عدلیہ میں ججز ذاتی اختلافات رکھتے ہیں اور کھل کر سامنے آگئے ہیں: بیرسٹر گوہر
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عدلیہ میں ججز ذاتی اختلافات رکھتے ہیں، جو اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مانا جاتا ہے، کسی بھی جج کو جوڈیشل کام سے نہیں روکا جاسکتا۔ سپریم کورٹ اس پر ایکشن لے، ججز کے آپس میں اتنے جھگڑے ہیں تو عوام کہاں جائیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ چیف جسٹس ہمارے زیر التواءکیسز میں قانون کے مطابق فیصلے دیں۔ قانون کے مطابق کارروائی بھی کی جائے۔ سزاؤں اور ڈس کوالیفکیشن کے معاملے کو ختم کیا جائے، اس کو ختم کرنے کے لیے بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ 27 ستمبرکو پشاور میں بہت بڑا جلسہ ہوگا جس میں پورے پاکستان سے لوگ آئیں گے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کا پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوگا جس کی صدارت علی امین گنڈاپور کریں گے جن کو بانی پی ٹی آئی نے ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں امن و امان کی صورتحال اور فنڈز سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔
دریں اثنا عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں ہوئی۔ اس مقدمے کی سماعت کے بعد عمران خان کی بہن علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے آرمی چیف کو پیغام دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے اگر آپ سمجھتے ہیں ہم ٹوٹ جائیں گے یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔‘
آج علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں اور ان کی وہاں عمران خان سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان کے مطابق ملاقات میں ’عمران خان نے کہا کہ جو مرضی کرلیں میں غلامی قبول نہیں کروں گا۔‘
علمیہ خان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے آپ نے اپنے اقتدار کے لیے پی ٹی آئی کو کچلا۔ ان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے 26ویں ترمیم متعارف کرائی گئی۔ میڈیا کو مکمل طور پر کنٹرول میں لیا گیا ہے جبکہ رول آف لا اور جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا ہے۔