مسلم امہ کا اتحاد اور پاکستانی خواہشات کی فہرست
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 16 / ستمبر / 2025
اسلامی تعاون تنظیم کے تحت گزشتہ روز دوحہ میں قطر سے یک جہتی کے لیےپچاس مسلمان ممالک کا سربراہی اجلاس منعقد ہؤا۔ اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم سمیت متعدد اہم ممالک کے سربراہان حکومت شریک ہوئے لیکن یہ اجلاس کوئی واضح لائحہ عمل اختیار کرنے میں ناکام رہا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے سابقہ دور میں ابراہم اکارڈ کے تحت اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرنے والے تین ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے سربراہان اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔ ان ملکوں کی نمائیندگی کم تر سطح کے عہدیداروں نے کی۔ درجنوں مسلمان ممالک کے اس اجلاس کے بعد 25 نکاتی مشترکہ اعلامیہ ضرور جاری ہؤا ۔ اس میں اسرائیل کی مذمت ، قطر کی خود مختاری کے احترام کی تاکید اور ذمہ دار ریاستوں کی طرح معاملات طے کرنے کی خواہش کے سوا کوئی خاص لائحہ عمل سامنے نہیں آسکا۔
مسلمان ممالک کے سربراہان 9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملہ کے خلاف جمع ہوئے تھے۔ اسرائیل نے یہ حملہ امن مذاکرات میں شریک حماس کے وفد کو نشانہ بنانے کے لیے کیا تھا تاہم وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہؤا۔ حماس کی اطلاع کے مطابق اس کے لیڈر حملہ میں محفوظ رہے۔ ایک طرف عرب اور مسلمان لیڈر دوحہ میں جمع ہوکر اسرائیلی حملہ کی مذمت کررہے تھے تو دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیت المقدس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کررہے تھے۔ مارکو روبیو نے قطر پر حملہ کا ذکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ اسرائیل کے لیے ہمہ قسم امریکی امداد کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔ اسی موقع پر اسرائیل کے وزیر اعظم نے واضح کیا کہ تمام تر احتجاج اور ہنگامے کے باوجود اسرائیل کہیں بھی حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کا مکمل ارادہ رکھتا ہے۔
گویا جس اقدام کی مذمت کے لیے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مشترکہ قرارداد منظور کی اور اب پچاس مسلمان ممالک نے قطر کے خلاف اسرائیلی کارروائی کو ریاستی دہشت گردی سے تعبیرکرتے ہوئے مسترد کیا، اسرائیل اس سے تائب ہونے، کسی شرمندگی کا اظہار کرنے یا مستقبل میں اس طرز عمل کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ رویہ ایک طرف اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور امریکہ کی بے حسی ووعدہ خلافی ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف دوحہ میں شان و شوکت سے منعقد کیے گئے اجلاس میں کمزور اور بودے اعلامیہ کے بعد واضح ہوگیاہے کہ اسرائیلی استحصال و سینہ زوری کا اعتراف کرنے کے باوجود عرب یا ان کی حمایت کرنے والے دیگر مسلمان ممالک اسرائیلی جارحیت کےخلاف عسکری تو کجا مضبوط سفارتی مزاحمت کا اہتمام کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ اس تنازعہ میں امریکہ کی یک طرفہ اور شرمناک پالیسی ہے لیکن کوئی مسلمان ملک امریکہ کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دو ٹوک بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اور نہ ہی پچاس ممالک کے لیڈر مل کر یہ طے کرسکے کہ ان کا ایک وفد امریکی صدر سے ملے اور اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرے۔ امریکہ کو باور کرایا جائے کہ اس نے قطر سمیت متعدد عرب ممالک کو کسی بیرونی حملہ کی صورت میں دفاع کی ضمانت فراہم کی ہوئی ہے لیکن دوحہ پر اسرائیلی حملہ میں وہ اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔
اس افسوسناک طرز عمل کی متعدد وجوہات گنوائی جاسکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ عرب ملکوں کے باہمی اختلافات، اتحاد کے درپردہ ریشہ دوانیاں اور امریکہ کا شدید خوف ہے۔ براہ راست اسرائیلی حملے کا سامنا کرنے والے قطر کے لیڈر بھی اس سانحہ کے بعد امریکہ کو اس کے وعدے یاددلانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی یہ سوال اٹھایا جاسکا کہ قطر میں امریکی فوجی اڈے کی موجودگی اور بیش قیمت امریکی اسلحہ کے باوجود اسرائیلی حملہ کیوں نہیں روکا جاسکا؟ اور اس کے بعد امریکہ کیوں کر صرف افسوس کا اظہار کرکے صورت حال کو جوں کا توں جاری رکھنا چاہتاہے؟ بظاہر قطر کے حکمران اسی پر مطمئن ہیں کہ صدر ٹرمپ نے خود امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کو فون کرکے اظہار ہمدردی کیا اور دو دن پہلے نیویارک میں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔
سربراہی اجلاس میں شریک ہونے والے لیڈروں کی بات چیت میں بھی ہم آہنگی تلاش کرنا مشکل ہے۔ قطر کے امیر نے اس موقع پر اسرائیلی حملہ کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل درحقیقت غزہ میں جنگ بندی کے امکانات ختم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ اس کے بعد قطر اور دیگر ممالک کا لائحہ عمل کیاہونا چاہئے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ اسرائیل کا بائیکاٹ کیا جائے، اس سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جائیں اور اقوام متحدہ سے اس کی رکنیت ختم کرائی جائے۔ تاہم وہ بھی یہ واضح نہیں کرسکے کہ اگر ان سب باتوں پر عمل ہوجائے تو اس سے کیسے اسرائیلی جارحیت اور پورے مشرق وسطیٰ میں اس کے جارحانہ رویہ کو تبدیل کیا جاسکے گا۔
ان سب لیڈروں کے مقابلے میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل کی مزاحمت کرنے کے لیے ٹاسک فورس بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اسرائیلی جارحیت کا سامنا کیا جاسکے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسی خواہش کی وضاحت الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اسرائیل کی مذمت کافی نہیں۔ دنیا کو اب اسرائیل کا راستہ روکنا ہوگا۔ اب ہمیں واضح لائحہ عمل اختیارکرنا ہوگا۔ پاکستان ہمیشہ امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کا داعی رہا ہے۔ بطور ایٹمی طاقت پاکستان مسلم امہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کے پاس مضبوط افواج اور جدید ہتھیار ہیں، پاکستانی افواج مضبوط ہیں ۔ ہم دفاعی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ ہم کسی کو اپنی خودمختاری اورسالمیت کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس سوال پر کہ کیااقوامِ متحدہ کے دائرہ کار سے ہٹ کر مشرقِ وسطیٰ میں کوئی متحدہ ادارہ تشکیل دینے کا آپشن زیرغور ہے؟ اسحاق ڈار کا جواب تھا کہ ’سلامتی کونسل کے طرز پر ایک طریقہ کار وضع کیا جاسکتا ہے۔ ان کی (مسلمان ممالک) ایک مشترکہ فوج ہونی چاہیے اور اپنی صلاحیت اور قوت کے مطابق انہیں کوئی طریقہ کار بنانا چاہئے۔اس کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ امن قائم کرنا ہو۔ جارح اور قابض کو روکنا ہو، اس شخص کو روکنا ہو جو کسی کی نہیں سنتا‘۔
وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی باتوں سے واضح ہے کہ پاکستانی قیادت قطر پر حملہ کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا ارادے رکھتی ہے۔ اور ان کی طرف سے امیر عرب ممالک کو عسکری خدمات فراہم کرنے کی بالواسطہ پیش کش کی جارہی ہے۔ اس تجاویز کے درپردہ پاکستان کی یہ خواہش دکھائی دیتی ہے کہ کوئی ایسی فوج تشکیل دی جائے جسے عرب ممالک وسائل فراہم کریں لیکن پاکستان اس کی قیادت کرے۔ یہ خواہش کسی خواب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ عرب لیڈروں کی سوچ اور طرز عمل کی روشنی میں کسی مشترکہ ٹاسک فورس کا قیام ان کے آپشنز میں دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن پاکستان کی طرف سے ایسی تجاویز مخلصانہ ہونے کے باوجود پاکستان کے قومی مفادات سے تال میل نہیں رکھتیں۔
پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کا سامنا کررہا ہے۔ رہی سہی کسر سال رواں میں بارشوں اور شدید طغیانی نے پوری کردی ہے۔ قدرتی آفت کا یہ سلسلہ ختم ہونے کے بعد پاکستان کو بحالی و آباد کاری اور لٹے پٹے کسانوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کثیر وسائل کی ضرورت ہوگی۔ یہ ضرورتیں جنگ کے ارادوں سے نہیں بلکہ امن یقینی بنانے سے ہی پوری ہوسکتی ہیں۔ پاکستان کو مئی میں بھارت کے ساتھ عسکری جھڑپوں کے بعد یقیناً عالمی سطح پر سفارتی اہمیت حاصل ہوئی ہے لیکن اس نئی صورت حال کو مشرق وسطیٰ میں جاکر ’مسیحا‘ بننے کی بجائے اسے داخلی مسائل حل کرنے اور عوام کی مالی مشکلات پر قابو پانے کے لیے استعمال کرنا مفید ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی بھارت جیسے بڑے ملک کے ساتھ سنگین تنازعات کا شکار ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو ماننے سے انکار کرکے پاکستان کے لیے ایک خطرناک صورت پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر اور دہشت گردی کے سوال پر بھارت کے ساتھ بات چیت کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ یہ مسائل بجائے خود پاکستان کے وسائل اور صلاحیتوں سے زیادہ بڑے ہیں۔ اب مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں شریک ہوکر ملک کے مسائل اور بوجھ میں اضافہ نہ کیا جائے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے الجزیرہ کے انٹرویو میں مسلم امہ کے تناظر میں پاکستان کی جوہری صلاحیت کا حوالہ دے کر فاش غلطی کی ہے۔ یہ صلاحیت بھارت کے خلاف ڈیٹرنٹ کے طور پر حاصل کی گئی تھی۔ ملک کی جوہری ڈاکٹرائن کو توسیع دینے کی کوئی بھی خواہش یا کوشش ا نتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔ پاکستان کو ہر صورت اپنے دشمنوں میں اضافہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔