انی پی ٹی آئی کی ریاست دشمن اپروچ

پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ  جاری  رکھے ہوئے ہے۔ 2001میں جب نائن الیون  کے واقع کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا تو اس میں کسی بھی ملک کے لئے آپشن نہیں تھا۔ امریکی قیادت نے کھل کھلا کر کہا کہ اس جنگ میں یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا پھر ہمارے دشمن۔

پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن کے باعث اس جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ قرار پایا۔پاکستان نے اس عالمی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،ہماری زمین،فضا  اور سمندر اس جنگ میں استعمال ہوئے۔ نیٹو اور ایساف فورسز کے لئے سپلائی لائن کراچی تا طور خم قائم ہوئی۔بہرحال اس جنگ کے دوران ہمارے ازلی دشمن نے افغانستان میں امریکی افواج کے زیر سایہ پاکستان کے خلاف مورچہ لگایا۔2003 میں یہاں خود کش حملے شروع ہوئے، ڈرون حملے سامنے آئے یہ جنگ بظاہر تو القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑی جا رہی تھی لیکن بھارت نے پاکستان کے خلاف بھی مورچہ بندی کی۔اسی دور میں پاک افغان بارڈر پر گیارہ کے قریب قونصل خانے قائم کیے گئے، جس کا مقصد پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو منظم کرنا تھا ۔پھر ہم نے دیکھا کہ افغانستان میں جاری  جنگ پاکستان کے سرحدی علاقوں سے ہوتی ہوئی بندوبستی علاقوں تک آن پہنچی۔

بات یہاں تک ہی رہتی تو شاید نتیجہ اور نکلتا ۔یہ جنگ سلپ  ہوتے ہوئے کراچی کے ساحلوں تک آن پہنچی۔ 2021 میں امریکی افغانستان سے دم دبا کر بھاگ نکلے۔ہم نے کابل میں طالبان کے قبضے کا جشن ِ فتح منایا۔ ہم نے اسے اپنی فتح جانا اور ہمیں یقین ہونے لگا کہ اب ہمارے بھی اچھے دن آئیں گے۔دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا اور ہم بھی پُرسکون زندگیاں گزار سکیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ طالبان نے بغیر سوچے سمجھے،بغیر کسی حکمت عملی کے کابل میں جیلوں کے دروازے کھول کر ملزمان و مجرمان کو آزاد کر دیا۔ان آزاد کردہ لوگوں میں ٹی ٹی پی کے بہت سے سزا یافتہ دہشت گرد بھی شامل تھے ۔انہوں نے امریکیوں، ناٹو فورسز اور ایساف فورسز کے چھوڑے ہوئے جدید طرز کے ہتھیار اور دیگر آلات پر قبضہ کیا ۔اس طرح ان کی حملہ آور ہونے کی صلاحیت دوچند نہیں کئی چند ہو گئی۔اس پر مستزاد انڈین سپورٹ نے انہیں اور بھی زیادہ خطرناک بنا دیا ہے پاکستان کی مسلح افواج اور ریاستی ادارے ان کے نشانے پر ہیں پاکستان تھوڑے ہی عرصے میں دو مرتبہ براہ راست بھارتی یلغار کا سامنا کر چکا ہے۔ دونوں مرتبہ ہی اسے منہ کی کھانا پڑی ہے۔ مئی میں تو پاکستان نے بھارت کے چھ رافیل گرا کر اسے شکست ِ فاش سے ہمکنار کیا اس کی عالمی سطح پر سبکی ہوئی۔امریکہ جو ہندوستان کو چین کے مقابلہ بڑھاوا دینے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا ۔اسے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔خفت اٹھانا پڑی۔ بھارت کو اپنی یہ شکست ہضم نہیں ہو رہی اس نے دہشت گردی کی جنگ میں تیزی پیدا کر دی ہے۔

 13اور14ستمبر کو کے پی میں ہماری سکیورٹی فورسز نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 30 خوارج کو جہنم رسید کیا ہے۔ دہشت گردوں کی یہاں موجودگی اور دہشت گرد کارروائیوں سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ نہ صرف بھارت ایسی کارروائیوں کا سپانسرہے بلکہ افغانستان کی زمین دہشت گردوں اور ان کی کارروائیوں کے لئے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اسی طرح لکی مروت اور بنوں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے دوران دشمن کے کئی ایجنٹوں کو جہنم واصل کیا گیا بلکہ ان کی لاشوں سے برآمد ہونے والے تھیلوں پر بھارتی این ڈی آر ایف کے نشانات نے بھارت کے مکروہ چہرے کو مزید واضع کر دیا ہے یہ اور ایسے واقعات اس بات کے ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ بھارت ہی اس دہشت گردی کے آگے اور پیچھے ہے۔ یہ حملے اس وقت ہو رہے ہیں جب پاکستان کی مسلح افواج اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں لگی ہوئی ہیں۔

 دوسری طرف کے پی میں 12سال سے زائد عرصے سے اقتدار کے مزے لوٹنے والی پی ٹی آئی اور اس کے بانی صوبے کے انتظامی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں ۔بات یہاں تک ہوتی تو چل جاتی۔ پی ٹی آئی کی قیادت سیاسی انتشار اور تقسیم کی سیاست کے فروغ کے ذریعے دشمن کے مذموم ایجنڈے کو تقویت دے رہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے سخت خلاف ہیں۔ اسے روکنے کی بات ہی نہیں کرتے، بلکہ اسے ایک ایجنڈے کے طور پر بڑھاوا دیتے میں مصروف ہیں۔کبھی افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا مشورہ دیتے ہیں۔دہشت گردی کے بارے میں پی ٹی آئی کا ملک دشمن ایجنڈا بہت پرانا ہے۔2022 میں دہشت گردوں کی صوبے میں آباد کاری اور ان کے لئے معافی کا اعلان بانی کے ایسے غلط فیصلے ہیں جن کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔

بانی پی ٹی آئی نے آج تک دہشت گردوں کے خلاف بات نہیں کی ہے۔ ان کے ایکس اکاؤنٹ پر کبھی بھی دہشت گردی کے کسی واقع کی مذمت نہیں آئی ہے ۔اور نہ ہی ان کے کسی صوبائی وزیر یا اہلکار نے شہداکے جنازے میں شرکت کی اور نہ  ہی کبھی تعزیت کے لئے ان کے گھر گئے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ کے پی میں گورننس کے خلا کو چھپانے کے لئے پس پردہ ایک ہی محرک ہے کہ کسی طرح پاکستان کو دہشت گردی کے ذریعے عدم استحکام سے دوچار کر دیا جائے اور اس طرح بانی کے مذموم مقاصد کی آبیاری ہو سکے۔ ثابت ہو گیا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی ایک انتشاری ٹولہ ہے جو صرف اور صرف پاکستان اور ریاست پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں ۔ان کے بیرون ممالک موثر روابط ہیں ۔یہ روابط انہیں ملک دشمن سرگرمیوں کے لئے رہنمائی، ہدایات ہی نہیں، بلکہ سرمایہ اور وسائل بھی مہیا کرتے ہیں۔

عمران خان خود جیل میں ہے لیکن ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ کون چلا رہا ہے،ان کے بیانات، پالیسی بیانات کون جاری کرتا  ہے۔ظاہر ہے  یہ جنات تو نہیں کرتے ہوں گے یہ انسان ہی ہوں گے۔ عمران خان کی ریاست دشمنی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہماری مسلح افواج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں۔عمران خان نہ صرف اس آپریشن کے خلاف ہے بلکہ اسے رکوانے کے لئے اپنے گنڈا پور کو حکم بھی دے  رہے ہیں۔ حالت یہ  ہے کہ گنڈا پور صاحب اپنے آبائی گھر میں فوج کے اہلکار اور حفاظت کے بغیر جانے سے گھبراتے ہیں۔ ان پر بھی دہشت گردوں کا خوف طاری ہے لیکن اس کے باوجود وہ بانی کی ہدایات پر عمل پیرا ہونے میں لگے ہوئے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)