غزہ میں 33 فلسطینی شہید، انخلا کیلئے عارضی روٹ کھول دیا
آج صبح سے غزہ بھر میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 33 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ جب کہ اسرائیل نے غزہ سے انخلا کے لیے عارضی روٹ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسرائیل بین الاقوامی مذمت میں اضافے کے باوجود سب سے بڑے شہر پر مکمل زمینی حملہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ درجنوں فلسطینی آج صبح سے اب تک غزہ کی پٹی میں شہید ہو چکے ہیں، جن میں ایک بچہ اور اس کی ماں بھی شامل ہیں۔ وہ غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطی پناہ گزین کیمپ میں ایک رہائشی عمارت پر فضائی حملے میں مارے گئے۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ غزہ شہر پر بمباری میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ مسلسل دھماکوں نے درجنوں گھروں کو تباہ کر دیا ہے اور بحری جہاز بھی ٹینکوں اور جیٹ طیاروں کے ساتھ اس بڑے حملے میں شامل ہو گئے ہیں۔ آج صبح سے شہید ہونے والے 33 میں سے 21 افراد غزہ سٹی میں مارے گئے، جہاں اسرائیلی فوج نے مرکزی شہری علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے بڑا زمینی حملہ شروع کیا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے اسرائیل کو فلسطینی علاقے میں ’نسل کشی‘ کا مرتکب قرار دیا ہے اور اس کا الزام نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام پر عائد کیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل کی غزہ پر جنگ میں کم از کم 64 ہزار 964 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 65 ہزار 312 زخمی ہو چکے ہیں، ہزاروں مزید ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً 200 کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک غزہ شہر پر اسرائیل کے حملے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ چین دنیا بھر کی ان درجنوں حکومتوں کے ساتھ شامل ہو گیا ہے جنہوں نے اس پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ترجمان لن جیان نے کہا کہ چین غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں اضافے کی سخت مخالفت کرتا ہے اور تمام ایسے اقدامات کی مذمت کرتا ہے جو شہریوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے ’ایکس‘ پر ایک مذمتی بیان جاری کیا، جس میں غزہ شہر پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قطر اسے برادر فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی جنگ کا تسلسل سمجھتا ہے۔ وزارت نے کہا کہ یہ بڑا حملہ امن کے امکانات کو کمزور کرنے اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
اسرائیل نے غزہ سٹی کے رہائشیوں کے انخلا کے لیے عارضی بنیاد پر نیا روٹ کھولنے کا اعلان کیا ہے، صہیونی ریاست نے شدید بمباری کے بعد فلسطینی علاقے کے مرکزی شہر میں زمینی حملے تیز کر دیے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج صلاح الدین اسٹریٹ کے راستے ایک عارضی نقل و حمل کا روٹ کھولنے کا اعلان کرتی ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ادرعی نے کہا کہ ’یہ راستہ صرف 48 گھنٹے کے لیے کھلا رہے گا‘۔
منگل کے روز اسرائیل نے غزہ سٹی پر اپنا طویل عرصے سے متوقع زمینی حملہ شروع کیا تھا، جس میں ٹینک اور دھماکا خیز مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول بکتر بند گاڑیاں اس کی گلیوں میں بھیجی گئیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ غزہ سٹی میں اس کا فوجی آپریشن مکمل ہونے میں ’کئی ماہ‘ لگیں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے علاقے کے سب سے بڑے آبادی والے مرکز پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے کے لیے کوئی مدت بتائی ہے۔
اہم امدادی تنظیموں کے اتحاد نے یو این کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں اسرائیل کو نسل کشی کا ذمہ دار قرار دینے کے بعد عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ سٹی پر اسرائیل کے حملے کو روکنے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کرے۔ امدادی تنظیموں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جو کچھ ہم غزہ میں دیکھ رہے ہیں، وہ نہ صرف ایک بے مثال انسانی المیہ ہے بلکہ اسے اب اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اب نسل کشی قرار دیا ہے۔