لندن میں امیگریشن کے خلاف ریلی میں ڈیڑھ لاگ لوگوں کی شرکت

  • اتوار 14 / ستمبر / 2025

لندن میں امیگریشن مخالف ریلی کے شرکا اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں زخمی پولیس اہلکاروں کی تعداد 26 ہو گئی ہے جبکہ پولیس نے 25 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ہفتے کو وسطی لندن میں انتہائی دائیں بازو کے ایکٹوسٹ ٹومی رابنسن کی جانب سے منعقد کی جانے والی ریلی میں شریک افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک جا پہنچی تھی۔ اس ریلی کو ’یونائیٹ دی کنگڈم‘ (بادشاہت کو متحد کریں) کا نام دیا گیا تھا۔

ریلی کے دوران اُس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی جب کچھ مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں اور دیگر اشیا پھینکیں جس سے چار پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ اس دوران دوسری جانب اس ریلی کے خلاف سٹینڈ اپ ٹو ریسزم‘ نامی تنظیم نے بھی احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا تھا جس کے باعث کسی بھی تصادم سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

دوپہر کو دونوں ریلیاں ایک مقام پر قریب آنے لگیں تو پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نے درمیان میں حصار بنا لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس دوران مظاہرین نے پولیس کی جانب سے قائم کیے گئے حصار کو نظر انداز کیا جس پر پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ’یونائیٹ دی کنگڈم‘ ریلی میں شریک افراد کی تعداد پولیس کی توقع سے زیادہ تھی۔ میٹرو پولیٹین پولیس کے مطابق جب افسران نے ان کا راستہ روکنے کے لیے مداخلت کی تو ان پر لاتوں اور گھونسوں سے حملہ کیا گیا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

امیگریشن مخالف ریلی سے ایک مقام پر ایلون مسک نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور کہا کہ بڑے پیمانے پر بے قابو ہجرت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اُنہوں نے برطانیہ میں حکومت کی تبدیلی کا بھی مطالبہ کر دیا۔