۔ عربوں کی دولت و محبت انہی پر نچھاور  ہوتی رہی ہے لیکن 7دہائیوں کے بعد جو چیز نکھر کر روزِ روشن کی طرح کھل کر سامنے آئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کا یار ہی نہیں بلکہ فکری اور عملی طور پر اس کا حامی و محافظ ہے۔ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر ہو یا مسیح کی آمد ثانی، بنی اسرائیل کی عظمت رفتہ کا احیا، امریکی قیادت ان حوالوں سے اسرائیل کے ساتھ فکری ہم آہنگی رکھتی ہے۔ بائبل ان دونوں کے درمیان اتحاد کی اہم کڑی ہے۔ دوسری طرف ہنود۔ یہود عرب و مسلم دشمنی میں ساتھی ہیں۔ فکری و عملی طور پر ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت تکون ہیں، اتحاد ثلاثہ میں مسلمان یا عرب کہیں فٹ نہیں ہوتے ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی ہنود و یہود دشمنی کے حوالے سے درست لیکن امریکی دوستی کے حوالے سے غلط ثابت ہو رہی ہے۔ اسرائیل پاکستان پر حملہ آور ہوگا،  اس بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ خواب ہے۔ اس خواب میں مذہبی عنصر غالب ہے ۔وہ پاکستان کو ایک مسلمان ملک ہی نہیں بلکہ ایک نظریاتی ملک کے طور پر ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنے کا عزم صمیم رکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں آنے والوں دنوں میں کیا ہوتا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)