ججوں کی بسیار گوئی اور نظام انصاف
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 13 / ستمبر / 2025
ملک کی تین ہائی کورٹس بار ایسوسی ایشنز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کے ایمان مزاری کے بارے میں ریمارکس کی مذمت کی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان بار کونسل نے تو سپریم جوڈیشل کونسل سے چیف جسٹس کے ’صنفی تعصب ‘ پر مشتمل ریمارکس کی بنیاد پر انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہ صورت حال جمعرات کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی عدالت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لیڈر ماہرنگ بلوچ کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران دیکھنے میں آئی جب چیف جسٹس نے انسانی حقوق کی علمبردار اور وکیل ایمان زینب مزاری کو متنبہ کیا کہ وہ انہیں جج کی بجائے ڈکٹیٹر کہتی ہیں جس پر ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ اسی حوالے سے مکالمہ کرتے ہوئے انہوں نے مبینہ طور پر ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہادی صاحب اسے سمجھائیں۔ اگر کسی دن میں پکڑ لیانا۔۔۔‘۔
چیف جسٹس کے ان ریمارکس پر ایمان مزاری کے علاوہ ملک کی تین ہائی کورٹس کی بار ایسوسی ایشنز اور خواتین کی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا ہے اور ان الفاظ کو پدرسری معاشرے کا نمائیندہ اور صنفی تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔ ایمان زینب مزاری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں ان کے کام کی جگہ پر ہراساں کیا ہے۔ چیف جسٹس ڈوگر کی عدالت میں ہونے والے مکالمے پر تنازعہ سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کی باتوں کو غلط رپورٹ کیا گیاہے ۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں نے پکڑ لیا بلکہ ان کے شوہر ہادی چٹھہ سے کہا تھا کہ وہ انہیں پکڑ کر سمجھائیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایمان مزاری ان کی بیٹیوں کی طرح ہے اور وہ ایک بزرگ کی طرح انہیں سمجھانے کی کوشش کررہے تھے تاکہ اس کا کیرئیر خراب نہ ہو۔ وہ مسلسل بنیادی حقوق کی بات کرتی ہیں۔ کیا ججوں کے بنیادی حقوق نہیں ہوتے۔
تاہم ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ نے چیف جسٹس ڈوگر کی وضاحت کو مسترد کیا ہے اور کہاکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جھوٹ بول رہے ہیں۔ انہوں نے واضح طور سے کہاتھا کہ’ اگر میں نے کسی دن پکڑا لیا نا‘۔ ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی نہ تو بیٹی ہیں اور نہ ہی بچی ہیں۔ وہ ایک ہروفیشنل وکیل ہیں جو اپنے کلائنٹ کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئی تھیں لیکن چیف جسٹس نے انہیں ہراساں کیا اور نامناسب الفاظ استعمال کیے۔ اب ایمان مزاری نے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے پاس ایک درخواست دائر کی ہے اور مطالبہ کیاہے کہ 11 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے کورٹ نمبر ایک میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ اس لیے اس دن صبح 9 بجے سے 11 بجے کے درمیان ہونے والی کارروائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے اور اس کی ریکارڈنگ درخواست دہندہ کو بھی فراہم کی جائے۔
دارالحکومت کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ایمان زینب مزاری کے درمیان ہونے والے مکالمے کا تعلق زیر سماعت مقدمہ کی کارروائی سے نہیں تھا بلکہ چیف جسٹس ڈوگر ، ایمان مزاری کے کسی پرانے بیان کا حوالہ دے کر ان پر ناراضی کا اظہار کررہے تھے جس کے دوران انہوں نے دو تین بار توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی دھمکی بھی دی۔ جس پر ایمان مزاری نے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں تو ضرور یہ کارروائی کرلیں لیکن انہوں نے جو بات بھی کی وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آزادی رائے کا حق بھی حاصل ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ایمان مزاری نے واضح کیا کہ اگر وہ انسانی حقوق کی بات کرتی ہیں تو یہ ان کا ذاتی فعل ہے تاہم وہ عدالت میں ایک کلائنٹ کے وکیل کے طور پر اس کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے آتی ہیں۔ اس لیے کسی جج کو مجھ سے اگر کوئی شکایت ہے تو اس کا اثر درخواست دہندہ کے کیس پر نہیں پڑنا چاہئے۔
یہ واضح نہیں ہوسکا کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ، ایمان مزاری کے کس بیان کا حوالہ دے کر انہیں ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ اور توہین عدالت کی کارروائی کی دھمکی دے رہے تھے۔ تاہم جمعرات کی عدالتی کارروائی کے دوران ایک موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ اگر میں ابھی کوئی حکم جاری کردوں تو ایمان مزاری نیچے جاکر پروگرام کریں گی اور کہیں گی کہ اندر ایک آمر بیٹھا ہے‘۔ کسی وکیل کی نیت کے بارے میں ایسی بدگمانی اور کھلی عدالت میں اس کا یوں اظہار بجائے خود ایک افسوسناک سانحہ ہے جس کے ملکی نظام عدل پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ کسی مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے ججوں کو غیر ضروری سوال کرنے اور وکلا سے الجھنے کی بجائے مقدمہ کےمیرٹ اور وکیل کے دلائل پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے تاکہ قانون کی روشنی میں کسی درست نتیجہ تک پہنچا جاسکے۔ جج بھی انسان ہوتے ہیں۔ اسی لیے انہیں کسی مقدمہ یا اس میں پیش ہونے والے وکلا کے ساتھ کوئی جذباتی تعلق استوار کرنے سے گریز کرنا چاہئے تاکہ وہ صرف قانونی میرٹ پر کوئی حکم جاری کرسکیں۔ تاہم جب مقدمہ کی کارروائی سے ہٹ کر کسی وکیل کے ساتھ کوئی حساب برابر کرنے کے لیے مکالمہ کیاجائے گا اور دھمکیاں دی جائیں گی تو اس سے ایک ایسے فریق کا مقدمہ متاثر ہوگا جو انصاف کی امید لے کر عدالت تک آتا ہے۔
ایمان مزاری کا یہ نکتہ حق بجانب ہے کہ کسی جج کو وکیلوں کے ساتھ بیٹی، بہن یا بھائی کا رشتہ استوار کرنے کی بجائے ، اسے عدالت کا پروفیشنل کارکن سمجھنا چاہئے۔ جب جج خالصتاً پروفیشنل انداز میں بات کریں گے اور صرف کسی معاملہ کے حقائق تک محدود رہیں گے تو غیر ضروری مباحث کی گنجائش پیدا نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی ایسی تلخی پیدا ہوگی جس کے نتیجے میں وکیل جج کو اور جج وکیلوں کو غلط بیانی کا مرتکب قرار دیں اور نتائج کی دھمکیاں دیں۔ ججوں کو دھمکانا ناجائز اور غلط ہے لیکن عدالتوں کو بھی وکیلوں کے ساتھ مہذب اور قانونی حدود کے مطابق مکالمہ کرنا چاہئے تاکہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور جھوٹ بولنے کے الزامات بھی عائد نہ ہوں۔
ایمان زینب مزاری ایک متحرک وکیل ہیں جو بنیادی حقوق کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اس حوالے سے عام طور پر حکومتی اقدامات یا عدالتی فیصلوں کو للکارتی رہتی ہیں۔ بعض ججوں کو ان کے بعض تبصروں سے رنج پہنچتا ہوگا لیکن اگر کوئی وکیل کسی مقدمہ میں قانونی دائرہ کے اندر رہ کر بات کررہا ہے تو ا س کی گرفت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ چیف جسٹس ڈوگر کا یہ مؤقف ملکی قانون کے تناظر میں سمجھنا مشکل ہے کہ ایمان مزری کو قانون ہی کا نہیں بلکہ اخلاقی حدود کا بھی احترام کرنا چاہئے۔ ’اخلاقی حدود‘ ایک غیر واضح اور مبہم اصطلاح ہے جس کی تفہیم ہرشخص اپنے طور پر کرنے کا مجاز ہے۔ عین ممکن ہے کہ چیف جسٹس جس اخلاقیات کی بات کررہے ہوں، ایمان مزاری انہیں اخلاقی حدود نہ مانتی ہوں۔ ملک میں اسی لیے قانون سازی ہوتی ہے تاکہ عدالتوں میں فیصلے کرتے وقت ان حدود کے اندر رہ کر معاملات طے ہوسکیں جو قانون کی عبارت میں واضح کیے گئے ہوں۔ اس حوالے سے مزید برآں کہہ کر اخلاقی حدود کا حوالہ محض حجت بازی ہے۔
ایمان مزاری موجودہ عدالتی نظام میں ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی شہرت رکھتی ہیں جبکہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی تقرری کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعض ججوں کو شدید تحفظات ہیں۔ جسٹس ڈوگر کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ سے کیا گیا تھا اور پھر جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ کا جج بن جانے کے بعد انہیں سنارٹی کی بنیاد پر چیف جسٹس بنا دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چند دیگر جج دوسری عدالتوں سے تبادلوں کو غلط سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ان کا خیال ہے کہ تبادلے کے بعد کسی جج کو نئے سرے سے حلف لینا چاہئے۔ اس طرح اس جج کی پرانی ہائی کورٹ کی سنارٹی ختم ہوجائے گی۔ البتہ اس اصول کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ تاہم جسٹس ڈوگر کی تقرری کے حوالے سے شروع ہونے والا تنازعہ اور بعض ججوں کے ان کے خلاف تحفظات نے ان کی پوزیشن نازک بنا دی ہے۔
اس پس منظر میں جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور ججوں کے علاوہ وکلا کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے کے لیے احتیاط سے کام لینے اور سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ جمعرات کی کارروائی کے دوران ہونے والے مکالمے سے دیکھا جاسکتا اس موقع پر احتیاط کا دامن چیف جسٹس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور ان کی زبان سے ایک ایسا جملہ سرزد ہوگیا جس کو کئی معانی دیے جاسکتے ہیں۔ ایسا افسوسناک وقوعہ صرف مقدمہ کے متن سے ہٹ کر ذاتی معاملات کو زیر بحث لانے کی وجہ سے ہؤا۔ گزشتہ کچھ مدت سے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں ریمارکس دینے کا سلسلہ دراز ہؤا ہے۔اصولی طور سے عدالتی ریمارکس کو قانونی نکات کی وضاحت و تفہیم تک محدود ہونا چاہئے لیکن ججوں نے اس امکان کو افسروں کو ڈانٹنے، صحافیوں کو دھمکانے اور وکیلوں کو دبانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔
یہ کوٹیشن اکثر دہرائی جاتی ہے کہ ‘جج نہیں بلکہ ججوں کے فیصلے بولتے ہیں‘ ۔ بدقسمتی سے اب پاکستان میں جج بولنے لگے ہیں اور ان کی گونج ہر طرف سنائی دیتی ہے۔ ایمان مزاری کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انہیں میں سے ایک ہے۔